Angoor - Dushman E Amraz Phal - Article No. 2304

انگور ۔ دشمنِ امراض پھل - تحریر نمبر 2304

پیر 22 نومبر 2021

Angoor - Dushman E Amraz Phal - Article No. 2304
آفرین اعجاز
انگور میں بہت سے صحت بخش غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں،مثلاً لحمیات (پروٹینز) ،نشاستہ (کاربوہائیڈریٹ) ،ریشہ (فائبر) کیلسیئم،فولاد، فاسفورس،میگنیزیئم،پوٹاشیم اور حیاتین الف (وٹامن اے) وغیرہ۔انگور کی کئی قسمیں ہیں،سب سے اچھی قسم بیدانہ کہلاتی ہے۔ انگور کی بیل ہوتی ہے۔یہ بیل پر خوشوں کی شکل میں لگتا ہے۔

دنیا بھر میں انگور کی 80 سے زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں۔انگور میں جسم سے خراب مادے خارج کرنے کی زبردست صلاحیت ہے۔اس کے کھانے سے خون بنتا ہے اور جسم میں توانائی آ جاتی ہے۔انگور کو سب ہی ذوق و شوق سے کھاتے ہیں۔بیدانہ انگور خشک ہو کر کشمش بن جاتا ہے۔بڑے انگور جن میں بیج ہوتے ہیں،خشک ہو کر منقوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

(جاری ہے)


انگور مانع تکسید (Antioxidant) پھل ہے۔

اسے روزانہ کھانے سے بڑھاپے کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔انگور بہت مفید پھل ہے۔یہ صرف آنتوں کے لئے ہی نہیں،بلکہ گردوں کے لئے بھی فائدہ مند ہے۔اس کے کھانے سے پیشاب کھل کر آتا ہے اور جسم سے پتھری بہ آسانی خارج ہو جاتی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق انگور کھانے سے چھاتی کا سرطان (بریسٹ کینسر) اور دل کے امراض لاحق نہیں ہوتے، یعنی حملہ قلب کے امکانات جاتے رہتے ہیں۔

انگور زود ہضم پھل ہے،اس لئے یہ بچوں اور کمزور افراد کے لئے بہترین غذا ثابت ہوتا ہے۔ اس میں کیلسیئم کافی مقدار میں پایا جاتا ہے،اس لئے اس کے کھانے سے دانت اور ہڈیاں خوب مضبوط ہو جاتی ہیں۔آدھے سر کے درد کے خاتمے کے لئے صبح کے وقت اس کا رس پینے سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔انگور جسم کو فربہ کرتا ہے،کمزور افراد کو روزانہ میٹھے انگور خوب کھانے چاہییں۔

نیز کمزور معدے والے افراد کو بھی روزانہ انگور کھانے چاہییں۔
انگور کا رس نہ صرف زود ہضم ہوتا ہے،بلکہ نیند بھی لاتا ہے۔سیاہ رنگ کا انگور خون کی کمی والے افراد کے لئے بہت نافع ثابت ہو چکا ہے،اس لئے کہ اس میں فولاد کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے،البتہ مٹھاس کم ہوتی ہے۔انگور ہمیشہ پکے ہوئے کھانے چاہییں۔کچا انگور کھانے سے بچنا چاہیے،کیونکہ اس میں وہ غذائیت اور مٹھاس نہیں ہوتی ہے،جو پکے ہوئے انگور میں ہوتی ہے۔

کچا انگور آنتوں کے لئے نقصان دہ ہے۔انگور دماغ کے لئے بہت مفید پھل ہے۔یہ اتنا مفید پھل ہے کہ اس کے کھانے سے ہڈیوں کے بھُربھُرے پن کی بیماری جسے اوسٹیوپوروسز (Osteoporosis) کہتے ہیں،رفتہ رفتہ دور ہونے لگتی ہے،اس لئے کہ انگور ہڈیوں کو مضبوط اور طاقتور بناتا ہے۔اس بیماری میں مبتلا افراد کو انگور کے موسم میں روزانہ میٹھے پکے ہوئے انگور خوب کھانے چاہییں۔


چھوٹے بچوں کے دانت نکلتے وقت وہ پیٹ کے درد،قبض یا اسہال میں مبتلا ہو جاتے ہیں،ایسے بچوں کو میٹھے انگوروں کا رس پلانا چاہیے،یہ تمام شکایات دور ہو جائیں گی۔بعض بچوں کے منہ میں اور حلق میں چھالے پڑ جاتے ہیں،جو انگور کا رس پلانے سے ختم ہو جاتے ہیں۔ جسمانی طور پر کمزور بچوں کے لئے تو انگور بے حد مفید ثابت ہوتا ہے۔انگور کھانے سے خون پتلا رہتا ہے،خاص طور پر سیاہ یا سرخ رنگ کے انگوروں کا رس پینے سے خون میں لوتھڑے (Clots) بننے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔

انگور دل کے امراض اور نزلے زکام سے بھی بچاتے ہیں۔ جگر انسانی جسم کا ایک بہت اہم عضو ہے۔اگر جگر کی کارکردگی میں کوئی خرابی پیدا ہو جائے اور جسم میں خون بننے کے عمل میں گڑبڑ ہو جائے تو جسم کمزور ہونے لگتا ہے اور چہرے کا رنگ پیلا پڑ جاتا ہے،لہٰذا یہی وجہ ہے کہ جن مرد و خواتین میں خون کی کمی ہوتی ہے،وہ اکثر لاغر اور کمزور نظر آتے ہیں۔

نئے خون کی پیداوار کے بغیر جسم سوکھنا شروع ہو جاتا ہے۔ قدرت نے انگور کو یہ خوبی بخشی ہے کہ اسے باقاعدگی سے کھانے سے جسم میں نیا خون پیدا ہوتا ہے اور چہرے پر شادابی اور تازگی نمودار ہونے لگتی ہے۔انگور دل و دماغ،جگر اور دل کو تقویت دیتا ہے اور چہرے کی جھریوں کو بھی دور کرتا ہے۔
جو خواتین ایام کی بندش کی وجہ سے پریشان رہتی ہوں،انھیں انگور کے رس میں ایک چمچہ شہد اور دو پسے ہوئے چھوہاروں کا سفوف ملا کر پینا چاہیے،بہت فائدہ ہو گا،جب کہ انگور کے رس میں صرف ایک چمچہ شہد ملا کر پینے سے لیکوریا کی شکایت بھی جاتی رہتی ہے۔

انگور کھانے والا فرد فالج کے خطرے سے بھی محفوظ رہتا ہے۔انگور مدافعتی قوت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔غرض انگور انتہائی صحت بخش پھل ہے،اسے اپنی روزانہ کی غذاؤں میں شامل کر لیجیے۔
تاریخ اشاعت: 2021-11-22

Your Thoughts and Comments