Coffee Thandi Ho Ya Garam Hoti Mazedar Hai - Article No. 2625

کافی ٹھنڈی ہو یا گرم ہوتی مزیدار ہے - تحریر نمبر 2625

جمعرات 19 جنوری 2023

Coffee Thandi Ho Ya Garam Hoti Mazedar Hai - Article No. 2625
موسم سرما میں علی الصبح یا دھند آلود سہ پہر میں فیملی یا دوست احباب کے ساتھ پرسکون ماحول میں تازہ دم ہونے کے لئے کافی سے بہتر کوئی مشروب نہیں۔کافی کا استعمال نہ صرف دماغ کے بند دریچے کھول دیتا ہے بلکہ جسمانی اور ذہنی استعداد کار میں اضافہ کر دیتا ہے۔اس کی وجہ کافی میں موجود کیفین ہے۔کیفین کا تعلق زین تھین نامی مرکبات سے ہے جس کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔


کافی آج دنیا کے مقبول ترین مشروبات میں سے ہے اور تقریباً دنیا کے ہر خطے میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ویسے تو اب یہ سارا سال استعمال ہوتی ہے مگر موسم سرما میں اس کا استعمال بڑھ جاتا ہے اور اس کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔
ہمارے ہاں اب سردی کی آمد آمد ہے۔سردی کے آتے ہی کولڈ ڈرنکس کی جگہ کافی اور چائے لے لیتی ہیں۔

(جاری ہے)

ملازمت پیشہ،دفتری کام کرنے والے اور طلبہ سردی کی شدت کم کرنے اور دن بھر کی جسمانی تھکن ختم کرنے کے لئے کافی ضرور استعمال کرتے ہیں کیونکہ اسے پینے سے محسوس ہوتا ہے کہ جسم میں چستی و طاقت آ گئی ہے اور کام کرنے کی امنگ پیدا ہو جاتی ہے۔

طلبہ خصوصاً امتحانی ایام میں خود کو مستعد اور رات بھر جاگ کر تیاری کرنے کے لئے کافی یا چائے کا استعمال کرتے ہیں۔
آج انگلینڈ میں کافی کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں تین ہزار سے زیادہ کافی ہاؤسسز ہیں اور صورتحال یوں ہے کہ دنیا میں 70 سے زیادہ ممالک میں 40 سے 80 اقسام کی کافی کاشت کی جاتی ہے۔مغربی ملک برازیل دنیا میں کافی برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

جبکہ دوسرے نمبر پر ویت نام اور تیسرے پر کولمبیا ہے۔یمن چونکہ اس کا آبائی گھر ہے اس لئے یمن کی کافی کو دنیا بھر میں شہرت حاصل ہے۔اس کے رنگ،خوشبو اور ذائقہ کا کوئی دوسرا ثانی نہیں۔اس کے بعد عربی کافی اور پھر امریکہ کی کافی شہرت رکھتی ہے۔
کافی کے فوائد
کافی میں موجود کیفین کے باعث کافی پینے والے سینے میں خرخراہٹ اور سانس کے دوسرے امراض سے محفوظ رہتے ہیں۔


کافی مضر قلب چکنائی ایچ ڈی ایل اور مفید قلب چکنائی ایل ڈی ایل دونوں کی سطح کو بڑھا کر توازن قائم رکھتی ہے۔اس لئے توازن سے استعمال قلب کے مضر ثابت نہیں ہوتی۔
کافی ذیابیطس قسم دوم کی شکایت کی سطح کم کرتی ہے کیونکہ اس میں مختلف مانع تکسید اجزاء موجود ہوتے ہیں دوسرا اس میں میگنیزیئم،جست (زنک) اور دیگر معدنی اجزاء خون میں شکر کی سطح کم رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

تیسرا کافی جسم میں ہضم کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔
نقصانات
خون میں کولیسٹرول کی سطح بڑھ جاتی ہے۔اگر کافی صحیح طرح بنائی جائے یعنی فلٹر کی جائے تو اس طرح چکنائی دور کرکے کولیسٹرول کی سطح کم ہوتی ہے۔
کافی کے نئی ماؤں پر مضر اثرات ہو سکتے ہیں لہٰذا احتیاط کریں۔
جدید تحقیق
امریکا کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق یہ خیال درست نہیں ہے کہ کافی پینا مضر صحت ہے بلکہ کافی کا معتدل استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

مثلاً جو لوگ دن میں تین کپ کافی پیتے ہیں ان کے پارکسن (رعشہ) میں مبتلا ہونے کے امکانات 20 فیصد کم ہوتے ہیں۔
اسکول آف ہیلتھ ہارڈورڈ کے مطابق روزانہ چھ کپ کافی پینے والوں میں ذیابیطس دوم میں مبتلا ہونے کے امکانات 50 فیصد کم ہوتے ہیں۔
جاپان کے کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق چار کپ کافی پینے والے کے جگر کے سرطان میں مبتلا ہونے کے 50 فیصد خطرات کم ہو جاتے ہیں۔


برٹش ڈایا بیٹک ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بیان کردہ مقدار سے زیادہ استعمال طبیعت میں بے چینی اور مزاج میں الجھن پیدا کرتی ہے۔متوقع ماؤں کو دو کپ کافی سے زیادہ استعمال نہیں کرنی چاہئے۔
ایک تحقیق کے مطابق کافی میں پائی جانے والی کیفین خون کی نالیوں کی سوزش کم کرتی اور سر درد میں افاقہ دیتی ہے۔
گوشت کی ڈشز کو خوش رنگ اور مزیدار بنانے کے لئے دیگچی میں ایک کپ کافی شامل کر دیں۔گوشت مزیدار ہو جائے گا۔
کافی کا پاؤڈر چہرے کی صفائی کے لئے بہترین ہے۔موسم سرما میں اکثر جلد خشک ہو جاتی ہے اس کے لئے کافی کا پاؤڈر چہرے پر رگڑیں چہرے کی جلد صاف و شفاف ہو جائے گی۔
تاریخ اشاعت: 2023-01-19

Your Thoughts and Comments