بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتتوانائی کا توازن اور صحت

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
توانائی کا توازن اور صحت
وہ توانائی جو ہم دن بھر کام کاج کرنے میں خرچ بھی کرتے ہی۔ یہ تووانائی برابر ہونی چاہئے اس توانائی کے جو ہم کھانے کے ذریعے سے حاصل کرتے ہیں۔ یہ توانائی صحت کیلئے ضروری ہوتی ہے، کیونکہ اگر حاصل شدہ توانائی زیادہ ہوتی ہے اور ہم کم خرچ کرتے ہیں
پروفیسر ڈاکٹر راشدہ علی:
ایک مشہور کہاوت ہے: ”جتنی چادر ہو، اتنے ہی پیر پھیلاؤ۔ یعنی جتنا کماؤ، اتنا ہی خرچ کرو، ورنہ مشکل میں پھنس جاؤ گے۔ یہی اصول جسم کی توانائی خرچ کرنے کے سلسلے میں کاربند ہے، جسے ہم توانائی میں توازن (ENERGY BALANE) کہتے ہیں، یعنی جتنی توانائی جسم حاصل کرے، اتنی ہی خرچ بھی کرے۔ اچھی صحت کیلئے یہ توازن قائم کرنا لازم ہے، یعنی جسم میں جتنی توانائی جاتی ہے، وہ برابر ہوتی ہے اس توانائی کے، جتنی جسم استعمال کرتا ہے۔
(ENERGY INTAKE = ENERGY OUTPUT)
جسم کیلئے حاصل کردہ توانائی وہی توانائی ہے، جو ہم غذا کے ذریعے سے حاصل کرتے ہیں، مثلاَ۔ ایک چپاتی تقریباََ 150حراروں (کیلوریز) کی توانائی فراہم کرتی ہے۔ توانائی ناپنے کی اکائی (UNIT)کلو کیلوریز (KILO CALORIES)کہلاتی ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ ایک کلو گرام پانی کو ایک درجہ سینٹری گریڈ پر گرم کرنے پر جو گرمی یا توانائی حاصل ہوتی ہے، وہ برار ہوتی ہے ایک کلو کیلوری کے۔ اسی طرح ایک درمیانے سائز کا سموسا تقریباََ 200حرارے (کیلوریز)، 100گرام سیب کا ٹکڑا 47حرارے، سلاد 14حرارے، ڈبل روٹی 219حرارے، گوشت 203حرارے، چاکلیٹ 520حرارے اور مکھن 750حرارے یا توانائی فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح دن بھر کی حاصل شدہ توانائی ہمارے کھانوں کی اقسام اور ان کی مقدار پر منحصر ہوتی ہے۔ اس کا اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل نہیں، کیونکہ زیادہ تر ڈبوں پر لکھا ہوتا ہے اور مختلف اقسام کے چارٹ موجود ہوتے ہیں، جو ہمیں یہ بتاتے یں کہ اگر ایک چپاتی ، ایک پیالی چاول، ایک چھوٹا گوشت کا ٹکڑا یا دودھ کا ایک گلاس پی لیا جائے تو جسم کو کتنی توانائی پہنچے گی۔ اس طرح اندازاََ ہمیں یہ معلوم ہوجتا ہے کہ ہمارے جسم میں کتنی توانائی پہنچی ہے، لہٰذا بالکل صحیح اعداد و شمار معلوم کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔
اب ابت کرتے ہیں اس توانائی کی، جو جسم استعمال کرتا ہے، یعنی وہ توانائی جو ہم دن بھر کام کاج کرنے میں خرچ بھی کرتے ہی۔ یہ تووانائی برابر ہونی چاہئے اس توانائی کے جو ہم کھانے کے ذریعے سے حاصل کرتے ہیں۔ یہ توانائی صحت کیلئے ضروری ہوتی ہے، کیونکہ اگر حاصل شدہ توانائی زیادہ ہوتی ہے اور ہم کم خرچ کرتے ہیں تو وہ توانائی چربی کی شکل میں جسم میں جمع ہوجاتی ہے اور وزن بڑھنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس اگر حاصل شدہ توانائی کم ہوتی ہے اور استعمال شدہ توانائی زیادہ ہوتی ہے تو جسم درکار توانائی جسم میں موجود چکنائی سے حاصل کرتا ہے (کیونکہ جسم کو تو ہر حال میں توانائی چاہئے)۔ اس طرح وزن گھٹتا رہتا ہے اور یہ وزن اس سطح سے بھی کم ہوسکتا ہے، جو جسم کا ہونا چاہئے۔ جسم کا وزن برابر کم ہوتے رہنا، بیماری کی علامت ہے۔
اچھی صحت کی نشانی یہ ہے کہ جو توانائی ہم کھانے کے ذریعے سے حاصل کرتے ہین، اتنی ہی دن بھر کے مختلف کاموں میں خرچ کی جائے۔ جسم میں موجود توانائی (یعنی جسم کا چربی والا گوشت) ہم تین طرح سے خرچ کرتے ہیں: اگر ہم کچھ بھی نہ کررہے ہوں، جیسے سو رہے ہوں، تب بھی جسم توانائی خرچ کرتا ہے، مثلاََ دل کا دھڑکنا، سانس کا آنا جانا، پھیپڑوں کا کام کرنا اور جسم کی حرارت کا برقرار رہنا۔ ان تمام افعال میں جو توانائی استعمال ہوتی ہے، اسے ہم بی ایم آر (BMR)کہتے ہیں۔ بی ایم آر کا مطلب ہے: (BASAL METABOLIC RATE)، جو ہماری استعمال ہونے والی توانائی کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ یہ توانائی 60سے 65فیصدد تک ہوتی ہے۔ ہر فرد کا بی ایم آر اس کی جسم کی ساخ کے مطابق، یعنی وزن، لمبائی، جنس اور عمر کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔
دوسری استعمال ہونے والی توانائی وہ ہے، جو کھانے کو ہضم (DIGESTION) کرنے میں درکار ہوتی ہے۔ یہ توانائی سب سے کم، یعنی 10فیصد ہوتی ہے، باقی 40سے 35 فیصد تک توانائی ہم اری روزانہ کی کارکردگی پر خرچ ہوتی ہے، مثلاََ ایک مزدور کی استعمال ہونے والی توانائی اس فرد کی نسبت بہت زیادہ ہوگی، جو دفتر میں بیٹھ کر کام کرتا ہے۔ اب یہاں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بی ایم آر اور کھانا ہضم کرنے کیلئے جو توانائی درکار ہوتی ہے، وہ تو وہی رہے گی، لیکن جو توانائی فرد کو اپنی سرگرمیوں کیلئے چاہئے، مثلاََ چلنا پھرنا اور کام وغیرہ، اس کو بڑھایا یا گھٹایا جاسکتا ہے۔
جیسا کہ ایک عام وزن کے فرد کو ایک گھنٹہ سائیکل چلانے کیلئے لگ بھگ 400حرارے یا توانائی درکار ہوگی۔ اگر سائیکل کی رفتار یا فرد کا وزن بڑھ جائے تو یہی توانائی زیادہ ہوجائے گی۔ اسی طرح 5میل فی گھنٹہ دوڑنے میں تقریباََ 470حرارے یا توانائی درکار ہوگی۔ اگر فرد کے دوڑنے کی رفتار کم یا زیادہ ہوجائے تو یہ توانائی بڑھ یا گھٹ سکتی ہے۔ عام رفتار سے ٹہلنے میں 260حرارے یا توانائی خرچ ہوتی ہے ۔ ایک گھنٹہ پڑھنے میں صرف 87حرارے یا توانائی خرچ ہوتی ہے۔ ہر کام میں مختلف توانائی خرچ ہوتی ہے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ فرد کسی کام میں کتنا تھک جاتاہے۔ سیڑھیاں چڑھنے میں سب سے زیادہ توانائی خرچ ہوتی ہے۔ ٹیلے وژن دیکھنے میں سب سے کم توانائی خرچ ہوتی ہے۔
ان ساری معلومات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اگر فرد مقوی غذا (RICH FOOD)کھاتا ہے تو اس کے جسم کو زیادہ توانائی ملتی ہے۔ ہمیں اپنے روزانہ کے معمولات اس طرح ترتیب دینے چاہئیں کہ اگر ہم مقوی غذا کھائیں تو ایسے کام بھی کریں کہ توانائی زیادہ خرچ ہو۔
ترقی یافتہ ممالک میں افراد چھوٹے فاصلے طے کرنے کیلئے گاڑی کے بجائے پیدل چلنے کو ترجیح دیتے ہیں، لفٹ استعمال کرنے کے بجائے سیڑھیاں استعمال کرتے ہیں اور بااغ بانی کو زیادہ وقت دیتے ہیں۔ یاد رکھیے جسم میں جتنی توانائی جائے، اتنی ہی توانائی استعمال بھی کی جائے، یہی توازن صحت کا اصل راز ہے۔ اس توازن کو چیک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے وزن کو بھی دو تین ماہ میں چیک کرتے رہیں۔ اگر آپ کا وزن بڑھ رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ غذا زیادہ کھارہے ہیں اور کام کم کررہے ہیں۔ اگر آپ کا وزن گھٹ رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کام زیادہ کررہے ہیں اور غذا کم کھارہے ہیں۔ انتہائی مناسب وزن ہی صحت مند زندگی کا راز ہے۔ یہ مناسب وزن اسی وقت قائم رکھا جاسکتا ہے، جب آپکی غذا اور طرز زندگی میں ہم آہنگی ہو۔ اگر احساس اور علم ہو تو یہ ہم آہنگی حاصل کرنا اتنا مشکل بھی نہیں ہے۔

(7) ووٹ وصول ہوئے