Urad - Zaiqe Dar Daal - Article No. 2270

ارد ۔ ذائقے دار دال - تحریر نمبر 2270

منگل 12 اکتوبر 2021

Urad - Zaiqe Dar Daal - Article No. 2270
ہم زیادہ تر مونگ،چنا،ماش،ملکہ مسور،مسور اور ارہر کی دالوں کا علم رکھتے ہیں اور انہیں پکانے اور کھانے کا رواج بھی زیادہ ہے۔ایک دال ارد بھی ہے یہ ماش کی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔کچھ لوگ اسے ثابت ماش کہتے ہیں کچھ ارد دونوں نام صحیح ہیں۔ارد کی بھی دو قسمیں ہیں ایک سیاہ دانوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسری قسم ہرے رنگ کی ہے جسے کچیلا ارد کہا جاتا ہے۔


براعظم ایشیا میں دال کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے۔یہ نہایت مفید غذا ہے۔اس میں پروٹین،کاربوہائیڈریٹس،وٹامن B اور آئرن پائے جاتے ہیں۔ارد کی دال کو گوشت کے ساتھ پکانے سے اس کی غذائیت دو گنا بڑھتی ہے اور یہ باقاعدہ ایک خوش ذائقہ کھانے کا درجہ رکھتی ہے۔اسے اُبلے ہوئے چاولوں کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔
ارد کے خواص
ارد چکنا اور دیر ہضم ہوتا ہے لہٰذا پکانے سے پہلے اسے آدھ یا پون گھنٹے تک بھگو دینا اچھا ہے۔

(جاری ہے)

یہ بھوک بڑھانے والی دال ہے۔انتہائی مقوی ہے۔قوت مدافعت بڑھاتی ہے۔بادی کے امراض میں اکسیر ہے۔لقوہ دور کرتی ہے۔سانس کی تنگی دور کرتی ہے۔قدیم حکماء ارد کو سونٹھ کے ساتھ جوش دے کر فالج کے مریضوں کا علاج کیا کرتے تھے اسی طرح برص کے داغوں کا علاج بھی تازہ اور پیس کر جلد پر لیپ کرکے کیا جاتا تھا اور ارد کی دال پانی میں اُبال کر بالوں پر مل کر انہیں گرنے سے روکنے اور چمکدار بنانے کا کام لیا جاتا رہا ہے۔

ارد کی دال پکا کر کھانے سے نئی ماؤں کو قدرتی دودھ کم آنے کی شکایت جاتی رہتی ہے۔
اس دال کو سرخ گوشت مثلاً بکرے،گائے یا بچھڑے کے گوشت میں پکانے کی روایتیں ملتی ہیں اس میں ٹماٹر شامل نہیں کئے جاتے۔گوشت علیحدہ پکایا جاتا ہے اور اس میں ادرک لہسن اور چاروں روایتی مصالحے (نمک،سرخ مرچ،پسا ہوا دھنیا اور ہلدی) شامل کئے جاتے ہیں۔ دال کو علیحدہ اُبالا جاتا ہے اور بغیر نمک کے پکا کر گوشت شامل کر دیا جاتا ہے،بعد میں اسے یکجان ہونے کے لئے پکایا جاتا ہے۔

کچھ گھرانوں میں اسے گھوٹا بھی جاتا ہے اس طرح یہ یکجان ہو کر بہترین ذائقہ دال ڈش بنتی ہے۔چونکہ ارد ثقیل غذا ہے لہٰذا اس میں ہینگ اور ادرک کی کچھ زائد مقدار شامل کی جاتی ہے۔
گوشت کے معدنی ذرائع مثلاً کیلشیئم،فاسفورس،پوٹاشیم اور سوڈیم کے ساتھ ساتھ وٹامنز A,B اور آئرن کے علاوہ زنک،ہماری صحت کے لئے ناگزیر ہیں۔دال کو کچھ دیر بھگو کے آدھے گھنٹے تک اُبالنے سے اس میں موجود Fytine Acid اور پروٹین کی ایک قسم Fasin کے اثرات دور ہو جاتے ہیں۔اس طرح یہ قابل ہضم ہو جاتی ہے اب آپ ارد کی کھچڑی بنایئے،حلوہ بنایئے یا گوشت میں پکا کر چاولوں کے ساتھ کھایئے یہ ذائقہ بہترین احساس دے گا۔طبیعت سیر بھی ہو گی اور غذائیت بھی ملے گی۔
تاریخ اشاعت: 2021-10-12

Your Thoughts and Comments