Anjeer Mualjati Khobiyon Se Bharpoor Gazayiyat Bakhash Phal

انجیر معالجاتی خوبیوں سے بھر پور غذائیت بخش پھل

Anjeer Mualjati Khobiyon Se Bharpoor Gazayiyat Bakhash Phal
انجیر سے بہتر خون کی کمی دور کرنے کے لئے کوئی پھل نہیں ہے ۔انجیر ایک بین الاقوامی پھل ہے جو کھانے میں بے حد لذیذ اور غذائی اور دوائی اجزاء کا نادر مجموعہ ہے عوام اِسے”پھگوڑی“عربی میں ”تین“ اور انگریزی میں ”فگ“کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
یہ جنت کا پھل ہے‘قرآن حکیم میں اس کے شفاء بخش اثرات کی وجہ سے اس کا تذکرہ فرمایا گیا ہے ۔

انجیر‘سیاہ ‘زرد اور سفید رنگ کا مختلف ملکوں میں پایا جاتا ہے ‘پنجاب کے علاقے میں سیاہ‘کابلی زرد اور کیلے فورنیا کا انجیر سفید ہوتا ہے ۔اس کا پودا لگانے کا رواج صدیوں سے یونانی حکیموں کی طرف سے چلا آرہا ہے ۔اس کے پختہ پھل میں ساٹھ فیصد گلوکوز ہوتا ہے جس کے فوائد بازار میں بکنے والے گلوکوز سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)


بقراط حکیم نے سب سے پہلے اس شفائی پھل کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔

سیاہ انجیر میں پانی زیادہ ہوتا ہے اور ہمارے بازاروں میں ماہِ مئی میں اس کی فروخت شروع ہو جاتی ہے ۔پانی کے زیادہ اجزاء ہونے کے باعث جلد خراب ہو جاتی ہے اور اسے محفوظ ذخیرہ کرنے کا انتظام نہیں ہے۔زرد اور سفید قسم کے انجیر خشک کرکے بازاروں میں فروخت کے لئے سپلائی کئے جاتے ہیں۔
قدرت نے اس میں شکر کے علاوہ گوشت بنانے والے اور روغنی اجزاء بھی سمودےئے ہیں‘انجیر پانی اور معدنی نمکیات کا خزانہ ہے ۔

فولاد‘فاسفورس ‘تانبہ‘کیلشیم‘سوڈیم‘آیوڈین اور کیروٹین بھی انجیر میں شامل ہیں۔ وٹامن اے ‘بی اور ڈی بھی شامل ہیں۔ خالص خون پیدا کرنے کے لئے شاید اس سے سستی غذا ہمیں نہ مل سکے۔بدن کے سُرخ وسفید بنانے‘کمر مضبوط کرنے‘بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لئے قوت مدافعت پیدا کرنے اور دائمی قبض دور کرنے کے لئے یہ بے مثل غذا اور دوا ہے ۔


صدیوں سے پرانے حکیم کمزوروں‘کمی خون والوں‘دماغی اور اعصابی تھکن محسوس کرنے والوں کو اس سستے غذائیت سے بھر پور پھل کو استعمال کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔100گرام سے 400گرام تک اس کا ناشتہمیں استعمال خون بنانے کے ساتھ ساتھ ہاضمہ درست ‘معدہ ہلکا اور آنتیں صاف کر دیتا ہے ۔وہ افراد جنہیں کم بھوک لگتی ہو وہ اس کا ناشتہ کرکے اپنی بھوک بڑھا سکتے ہیں ۔

اس کا مزاج گرم اور تر ہے ۔
معدہ اسے ڈیڑھ گھنٹے میں ہضم کر لیتا ہے 200 گرام انجیر میں دو ہلکی روٹیوں اور چار انڈوں کے برابر غذائیت پائی جاتی ہے۔بڑھی ہوئی تلی(اسپلین) کو اصلی حالت پر لانے کے لئے چند دن روزانہ 60گرام سے 400گرام تک صبح کے وقت انجیر کھا کر دیسی سرکہ سے بنی ہوئی سکنجبین،تین تولے عرقِ مکو اور عرقِ بادیان پانچ پانچ تولے ملا کر استعمال کرنا اور شام کے وقت کشتہ فولاد دورتی‘نوشادر ٹھیکری والا ایک سے چاررتی تک کھانا مفید ہے ۔

بڑھے ہوئے جگر کو درست کرنے کے لئے اس طرح صبح انجیر کھا کر شام کے وقت شربت بزوری تین تولے عرقِ کاسنی دس تولہ‘عرقِ بادیان پانچ تولہ کے ساتھ کشتہ فولاد ایک سے چاررتی اور ریوند چینی باریک کی ہوئی دو سے چھ رتی تک ملا کر کھانا دو تین ہفتوں میں بفضلِ خدا جگر کو درست کر دیتا ہے ۔
قوت یاداشت بڑھانے اور دماغی کمزوری دور کرنے کے لئے اس کا ناشتہ کرکے مغز بادام سات سے اکیس عدد‘مغز اکروٹ ایک سے تین عدد اور چھوٹی الائچی ایک سے پانچ دانے تک پانی میں گھوٹ کر‘چھان کر میٹھا ملا کر پینا حافظہ مضبوط بنا دیتا ہے‘تازہ انجیر توڑنے پر جو دودھ نکلتا ہے اگر اسے اکٹھا کرکے روزانہ دو سے پانچ قطرہ تک برص(سفید داغ)‘چنبل اور ایگز یما پر لگائیں تو انشاء اللہ چند روز میں اس جگہ خراش ہو کر جلد صاف ہو جائے گی ۔

اس کے بعد روغن نارجیل لگائیں۔گلٹیوں پر اس کا دودھ لگاتے رہنے سے غدودیں آہستہ آہستہ زائل ہو جاتی ہے ۔انجیر میں قدرت نے زہریلے اثرات دور کرنے کی بھی خاصیت رکھی ہے ۔
آج کل کے ایٹمی دور میں جبکہ زہریلی دواؤں اور گیسوں کا استعمال عام ہورہا ہے ۔انجیر کھاکر 11/2سے6گرام تک کلونجی پیس کر پھانک لینا زہریلے اثرات سے محفوظ رکھتا ہے‘بلغمی کھانسی‘فالج‘چھوٹے بڑے جوڑوں کے درد’بدن سُن ہونے اور مرگی کے مریضوں کو اس پھل کو استعمال کرکے فائدہ حاصل کرنا چاہئے۔

انجیر کھانے سے بعض نازک مزاجوں کی زبان پر خراش ہوجاتی ہے جبکہ پانی میں بھگو کر استعمال کرنے سے اس کاخطرہ ٹل جاتا ہے۔
(زُبدة الحکماء حکیم نور احمد)
انجیر اپنے طبی فوائد کے لحاظ سے بہت ہی اہم پھل ہے ۔پاکستان اور ہندوستان سے زیادہ یہ پھل یونان‘ترکی‘اسپین اور جنوبی فرانس میں پیدا ہوتا ہے اور زیادہ تر وہیں سے درآمد کیا جاتا ہے۔

انجیر ہلکاقبض کشا ہے ۔اس میں غذائیت کی مقدار بھی اچھی خاصی ہوتی ہے ۔اطباء کے نزدیک اس کا لعاب آنتوں سے غذا کو پھسلا کر خارج کرتا ہے ۔اس لحاظ سے قبض دور کرنے میں اس کو اہمیت حاصل ہے۔انجیر گلے اور ناک کی چھوت کو دور کرتا ہے ۔اس کو پکا کریابھون کر اس کی پلٹس بنا کر رسولیوں پر لگائی جاتی ہے اور وہ پھوٹ پڑتی ہیں۔انجیر کا دودھ بواسیری مسوں کا علاج ہے ۔

دودھ لگانے سے ہلکا ساورم آتا ہے ‘لیکن خود بخود دور ہو جاتا ہے اور مساجھڑ جاتا ہے ۔یہ بلغم کو پکا کر خارج کرتا ہے ۔اس کے استعمال سے پیشاب کھل کر آتا ہے۔یہ پسینہ بھی لاتا ہے ۔اس سے تلی کا ورم اور جگرکی سختی دور ہو جاتی ہے ۔چونکہ یہ پیشاب آور ہے اس لئے گردے اور مثانے کی پتھری بھی نکالتا ہے ۔اس مقصد کے لئے پانچ دانے روزانہ کھلانانافع ہے۔
غذائی اجزاء
سوگرام انجیر میں 214حرارے‘4گرام پروٹین 29گرام نشاستہ‘1گرام چکنائی اور 19گرام ریشہ (پھوک)پایاجاتاہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-06-12

Your Thoughts and Comments