Angoor Sir Dard Ka Mehfooz Ilaaj

انگور سر درد کا محفوظ علاج

Angoor Sir Dard Ka Mehfooz Ilaaj

حکماء کہتے ہیں کہ درد شقیقہ کے مریضوں کے لیے انگور کاا ستعمال مفید ہے۔درد شقیقہ چند گھنٹے رہتا ہے اور کبھی کبھی اتنا شدید ہوتا ہے کہ مریض اپنا کام نہیں کر پاتا۔ایک اندازے کے مطابق دس میں سے ایک شخص اس درد میں مبتلا ہے۔انگور کے استعمال سے سردرد میں راحت پائی جاسکتی ہے۔سر درد ہونے پر انگور کا رس پینے سے جلدی افاقہ ہوتاہے۔آ پ کے سامنے انگور کے گچھے ہوں اور آپ کے ہاتھ غیر ارادی طور پر ان کی جانب بڑھیں تو ہچکچاہٹ کو رکھیں ایک طرف اور کھانا شروع کردیں کہ یہ تو پھلوں میں بہترین اسنیک ہیں ۔

ان کا دانہ دانہ رسیلا ہے۔
انگور کی غذائیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک کپ لال یا ہرے انگور میں 104گرام کیلوریز،27.3گرام کار بوہائیڈریٹ اور 1.1گرام پروٹین ہوتاہے۔

(جاری ہے)

وٹامن سی 27فیصد،وٹامن کے 28فیصد،تھائیامن7فیصد،رائبو فلان 6فیصد ،وٹامن بی سکس 6فیصد ،پوٹاشیم 8فیصد ،کاپر 10فیصد اور میگنیز 5فیصد پر مشتمل ہوتاہے۔انگور وٹامن سی ،کے اور بیٹا کروٹین سے بھر پور ہوتے ہیں،جو جسم کے اندر سے فاسد مادے نکال دیتے ہیں۔

انگور کئی امراض میں مفید ہیں۔
بلڈ پریشر میں مفید
انگور کے ایک کپ میں 288ملی گرام پوٹا شیم موجود ہوتا ہے۔پوٹاشیم بلڈ پریشر لیول متوازن رکھنے میں مدد گار ہوتا ہے ۔انگور میں موجود اجزاء خون میں چکنائی دور کرکے بلڈ پریشر اور امراض قلب سے محفوظ رکھتے ہیں۔ایک سروے سے پتا چلتا ہے کہ جن لوگوں میں سوڈیم کے بجائے پوٹاشیم کی مقدار زیادہ تھی ،ان میں امراض قلب کے باعث مرنے کا امکان کم تھا۔

ماہرین کے مطابق سرخ انگور میں ٹرانس ریسوریٹرل(Trans-Resveratrol)اور نارنجی میں ہیسپریڈن(Hesperidin)نامی مرکبات ذیابیطس ،موٹاپے اور امراض قلب کو کنٹرول کرنے میں مفید ہو سکتے ہیں۔
جلدی مسائل کی روک تھام
انگور میں موجود اجزاء عمر بڑھنے سے سامنے آنے والے علامات اور دیگر جلدی مسائل کی روک تھام کرنے کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ انگور میں موجود ایک جزResveratrolکیل مہاسوں کا باعث بننے والے بیکٹیریا کے خلاف جدوجہد کرتاہے۔
آنکھوں کے لیے بھی فائدہ مند
میامی یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ انگور کھانے سے آنکھوں کی صحت بہتر ہو سکتی ہے۔یہ پھل ڈی این اے کو نقصان سے بچا کر صحت مند خلیات کو تحفظ فراہم کرتاہے،جس سے بینائی کو فائدہ ہوتاہے۔


دماغی صحت کے لیے مفید
کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق انگورکھانے سے دماغ تنزلی کا خطرہ کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ انگورکھانے سے ان اثرات سے تحفظ میں مدد ملتی ہے جو کہ الزائمر امراض سے جڑے ہوتے ہیں۔انگور کے فوائد میں سے چند درج ذیل ہیں۔انگور کو تندرستی اور جسمانی کمزوری میں مفید بتایا جاتاہے۔

کشمش سبز چوبیس گرام اور بادام بارہ عدد رات پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ ،بادام چھیل کر دودھ کے ساتھ استعمال کرنے سے جسم موٹا ہو جائے گااور حسن وتندرستی بحال ہو گی جسم توانا بھی ہو گا۔بھوک بڑھ جائے گی۔جسمانی طور پر کمزوری کے لیے انگوروں کے موسم میں روزانہ انگور کھانا اور رات کو سوتے وقت دو چمچ شہد دودھ کے ساتھ پینا مفید ہے ۔اس سے خون بھی پیدا ہو گا اور جگر کی خرابیاں بھی دور ہو جائیں گی۔

مرگی کے مریضوں کے لیے انگور فائدہ مند ہے۔
ایسے دودھ پینے والے بچے جو دانت نکال رہے ہوں یا جن کی ماؤں کے دودھ میں کمی ہو یا باہر کا دودھ استعمال کرایا جاتا ہو یا شیر خوارگی کے امراض شدت کمزوری وغیرہ میں انگور کارس شہد ایک تہائی چمچ میں ملا کر استعمال کرانا چاہیے۔بچے کو قبض ہوتو ایک چمچ انگور کارس دینا چاہیے۔اس مقصد کے لیے انگور بڑے کا دانہ لیں۔

دانت نکلتے وقت ہر روز صبح وشام انگور کا رس دینے کے بعد بچہ نہ زیادہ روتا ہے اور نہ اسے دانت نکلنے میں زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔انگور کے استعمال سے بچے کو سوکھے کی بیماری بھی نہیں ہونے پاتی۔کمزور اور سوکھے کے مرض میں مبتلا بچوں کو بھی انگور کا رس پلانا مفید بتایا جاتاہے۔
گنج کے لیے کشمش (انگور خشک)عمدہ ایک حصہ اور ایلوویرا نصف حصہ لے کر خوب پیس لیں اور پانی ملا کر لیپ تیار کریں ۔

چند روز یہی لیپ لگانے سے گنج کی بیماری دور ہو کر عمدہ بال آسکتے ہیں۔دل کی دھڑکن اور گھبراہٹ کے لیے کشمش سبز عمدہ ساٹھ گرام لے کر عرق گلاب چوبیس گرام ملا کررکھ دیجیے صبح کے وقت پہلے کشمش کھلا کر پھر عرق گلاب میں قدرے مصری ملا کر پلائیے۔گھبراہٹ میں آرام آئے گا۔مویز منقیٰ پندرہ دانہ یعنی وہ کشمش جس میں سے بیج نکال دیے گئے ہوں، سرکہ انگوری پیالہ میں رات بھر بھگورکھیے صبح قدرے نمک ،و کالی مرچ لگا کر کھلائیے،یہ یرقان میں مفید ہے۔


قبض کو امراض کی جڑ تصور کیا جاتاہے اس کے لیے چند روز تک متواتر میٹھی کشمش جس میں ترشی کم ہو تقریباً چالیس گرام روز کھانے چاہئیں۔مویز منقیٰ کے پندرہ بیس دانے چوبیس گھنٹے ایک گلاس میں بھگو دیے جائیں اور صبح کے وقت نہار منہ ان کا پانی نتھار کر پی لیا جائے اور بھیگا ہوا مویز منقیٰ کھالیا جائے۔ یہ قبض میں مفید ہے۔انگور کے تھوڑے سے رس میں ہم وزن شہد ملا کر استعمال کیا جائے تو رنگت نکھر آتی ہے۔

پیشاب قطرہ قطرہ آتا ہوتو،مویز منقیٰ تین عدد ایک ایک سیاہ مرچ کا دانہ ان میں رکھ کر رات کو کھانا چاہیے۔حسن کے نکھار کے لیے مساج آئل ،لپ بام،بالوں کی نشوونما اور نگہداشت کی کریموں کے علاوہ باڈی کریموں میں انگور کا رس استعمال کیا جاتاہے۔انگور میں شامل وٹامن اے ،سی ،بی 6اور فولیٹ کے علاوہ ضروری معدنیات مثلاً پوٹاشیم،کیلشیم ،آئرن ،فاسفورس ،میگنیزیئم اور سیلینئیم جو ہماری قوت مدافعت کو مستحکم کرتے ہیں۔


Dyspepsiaاور سینے کی جلن میں بھی انگوروں کے چند دانے کھالیے جائیں تو افاقہ ہوتا ہے۔کام کے دباؤ اور تھکن کی کیفیت میں چند دانے طبیعت بحال کر دیتے ہیں ۔ان میں موجود اینٹی آکسیڈینٹس قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے۔گوشت خورافراد کو انگوروں کا استعمال بڑھا دینا چاہیے۔بینائی کی دھند لاہٹ دور کرنے اور بڑھتی ہوئی عمر کی پیچیدگیوں سے بچاؤ کے لیے دن میں تین مرتبہ آٹھ دس دانے کھانا مفید ہیں۔

کینسر سے بچاؤ اور فری ریڈیکلز کے آزادانہ افعال جاری رکھنے کے لیے انگور استعمال کیا جانا مفید بتایا جاتاہے۔سرخ انگور اینٹی بیکٹیریل یعنی جراثیم کش ہے۔
ایک متعدی جلدی بیماری جس میں جسم پر آبلے پڑ جاتے ہیں،حکماء اسے نمل کہتے ہیں۔اس کی روک تھام کے لیے انگورکھانا مفید بتایا جاتاہے۔علاوہ ازیں یہ آنتوں کی سوزش کا خاتمہ کرتے ہیں ۔

ہر موسمی پھل کو اس موسم میں استعما ل کرنے ہی سے غذائیت حاصل ہوتی ہے ۔انگور کسی بھی رنگ کا ہو اسے سالم کھائیے یا جوس کی شکل میں استعمال کیجیے۔انگوروں میں ایک مادہ رزویراٹرول Resveratrolپایا جاتا ہے جو کہ پولی فینولک فائیٹو کیمیکل پر مشتمل ہوتاہے۔رزویراٹرول ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو کہ بڑی آنت اور غدودوں کے کینسر،دل کی بیماریوں ،اعصابی بیماریوں ،الزائمر اور وائرل وفنگل انفیکشن کے خلاف مفید ہے۔

تاریخ اشاعت: 2019-10-04

Your Thoughts and Comments