بند کریں
صحت مضامینغذا اور صحتتلوں میں کتنا تیل ہے

مزید غذا اور صحت

پچھلے مضامین - مزید مضامین
تلوں میں کتنا تیل ہے
اگر آپ چاہتی ہیں کہ جلد بوڑھی نہ ہواور آپ کی جلد پر جھریاں بھی نہ پڑیں توآج سے ہی تل کھانا شروع کردیں۔
اگر آپ چاہتی ہیں کہ جلد بوڑھی نہ ہواور آپ کی جلد پر جھریاں بھی نہ پڑیں توآج سے ہی تل کھانا شروع کردیں
حکیم نیاز احمد ڈیال کے مطابق سیاہ رنگ کے تلوں کاتیل عام طور پر کھانا پکانے کے لئے استعمال کیاجاتا ہے توہم یہ بالوں کی نشوونما کے لئے بھی انتہائی موزوں ہے
سیسمی نامی پھولدار پودے کے بیج یعنی تلوں کوانگریزی میں سیسمی سیڈ ( Sesme Seed) یابینی سیڈ(Beniseed) کہاجاتا ہے اور یہ دنیا بھرمیں بطور غذااستعمال ہوتے ہیں۔ سمسم کے پھول عموماََ زرد اوربعض اوقات نیلے یاجامنی رنگ کے ہوتے ہیں جبکہ اس پودے کے بیج تکونی شکل کے ہیں۔ رنگت میں فرق کے باعث انہیں تل سفید اور تل سیاہ لکھا جاتا ہے اور دنیا بھرمیں گذشتہ کئی صدیوں سے انہیں مختلف مقاصد کے لئے استعمال کیاجارہاہے۔ بالخصوص موسم سرما میں تل اور گڑکے لڈوؤں، ریوڑیوں، گرک کابکثرت استعمال ہوتا ہے کلچہ بھی سفید تلوں کے بغیرناممکل سمجھاجاتا ہے۔ غذائیت کے اعتبار سے سفید تلوں کے مقابلے میں کالے تل زیادہ بہتر سمجھے جاتے ہیں۔ یوں تودنیا کے بیشترممالک میں اس کاپودا پایاجاتا ہے تاہم امریکہ، چین، اٹلی، جاپان، بھارت اور پاکستان میں یہ خاصا عام ہے۔ کولہو میں پیس کران کاتیل بھی نکالا جاتا ہے جسے عرف عام میں میٹھا تیل کہتے ہیں۔ سیاہ رنگ کے تلوں کا تیل عام طور پر کھاناپکانے اورمارجرین بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے جبکہ اسے بالوں کی نشوونما کے لئے بھی انتہائی موزوں خیال کیاجاتا ہے۔ دیسی ادویات میں بھی تل اور تلوں کاتیل صدیوں سے استعمال ہورہاہے۔ اس تیل کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ عرصہ دراز تک خراب نہیں ہوتا۔
تل کھانے کاصحیح طریقہ
تلوں کوہلکا سا بھون کران میں مناسب مقدار میں شہد ملالیں اور روزانہ دوسے تین چمچ کھائیں۔ تلوں کوتادیر محفوظ رکھنے کے لئے انہیں بھون کررکھا جاسکتا ہے۔ تلوں کے کھانے کے بعد اگرسرکہ یا انار دانہ لے لیاجائے توزیادہ بہتر ہے کیونکہ سرکہ یاانار دانہ معدے کومعتدل رکھتے ہیں۔
تل کھانے سے عمر بڑھتی ہے
حل اپنے اندر گوشت جیسے خواص رکھتے ہیں اسے لئے انہیں طاقت حاصل کرنے اور عمر بڑھانے کا بہترین ذریعہ سمجھاجاتاہے۔ محنت کشوں کی جسمانی قوت اور دیہاتی باشندوں کی دارزیٴ عمر کا راز اور صحت کاراز بھی تل جیسی غذامیں پوشیدہ ہے۔ پرانے زمانے میں پہلوانی کاشوق رکھنے والے افراد بھی اپنی طاقت بڑھانے کے لئے تل استعمال کرتے تھے۔ جولوگ کسی وجہ سے گوشت نہیں کھانے انہیں تلوں کااستعمال ضرور کرنا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں تل نباتاتی گوشت ہے جس میں لیسی تھین (Lecithin) کی وافرمقدار موجود ہے۔ لیسی تھین ایک فاسفورس آمیزہ چکنائی ہے جوپٹھوں کی صحت کے لئے نہایت اہم ہے۔ قوت حافظ کوتوانارکھنے کے لئے انسانی بدن میں لیسی تھین کاہونا انتہائی ضروری ہے۔ انسانی دماغ اپنی توانائی لیس تھین سے ہی حاصل کرتا ہے۔ بلکہ دماغ کا28فیصد حصہ لیسی تھین ہی کابناہواہے اور اس میں تمام حیوانوں سے زیادہ لیسی تھین ہوتی ہے جوگوشت، انڈے کی زردی اور ماش سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ لیسی تھین کی کمی کی صورت میں انسانی اعصاب کمزور پڑجاتے ہیں اور بعض حالتوں میں وہ ذہنی مریض بھی بن جاتا ہے۔ تلوں میں دھاتوں کاتناسب بھی باکمال ہے۔ جس دھات کی جسم کوزیادہ ضرورت ہے وہ زیادہ مقدار میں موجود ہے اور جس کی کم مقدار درکار ہو، وہ کم پائی جاتی ہے۔
بالوں کی سیاہی قائم رکھنے اور انہیں لمبا کرنے کے لئے
تلوں کے پودے کے بیج اور پھول ہی نہیں بلکہ پتے بھی مفید ہیں۔ نہیں بالوں کومضبوط اور لمبا کرنے کے لئے بھی استعمال کیاجاتاہے۔ اس پودے کے تازہ پتے لے کرانہیں اچھی طرح کوٹ کررس نکال لیں اور بالوں کی جڑوں میں ا#چھی طرح مساج کریں، یہ عمل نہ صرف بالوں کی سیاہی کوعرصہ تک قائم رکھتا ہے بلکہ اس سے بالوں کی نشوونما بھی خوب ہوتی ہے۔
ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لئے تلوں کااستعمال کریں
بنیادی طور پر تل وٹامن ای (Vitamin E) کاخزانہ ہیں ۔ یہ وٹامن انسان کوبوڑھا نہیں ہونے دیتا اور اس کی موجودگی سے جلد پر جھریاں نہیں پڑتیں۔ تلوں میں ایسے کیمیائی مرکبات بھی موجود ہیں جوجس انسانی کی شکست وریخت کوروکتے ہیں۔ اس طرح جسم کے اعصاب کوتقویت دیتے ہیں خصوصاََ وہ لوگ جوذہنی دباؤاور اعصابی تناؤ کے باعث ڈپریشن کاشکار ہیں انہیں قدرت کی عطا کردہ اس نعمت سے موسم میں بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔ طب مشرق میں تل اور اس کاتیل صدیون سے مستعمل ہے۔ موسم سرما میں عموماََ بچوں کوبکثرت پیشاب کی شکایت ہوجاتی ہے بعض بچے رات کوبستر پر پیشاب کردیتے ہیں۔ انہیں روزانہ آدھاچمچ تل کھلائیں۔ اسی طرح عمررسیدہ لوگ بھی شدت سردی کے باعث موسم میں باربار پیشاب کے عارضہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے تلوں کے لڈو بہت مفید ہیں کیونکہ عمر رسیدہ لوگوں کویہ مسئلہ اعصابی کمزوری کے باعث ہوتاہے اور تل اعصاب کوطاقت بخشتے ہیں۔ تل کے شیر کے شیرے کوپانی میں چھان کراستعمال کرنے سے معدے کی جلن ختم ہوتی ہے۔ ہلکے بھنے ہوئے تلوں کوسبزدھینے، پودینے، سبزمرچ، لہسن، بھنے ہوئے سفید زیرے اور نمک کے ساتھ پیس لیں اور لیموں کارس شامل کردیں۔ نہایت لذید چٹنی بنتی ہے جسے باجرہ مکئی، گندم اور چنے کی روٹی کے ساتھ کھایا جاسکتا ہے۔تلوں کااستعمال پھیپھڑوں اور کھانسی کے لئے بھی مفید ہے جبکہ تلوں کامتواتر استعمال جلد کی رنگت کونکھارتاہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے