Chocolate - Muhafiz E Dil O Dimagh - Article No. 2311

چاکلیٹ ۔ محافظِ دل و دماغ - تحریر نمبر 2311

منگل 30 نومبر 2021

Chocolate - Muhafiz E Dil O Dimagh - Article No. 2311
نسرین شاہین
سب کی پسندیدہ ترین غذا،یعنی چاکلیٹ اپنے شان دار ذائقے اور مزے کی وجہ سے پوری دنیا میں بے حد مشہور ہے۔امریکی سائنس دانوں کے مطابق گہرے رنگ کا چاکلیٹ کھانے کے جہاں دیگر بہت سے فائدے ہیں،وہاں یہ جسم کی اندرونی جلن اور ذہنی تناؤ کو بھی کم کرتا ہے ۔یہ مزاج،یادداشت اور جسم کے دفاعی نظام کو بہتر کرتا ہے۔

چاکلیٹ میں مفید فلیوونائیڈز (Flavonoids) پائے جاتے ہیں،جو جسم پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق گہرے رنگ کے چاکلیٹ میں دل و دماغ کے محافظ،یعنی مانع تکسید اجزاء (Antioxidants) کی بھی زیادہ مقدار ہوتی ہے۔
گہرے رنگ کے چاکلیٹ میں ایسے اجزاء بھی پائے جاتے ہیں،جو ہائی بلڈ پریشر کو معمول پر لے آتے ہیں۔چاکلیٹ کی مناسب مقدار کھانے سے اتنا ہی فائدہ پہنچ سکتا ہے،جتنا درد میں افاقے اور بخار میں کمی کے لئے ایسپرین کھانے سے پہنچتا ہے۔

(جاری ہے)

گہرے رنگ والے چاکلیٹ میں کوکو (Cocoa) کی 70 فیصد تک مقدار ہوتی ہے،جب کہ عام چاکلیٹ میں کوکو کی مقدار کم ہوتی ہے۔کوکو ایک پودے کے بیج ہوتے ہیں،جنھیں پیس کر سفوف (پاؤڈر) بنا لیا جاتا ہے،جس میں اکثر دوسرے اجزاء بھی شامل کیے جاتے ہیں۔کوکو کے بیجوں میں ایسے کیمیائی اجزاء بھی پائے جاتے ہیں،جو بلڈ پریشر کو قابو میں کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

یہ اجزاء شورے کے تیزاب (Nitric Acid) کی پیداوار میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں،جو نہ صرف خون کے دوران کو مناسب سطح پر رکھتا ہے،بلکہ دل اور خون کی شریانوں کی صحت بھی برقرار رکھتا ہے۔
کوکو کے بیج پودوں سے حاصل کیے جاتے ہیں۔پھر انھیں پیس کر ان کا سفوف بنا کر مختلف قسم کے ذائقے دار چاکلیٹ بنائے جاتے ہیں۔کوکو کے پودے وسطی امریکہ کے ممالک میں پائے جاتے ہیں،مثلاً برازیل اور میکسیکو وغیرہ میں۔

ان کے علاوہ یہ پودے گھانا،نائجیریا اور بعض دوسرے ملکوں میں بھی ہوتے ہیں۔چاکلیٹ 500 برس پہلے بنانا شروع کیا گیا تھا۔کوکو کے پودے میکسیکو اور وسطی امریکہ میں بہت پہلے سے کاشت کیے جاتے تھے۔میکسیکو کے قبائل کوکو کے پودوں کی کاشت قدیم زمانے سے کیا کرتے تھے۔ان کا عقیدہ تھا کہ ان کے دیوتا کوکو کے بیج اپنے ساتھ جنت سے لے کر آتے تھے،تاکہ اس کے پودے کو انسانوں میں متعارف کروا سکیں اور وہ اس کے بیج کھا کر عقل مند اور ہوشیار ہو جائیں۔

یہ قبائل اس زمانے میں ان بیجوں کو کرنسی کے طور پر بھی استعمال کیا کرتے تھے۔قبیلے کے بادشاہ یا سردار کو ٹیکس دینے کے لئے یہ بیج ہی پیش کیے جاتے تھے۔1528ء میں اسپینی فاتح ہارنانڈوے نے میکسیکو کو فتح کیا اور واپسی میں اپنے ساتھ کوکو کے بیج اسپین لے گیا۔یوں اسپین میں کوکو کا پودا کاشت کیا جانے لگا۔چند برسوں کے بعد دوسرے یورپی ممالک نے بھی ان بیجوں کے سفوف سے مشروبات تیار کرکے پینے شروع کر دیے۔

ان ممالک میں آسٹریلیا،انگلینڈ اور فرانس وغیرہ شامل تھے۔پھر اسپین کے باورچیوں نے پہلی بار کوکو کے بیجوں کے سفوف میں چینی بھی شامل کی۔
آج دنیا بھر میں سب سے زیادہ چاکلیٹ امریکہ میں کھایا جاتا ہے،جب کہ گھانا،برازیل اور نائجیریا کوکو کے پودے پیدا کرنے والے ملکوں میں شامل ہیں۔ان پودوں کے بیجوں سے صرف سفوف ہی نہیں،بلکہ کوکو بٹر (مکھن) بھی حاصل کیا جاتا ہے،جو ٹافیوں اور بعض ادویہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

کوکو بٹر اصل میں کوکو کے بیجوں سے حاصل کردہ چکنائی ہوتی ہے،جو مٹھائیوں اور سنگار کی اشیاء میں استعمال کی جاتی ہے۔کوکو کے بیج لوبیا (ماش کی قسم کا ایک پودا،جس کی کچی پھلیوں اور دانوں کو پکا کر کھاتے ہیں) کے بیجوں کی طرح ہوتے ہیں،جنھیں پیس کر اُن کے سفوف سے چاکلیٹ بنائے جاتے ہیں۔چاکلیٹ کی کڑواہٹ یا تلخی دُور کرنے کے لئے اس میں چینی شامل کی جاتی ہے۔

کوکو بٹر قدرتی طور پر کوکو کے بیجوں میں پایا جاتا ہے۔
کوکو کے پودے اونچے درختوں کے درمیان اُگائے جاتے ہیں۔ان کی نشوونما کے لئے سورج کی گرمی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔یہ پودے کافی بلند ہوتے ہیں۔ان میں پھول اور پھل لگتے ہیں،جو سارا سال لگے رہتے ہیں۔اس کے پھل بادام کی شکل کے ہوتے ہیں۔ پک جانے کی صورت میں یہ بیج کی شکل اختیار کرکے خشک ہو جاتے ہیں اور کوکو کے بیج کہلاتے ہیں۔

ان بیجوں کو پیس کر گہرے بھورے رنگ کا سفوف تیار کر لیا جاتا ہے۔پھر اس سفوف سے مختلف قسم کے مزے دار چاکلیٹ بنائے جاتے ہیں۔یہ سفوف دودھ میں ڈال کر بھی پیا جاتا ہے۔سفوف شامل کرنے سے دودھ کا ذائقہ اور مزہ بڑھ جاتا ہے۔
چاکلیٹ کا لفظ اصل میں مایا زبان کے دو الفاظ کو ملا کر بنایا گیا ہے،جس کے معنی ہیں:کھٹا پانی۔کوکو کے بیجوں سے بنے ہوئے چاکلیٹ کی کئی اقسام ہیں،مثلاً ہلکا تلخ چاکلیٹ،دودھ سے بنا ہوا چاکلیٹ اور بہت میٹھا چاکلیٹ وغیرہ۔

یہ سب سیال چاکلیٹ سے بنائے جاتے ہیں۔ بیکری والے،مٹھائی والے،آئس کریم والے اور مختلف اشیاء بنانے والے اپنی مصنوعات میں کوکو کا سفوف استعمال کرتے ہیں۔اٹھارھویں صدی میں ہالینڈ کے ایک سائنسدان نے چاکلیٹ کو بار (Bar)،یعنی لمبی شکل میں تیار کیا۔اس کے 50 سال کے بعد کوکو کے سفوف میں دودھ شامل کرکے مختلف قسم کے چاکلیٹ بنائے گئے۔پھر انیسویں صدی میں ماڈرن چاکلیٹ انڈسٹری وجود میں آئی اور آج چاکلیٹ کئی طرح کے رنگوں اور نت نئی قسموں میں دستیاب ہے۔

چاکلیٹ ایک ایسی مرغوب ترین غذا ہے،جسے بچے اور بڑے سب ہی بہت شوق سے کھاتے ہیں،لیکن اسے اعتدال سے کھانا چاہیے،کیونکہ اس میں کیفین کے علاوہ ایک دوسرا جزو بھی ہوتا ہے،جو زیادہ کھانے کی صورت میں کھانے والے کے اعصاب پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ان سب کے باوجود چاکلیٹ دنیا بھر کے لوگوں کی پسندیدہ ترین غذا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-11-30

Your Thoughts and Comments