Vitamen C Buhat Nazuk Buhat Hassas Hai

وٹامنC،بہت نازک بہت حساس ہے

Vitamen C Buhat Nazuk Buhat Hassas Hai
وٹامن Cقوت مدافعت کے لئے تریاق ہے اور یہ بات ہم میں سے اکثر افراد جانتے ہوں گے کہ بیماریوں سے لڑنے اور صحت یاب رہنے کے لئے اس مخصوص وٹامن کا استعمال بہت اہمیت رکھتا ہے ۔قدرت نے انسان کی شفاء اور صحت کی بحالی کے لئے اپنی بے شمار نعمتوں میں اسے شامل کیا ہے ۔کیا سبزیاں کیا پھل ،یہ مادہ بے شمار غذاؤں میں موجود ہے اور لوگ اسے شوق سے کھاتے ہیں ۔

تاہم اگر اس کی کمی واقع ہوجائے تو اس کے اثرات مسوڑھوں کی بیماریوں،تھکاوٹ ،نزلہ زکام،دل کے امراض اور نقاہت کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں ۔ایک برطانوی فزیشن سرتھامس بادلونے بال جھڑنے کی بیماری کو بھی وٹامن Cکی کمی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔
امریکن انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن کے مطابق وٹامن Cکو شناخت کرنے کا عمل1932ء میں سامنے آیا اور اس کی علیحدہ حیثیت تسلیم کی گئی۔

(جاری ہے)


وٹامنCکی اہمیت دیگر وٹامنز کی طرح اینٹی آکسیڈنٹس کے طورپر مفید قرار دی گئی کہ جو زخموں کے ٹھیک ہونے ،کینسر یادل کے امراض کو دور رکھنے اور قوت مدافعت بڑھانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ اس وٹامن کی اہمیت کو سمجھ کر صحت مند رہنے اور اسے بر قرار رکھنے والی عادات اپنائی جائیں۔
لیموں پانی وٹامنCکے حصول کا بہترین ذریعہ ہے ۔

ہمارے یہاں گرمیوں کا موسم طویل ہوتا ہے ۔
اس موسم میں پسینہ خارج ہونے سے جسم میں پانی کی کمی واقع ہو جاتی ہے ۔لیموں پانی کے استعمال سے ناصرف جسم میں پانی کی ضرورت پوری ہو گی بلکہ لیموں کی شکل میں وٹامنCمل جائے گی۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ(NIH)کے مطابق ٹماٹر،آلو اور تمام ترش پھلوں مثلاً نارنگی ،مالٹا،کینو ،موسمی وغیرہ اس وٹامن کا بہترین ذریعہ ہیں۔

چونکہ یہ وٹامن پانی میں حل ہوجاتا ہے لہٰذا بہت جلد خون اور جسم میں تحلیل ہوجاتا ہے ۔یہ بے حد حساس اور کمزور وٹامن ہے اور پکانے کے دوران ضائع ہوجاتاہے۔
جن دنوں میں لیمونی پھل(سٹرس فروٹس)مارکیٹ میں نہیں آتے یا ان کا موسم نہیں ہوتا تب بھی دوسرے پھلوں مثلاً پپیتے میں یہ وٹامن موجود ہوتا ہے جس کا استعمال میٹا بولک سسٹم کو بھی فعال رکھتا ہے اور ہاضمے کے مسائل میں بھی اکسیر ہے۔


سبزیوں میں ٹماٹر تو ہماری ہر دوسری ہنڈیا میں شامل ہوتا ہی ہے مگر کوشش کریں کہ سلاد کی شکل میں اسے کچا بھی کھایا جائے۔گردوں کے امراض میں مبتلا افراد ٹماٹر کے بیج علیحدہ کرکے کھائیں تو یہ مضر صحت نہیں ۔اسی طرح سبزیوں میں گو بھی اور شملہ مرچ ایسی ہیں جن میں وٹامن Cکی زائد مقدار پائی جاتی ہے ۔
ان سبزیوں کو بجائے بھون کے یادیر تک پکانے کے بعد استعمال کیا جائے بہتر یہی ہے کہ بھاپ میں انہیں پکا کر کھایا جائے۔

یاد رکھئے کہ وٹامن Cبہت نازک اور قلیل مدت کے لئے بر قرار رہنے والا جزو ہے۔بہت دیر تک پکاتے رہنے سے یہ وٹامن ضائع ہوجاتاہے۔اس وٹامن کی آپ کو کتنی مقدار یومیہ درکارہوگی؟NIHکی مجوزہ مقدار کے مطابق
نوزائیدہ اور 6ماہ تک کے بچے کو روزانہ40ملی گرام اور 7تا12ماہ کی عمر تک کے بچے کو روزانہ 50ملی گرام وٹامن Cدرکارہوتاہے
1تا3کے بچوں کو 15ملی گرام روزانہ
4تا8سال،25ملی گرام روزانہ
9تا13سال،45ملی گرام روزانہ
14تا18سال،لڑکوں کے لئے 75ملی گرام روزانہ
14تا18سال لڑکیوں کے لئے 65ملی گرام روزانہ
18سال سے زائدعمر کے افراد کا تناسب:
مرد90ملی گرام روزانہ
خاتون75ملی گرام روزانہ
نئی ماں کے لئے 85ملی گرام روزانہ
رضاعت یعنی دودھ پلانے کے لئے دورانئے میں ماں120ملی گرام روزانہ لے 35برس سے زائد عمر کی خواتین میں Progesteroneنامی ہارمون کی پیداوار میں کمی آتی ہے یہ ہارمون خواتین کے اعصابی اور عضلاتی نظام کو فعال رکھتا اور انہیں پر سکون رہنے میں مدد دیتا ہے لہٰذا اس ہارمون کی پیداوار کے عمل کو جاری رکھنے کے لئے وٹامن Cغذا کی صورت میں جسم میں جانا چاہئے۔

اگر آپ کا ڈاکٹر سپلیمنٹ کی شکل میں استعمال بتاتا ہے تو اس طرح اس وٹامن کی کمی دور کی جاسکتی ہے ۔خیال رہے کہ 35سال اور اس سے زائد عمر کی خواتین کو 750سے1,000ملی گرام وٹامن Cروزانہ لینا چاہئے۔
احتیاطی تدابیر
ماؤں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ سبزیاں احتیاط سے پکائیں۔انہیں غیر ضروری طور پر بار بار نہ دھوئیں یا انہیں پانی میں دیر تک بھگو کے نہ رکھیں کیونکہ اس طرح وٹامنز ضائع ہوجاتے ہیں ۔

ماہرین غذائیت کے مطابق پھلوں اور سبزیوں کو زور سے رکھنے یا پھینکنے اور اچھالنے سے بھی وٹامن ضائع ہو جاتے ہیں۔
وٹامن Cلوہے اور اسٹیل کے چھونے سے بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔غیر ضروری طور پر چھریوں یا چاقو کا استعمال نہیں کرنا چاہئے اور پھلوں یا سبزیوں کو دھوپ میں بھی نہیں رکھنا چاہئے۔اس طرح بھی روشنی اور حرارت سے وٹامنز ضائع ہو جاتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2019-07-22

Your Thoughts and Comments