Thanda Metha Mazze Dar Tarbooz

ٹھنڈا میٹھا مزے دار تربوز

Thanda Metha Mazze Dar Tarbooz
جب سخت لو چلتی ہے اور ہمارا پیٹ پانی پی پی کر مٹکابن جاتا ہے تو تربوز کی ٹھنڈی میٹھی قاشیں کھانے سے ہماری پیاس مٹ جاتی ہے۔بے چینی اور منھ کا بار بار سوکھنا رک جاتا ہےَ تربوز بہت گہرے سبز اور سفیدی مائل ہلکے سبز رنگوں میں پایاجاتا ہے۔یہ بعض ٹھیلوں پر دودوتین تین کلوکا اور بعض پر چھوٹی چھوٹی مٹکیوں جیسا نظر آتا ہے۔مصر میں یہ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ ایک گدھے پر مشکل سے دوہی لادے جا سکتے ہیں اور کہیں یہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ بچہ بھی آسانی سے اٹھالے ،لیکن ہر رنگ وشکل میں تربوز کی خاصیت ایک ہی ہوتی ہے،یعنی اس کا سرخ مہک والا گودا،جو منھ میں برف کی طرح گھل جاتاہے اور پیاس دور کر کے جسم میں ٹھنڈ ک کی لہر دوڑا دیتاہے۔


تربوز کی سب سے اہم تاثیر یہ ہے کہ اسے کھانے سے گردوں کو بہت فائدہ پہنچتا ہے ۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ یہ آنتوں کی خشکی بھی دور کر دیتا ہے۔انسانی جسم میں ایک تیزاب بنتا ہے،جسے صفرا(BILE) کہتے ہیں،کبھی اس کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔اس کے خون میں مل جانے سے یرقان ہوجاتا ہے تو کبھی پیشاب جلن کے ساتھ آنے لگتا ہے یا پھر پیلے رنگ کے دست آنے لگتے ہیں ۔تربوز ان شکایات کو دور کرنے کا ایک مفید علاج ثابت ہوتاہے۔

خوب پکے ہوئے تربوز کا گودا منھ میں اچھی طرح گھلا کر کھانے سے نہ صرف لذت ملتی ہے ،بلکہ صحت بھی اچھی ہو جاتی ہے۔
تربوز کھانے سے خون کی بڑی رگیں بھی پھیل کر چوڑی ہو جاتی ہیں۔اس طرح خون کا بڑھا ہوا دباؤ کم ہو جاتاہے۔بلڈ پریشر کے مریضوں کو گرمی کے موسم میں شام کو 4-3بجے پابندی سے تربوز کھانا چاہیے۔
تربوز کے بیج بھی شوق سے کھائے جاتے ہیں ۔

ان میں دماغ کو طاقت پہنچانے کی صلاحیت ہوتی ہےاس کے علاوہ ان میں ایک خاص قسم کا جزو ہوتاہے،جو خاص طور پر خون کی رگوں کو کشادہ کرتا ہے ،اس لیے انھیں پھینکنا نہیں چاہیے۔ویسے اس کے بیجوں کا مغز بھی دکانوں پر مل جاتا ہے ۔آپ یہ لے کر کھائیں یا بیجوں کو چھلکوں سمیت کوٹ کر ایک پیالی پانی میں بھگو کر رات کو رکھ دیں اور صبح انھیں مل کر چھلنی سے چھان کر پانی پی لیں،آپ کے گھر یا خاندان کے جو بزرگ بلڈ پریشر کے مریض ہیں، ان کو اس سے فائدہ ہوگا۔


تربوز کو خالی پیٹ یا کھانے سے پہلے کھانا چاہیے۔اس کے ساتھ چاول کا کھانا بھی مناسب نہیں سمجھا جاتا۔گرمیوں میں آپ اس کا شربت بھی بنا کر پی سکتے ہیں ۔اس میں تھوڑا سا عرق گلاب ملانے سے یہ اور بھی مفید ہو جاتاہے۔اس طرح گھبراہٹ کم ہو جاتی ہے ۔گرمیوں میں ہونے والی کھانسی میں اگر بلغم نہ نکل رہا ہو،یعنی خشک کھانسی ہوتو تربوز کے کھانے سے فائدہ ہوتاہے۔

اس کے صفائی سے کٹے ہوئے سرخ ٹکڑوں کو ٹھنڈا کرکے کھانے سے پہلے آپ اگر ان پر تھوڑی سی کالی مرچ ،نمک اور سفید زیرہ پیس کر چھڑ ک لیں تو یہ بہت مفید ہوجاتا ہے۔تربوز کا سرخ رنگ لائکوپین(LYCOPENE) کہلاتا ہے ۔یہ آپ کو سرطان سے محفوظ رکھتاہے۔
100گرام تربوز میں درج ذیل صحت بخش اجزاء پائے جاتے ہیں:
حیاتین الف(وٹامن اے) 590بین الاقوامی یونٹ
حیاتین ب(وٹامن بی=تھایامن) 50ملی گرام
حیاتین ب2(وٹامن بی=2رائبو فلاون) 50ملی گرام
حیاتین ب3(وٹامن بی=3نایاسن) 2ء ملی گرام
حیاتین ج(وٹامن سی) 2ملی گرام
لحمیات(پروٹینز) 5ملی گرام
حرارے(کیلوریز) 68
نشاستہ(کاربوہائیڈریٹ) 29ملی گرام
کیلسیئم 7ملی گرام
فولاد 6ملی گرام
فاسفورس 16ملی گرام
تاریخ اشاعت: 2019-08-06

Your Thoughts and Comments