Tomato - Article No. 1957

ٹماٹر - تحریر نمبر 1957

ہفتہ ستمبر

Tomato - Article No. 1957
عادل حسین مغل
سبز ترکاریوں میں ٹماٹر سب سے زیادہ مفید اور صحت مند سبزی ہے۔ ٹماٹر اس قدر مفید اور ارزاں اور صحت بخش ہے کہ کوئی ترکاری اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ پالک کی طرح اس کی تاثیر متعدل خشک ہے اور جدید طبعی تحقیقات کے مطابق اس میں وٹامن اے ‘بی‘سی کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ معدنی نمکیات اور فولاد کی بھی کافی مقدار ہے۔

اس کے استعمال سے خون پیدا ہوتا ہے۔ اسے کچا اور پکا کر کھانا یکساں مفید ہے۔ ٹماٹر کے نام سے کون واقف نہیں جو کہ روز مرہ زندگی میں ہماری خوراک بننے والی غذائی تیاری کا ایک ضروری جزو ہے۔ ٹماٹر کو لاطینی زبان میں (Lycopene Esculentum) کہا جاتا ہے۔
ٹماٹر کی بہت سی قسمیں ہیں اور بے شمار رنگ ہیں۔ جیسے کہ کچا ٹماٹر سبز رنگ کا ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

سرخ اور زرد‘گلابی اور شوخ گلابی اور گہرے سرخ رنگ کے ٹماٹر عام طور پر سبزی مارکیٹ میں نظر آتے ہیں۔

لیکن طبی لحاظ سے سرخ پکا ہوا ٹماٹر اچھا سمجھا جاتا ہے۔ٹماٹر کو یورپ میں پاگل غصیلا سیب بھی کہا جاتا تھا جبکہ فرانس میں ٹماٹر کو اس کے رنگوں کی خصوصیات کی بناء پر “محبت کے سیب“ کا نام دیاگیا ہے۔ ٹماٹر اصلاً جنوبی امریکہ کے جنگلوں میں پایا جاتا تھا۔ جہاں سے آنے والے لوگ اسے وسطی امریکہ لائے اور میکسیکو کی قدیم ازبک اور مایا اقوام نے اسے کاشت کیا اور ٹوماٹر کے نام سے متعارف کرایا۔

سولہویں صدی عیسوی کے آغاز میں میکسیکو اور پیرو کے ہسپانوی فاتح اسے یورپ لائے۔ اسپین اور اٹلی میں ٹماٹر کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا جبکہ پورے یورپ میں زہریلے پودوں کی ایک قسم ”سولاناش“ سے تعلق رکھنے کی بناء پر انسانی صحت کے لئے اس کے خواص کو مشکوک تصور کیا گیا۔ سولہویں صدی عیسوی کے آباد کاروں کے ہاتھوں یہ شمالی امریکہ پہنچا اور پھر انیسویں صدی میں ٹماٹر وہاں کی سبزی منڈی پر چھا گیا۔


ٹماٹر کو پھل اور سبزی دونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٹماٹر کی حیثیت کا تعین کرنے کے لئے امریکہ میں ایک مقدمہ بھی دائر کیا گیا تھا جس پر 1893ء میں امریکی سپریم کورٹ کے ایسوسی ایٹ جج نے یہ فیصلہ دیا کہ علم نباتات کی رو سے ٹماٹر ایک پھل ہے۔ آج کے دور میں سب جانتے ہیں کہ ہر انسان کو روزانہ حیاتین کی تھوڑی بہت مقدار ضرور لینی چاہیے۔ حیاتین ”الف‘ب‘ اور ج انسانی صحت کے لئے نہایت ضروری ہیں۔

ہمیں جسم کی طاقت اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لئے ان حیاتین کو اپنی غذا میں ضرور شامل کرنا چاہیے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ انسانی صحت کے لئے نہایت ضروری قرار پانے والے یہ تینوں حیاتین ٹماٹر میں موجود ہیں۔ ٹماٹر کو کھانے سے بھوک لگتی ہے اور کھانا جلد ہضم ہو جاتا ہے۔ نیز ٹماٹر کئی بیماریوں میں مفید ہے۔
فوائد
اس سے خون کی کمی‘چہرے اور آنکھوں کی زردی اور موٹاپے جیسے امراض دور ہو جاتے ہیں۔

اسے پکانا بہتر ہے۔دراصل ٹماٹر پکا کر کھانے سے اس میں شامل غذائی مادہ لائکوپین Lycopene کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے جو بحالی صحت اور تندرستی کے لئے بے حد ضروری ہے۔لاغر اور ضعیف مریضوں کے لئے اس کا استعمال بے حد مفید ہے۔ ٹماٹر میں ایسی تیزابی خاصیت پائی جاتی ہے جو خون
صاف کرتی ہے۔جو بچے لاغر اور کمزور ہوں انہیں روزانہ صبح ایک عمدہ ٹماٹر دھو کر چوسنے کے لئے دیں۔

کیونکہ اس میں وہ تمام غذائی اجزاء موجود ہیں جو بچے کی پرورش کے لئے بے حد ضروری ہیں۔اس کے استعمال سے بچوں کو دانت نکالنے میں بڑی سہولت رہتی ہے اور ان کا معدہ بھی ٹھیک کام کرتا ہے۔جسم کے اعصابی نظام کو درست رکھنے اور تقویت دینے میں اس سے بہتر اور کوئی نہیں۔جسم کو صحت مند اور مضبوط بناتا ہے۔ رگ اور پٹھوں کو طاقت دیتا ہے۔خون پیدا کرتا ہے۔

اس میں فاسفورس‘لوہا اور حیاتین کی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔اس لئے یہ غذائی اعتبار سے بھی بے حد مفید ہے ۔بچوں کی نشوونما اور پرورش میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
حیاتین کی کمی کو دور کرنے کے لئے مہنگے پھل خریدنے سے بہتر ہے کہ یہ سبزی استعمال کی جائے۔ اس سے دوسرے پھلوں کی نسبت زیادہ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔وٹامن سی کی کمی جو دانتوں کی خرابی اور مسوڑھوں میں پیپ آجانے کا سبب بنتی ہے۔

دن میں ایک بار ایک چھٹانک ٹماٹر کا رس پی لینا چاہیے۔ اس سے طبیعت میں متلی اور قے آنے سے دن بھر افاقہ رہتا ہے۔ معدہ غذا کو ہضم کرنے کا پورا کام انجام دیتا ہے۔ٹماٹر کا رس بچوں کی پرورش اور دانتوں کی حفاظت کرتا ہے۔ عورتوں میں اس کے کھانے سے دودھ بڑھتا ہے اور شیر خوار بچوں کو ایسی ماؤں کا دودھ طاقتور اور تندرست بناتا ہے ۔ننھے بچوں کے لئے ٹماٹر ایک نعمت کا درجہ رکھتا ہے۔

چونکہ اس میں ترشی ہوتی ہے اس لئے کھانسی‘نزلہ‘ زکام وغیرہ میں اس کے استعمال سے احتیاط کرنا چاہیے۔دوپہر کے کھانے کے ساتھ ٹماٹر‘سلاد‘مولی‘ چقندر اور پیاز کا استعمال بھی کرنا چاہیے۔ یہ صحت کے لئے بے حد مفید ہے ۔اس سے ہاضمے کی شکایت دور ہوتی ہے۔کچا ٹماٹر کھانے کے بعد کچھ دیر تک پانی نہ پئیں۔ کیونکہ اس طرح تیزابی مادے معدے میں اپنا کام خوب اچھی طرح کر سکتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-09-19

Your Thoughts and Comments