Ghizaiyat Bhare Mewe - Article No. 2343

غذائیت بھرے میوے - تحریر نمبر 2343

جمعہ 7 جنوری 2022

Ghizaiyat Bhare Mewe - Article No. 2343
خشک ہوائیں اور سرما کی پہلی پہلی رُت ہمارے آپ کے آنگنوں میں اُتر آئی ہے۔اس موسم کے پکوانوں سے سجا آپ کا یہ رسالہ سردیوں کی کچھ اور سوغاتیں لئے آپ کے ہاتھوں میں آیا ہے۔بات شروع کرتے ہیں موسم سرما کی خاص غذاؤں یعنی خشک میوہ جات سے ․․․ بادام، پستہ،اخروٹ،مونگ پھلی،کاجو،چلغوزے اور انجیر صدیوں سے صحت بخش اور غذائیت سے بھرپور میوے تسلیم کئے گئے ہیں۔

سردیوں کی لمبی راتیں،نرم و گداز لحاف اور خشک میوہ جات یہ سب چیزیں ایک ایسا ماحول تخلیق کر دیتی ہیں جن سے باتوں کی خوشبو بھی آتی ہے۔کھانے والے توانا بھی رہتے ہیں اور موسم کا صحیح معنوں میں لطف بھی اُٹھاتے ہیں۔آپ بھی باتوں کی چاشنی کے ساتھ ساتھ اپنے دل و دماغ اور دیگر جسمانی اعضاء کو تقویت پہنچائیں اور ذیل میں درج ان میوہ جات کی افادیت یاد رکھئے․․․․
اخروٹ
100 گرام میں 691 کیلوریز ہیں
یہ میوہ اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کے حصول کا موثر ترین ذریعہ ہے۔

(جاری ہے)

یہ موسم کی قید سے آزاد مگر سرما کے دنوں کی خاص سوغات ہے۔دماغی صحت کے لئے اکسیر ہے۔علاوہ ازیں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دمہ،جوڑوں کی سوزش،جلدی امراض مثلاً چنبل اور ایگزیما جیسی بیماریوں سے محفوظ رکھنے والا میوہ ہے۔ایک مغربی تحقیق میں بتایا گیا کہ روغنی کھانوں کے استعمال کے بعد اخروٹ کھا لئے جائیں تو دل کی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

یہ شریانوں کی سوزش،تنگی اور بندش دور کرتا ہے۔قدیم حکماء آج بھی شہد اور اخروٹ کو باہم ملا کر بچوں کو امتحانات کے دنوں میں کھانے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ یہ یادداشت بہتر بناتا ہے۔کم سے کم دو اور زیادہ سے زیادہ 4 اخروٹ کھانا مفید ہوتا ہے۔
پستہ
بھنے ہوئے سادے پستے اگر 100 گرام کی مقدار میں ہوں تو ان میں 571 کیلوریز پائی جاتی ہیں۔

اس میوے میں نہ جمنے والی چکنائی ہوتی ہے،لہٰذا اسے اچھے کولیسٹرول کی سطح بڑھتی ہے۔دل کے دورے کے امکان کم ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ میگنیشیئم،کیلسیئم،پوٹاشیم اور وٹامنز اے اور ای موجود ہیں۔ہماری دیسی مٹھائیوں اور دوسرے میٹھے مثلاً حلوے،کھیر اور فرنی میں گارنشنگ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ پستہ گرم اور خشک تاثیر رکھتا ہے۔بدن کو موٹا کرتا ہے اور حافظے کے لئے بہترین ہے۔


مونگ پھلی
100 گرام میں 567 کیلوریز
یہ میوہ انسانی جسم میں نائٹروجن اور لحمیات کی کمی کو پورا کرتا ہے۔یہ وہ غذا ہے جو غریب اور امیر یکساں طور پر استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ دیگر میووں کے مقابلے میں سستی ہوتی ہے۔اچھی بھنی ہوئی مونگ پھلی بلغم نہیں کرتی اور اگر اس کے ساتھ گڑ کھا لیا جائے تو یہ شکایت پیدا نہیں ہوتی یعنی کھانسی نہیں ہوتی۔

مونگ پھلی فولاد (آئرن) کا خزانہ ہے۔اسے کھانے سے جسم میں خون کی کمی دور ہوتی ہے۔وٹامن D،کیلشیم، پوٹاشیم،کاربوہائیڈریٹس اور وٹامن B6 جیسے مقوی اجزاء مونگ پھلی میں پائے جاتے ہیں۔
کاجو
100 گرام کاجو میں 580 کیلوریز
یہ بھی فولاد سے بھرپور میوہ ہے۔اس کے علاوہ کاجو میں زنک کی بھی اچھی خاصی مقدار موجود ہے جو جسمانی افزائش کے لئے اہم جز ہے۔

مدافعتی نظام بھی بہتر کرنے کی صلاحیت سے مالا مال میوہ ہے۔علاوہ ازیں فاسفورس،میگنیز،وٹامن B اور فولیٹ کے حصول کے لئے بھی اچھا ہے۔اسے بھی شہد کے ساتھ کھایا جائے تو بھولنے کی بیماری سے تحفظ ملتا ہے۔دانتوں،گردوں،وزن کی زیادتی،نیند کی کمی اور جوڑوں کے درد میں اکسیر میوہ ہے۔
خشک خوبانی
سردیوں میں اس میوے کا لطف بھی اُٹھانا چاہئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وٹامن A کی یومیہ درکار ضرورت کا 94 فیصد حصہ مہیا کرنے والا میوہ ہے۔معدنیات میں پوٹاشیم اور فائبر بھی موجود ہیں۔اسے کھانے کا بہترین وقت صبح کا ہے۔یہ زائد حراروں (کیلوریز) پر مشتمل نہیں اس لئے وزن بڑھنے کا خدشہ نہیں ہوتا۔دماغی صحت کے لئے بہترین میوہ ہے اگر اعتدال سے نہ کھایا جائے تو گیس کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔


بادام
100 گرام باداموں میں 607 کیلوریز
یہ کاغذی ہوں یا دوسرے ان کا شمار قوت بخش اور غذائیت سے بھرپور میووں میں ہوتا ہے۔یہ نظام تنفس کی خرابیوں،دماغی کمزوری،امراض قلب،خون کی کمی اور ذیابیطس میں مفید ہے۔بادام میں کیلشیم،وٹامن E،فاسفورس،آئرن اور میگنیزیئم موجود ہیں۔
انجیر
100 گرام میں 74 کیلوریز
انجیر کے استعمال سے آنتیں صاف رہتی ہیں۔خون کا دباؤ نارمل رہتا ہے۔سانس کے امراض،کھانسی،جوڑوں کا درد،پرانی قبض اور گلے کی خراش میں بے حد مفید میوہ ہے۔پروٹین،ڈائٹری فائبر،وٹامن A،C،پوٹاشیم کے علاوہ آئرن اور کیلشیم بھی پائے جاتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2022-01-07

Your Thoughts and Comments