Kareele Ki Karwahat Per Maat Jayeen!

کریلے کی کڑواہٹ پر مت جائیے!

Kareele Ki Karwahat Per Maat Jayeen!
حالیہ تحقیق سے واضح ہوا ہے کہ کریلا ثیابیطس کے علاج میں مفید ہے۔اس میں انسولین سے ملتا جلتا ایک مادہ پایا گیا ہے جو خون میں شوگر کی مقدار کم کرتا ہے۔اپنے مفید خواص کی وجہ سے کریلا ذیابیطس کے مریضوں کی غذاکا حصہ بننا چاہیے۔غذا میں کریلے کا بیج پیس کر شامل کیاجائے تو افادیت میں اضافہ ہو جاتا ہے اگر ایسا کرنا پسند نہ ہو تو کریلے کے ٹکڑے کرکے انہیں ابال لیا جائے اور پانی کو پیا جائے۔


”کریلا!وہ بھی نیم چڑھا۔“یہ وہ زبان زدعام ضرب المثل ہے جسے ہمارے یہاں تلخ گووبد دماغ شخص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،لیکن کریلے ایسی صحت بخش خوبیوں سے بھر پور سبزی کا تعلق کسی بھی فرد کے لہجے کو تلخ کرنے سے قطعی جوڑا نہیں جا سکتا۔کریلے کو مختلف ناموں سے پکارا جاتاہے،جیسے کہ بٹر گارڈ(Bitter Gourd)،بالسم پیئر (Balsam Pear)،بٹرکوکمبر(Bitter Cucumber)اورمومورڈیکا(Momordica) وغیرہ۔

(جاری ہے)

دیوار،درخت یا لکڑی کے تختوں یا کھمبوں کے سہارے تیزی سے بڑھنے والی کریلے کی بیل میں ونیلا جیسی خوشبو بکھیرتے پیلے رنگ کے خوشنما پھولوں سے مفید سبزی پیدا ہوتی ہے یہ سبزی آئرن، اسکاربک ایسڈ(Ascorbic Acid)اور وٹامنز ومنرلز کے حصول کا بہترین غذائی ذریعہ بھی ہے۔
کریلے سے کئی مزیدار ویجی ٹیبل ڈشز بھی تیار کی جاتی ہیں۔ہلکی سی (کھانے کے قابل(Edible) کڑواہٹ اس ڈش کو ایک منفرد ذائقہ عطا کرتی ہے ۔

بہت سے لوگ اس لیے کریلے سے تیار ڈشز کھانا پسندنہیں کرتے کہ انہیں اس کی کڑواہٹ اچھی نہیں لگتی مگر وہ لوگ شاید اس کڑواہٹ کے پیچھے چھپی کئی خوبیوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔
کریلے میں کئی بیماریوں کے لیے شفاء ہے ۔یہ تاثیر میں ٹھنڈا ،ہلکا دست آور ہوتا ہے ۔اس کو استعمال کرتے رہنے سے یرقان بخار،جریان، کف ،پیٹ کے کیڑے ،پت اور خون کی خرابی جیسے امراض سے شفایابی حاصل ہوتی ہے ۔

یوں تو ان ہرے بھرے کریلوں کو اس کی بیل سے توڑنے کے بعد خشک ،اندھیری اور سردجگہ پر کئی دنوں تک محفوظ قابل استعمال حالت میں رکھا جاتا ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ انہیں فریج کے سلاد ریک میں رکھیں کہیں ہلکی نمی وگرماہٹ ان کے چمکتے سبز رنگ کو پیلاہٹ میں تبدیل نہ کردے۔
اکثر خواتین کریلا پکاتے ہوئے اس کی کڑواہٹ ختم کرنے کی غرض سے کریلے کے قتلوں کو ڈھیر سارا نمک لگاکر کچھ دیر کے لیے رکھ دیتی ہیں۔

اس کے بعد جب کریلوں کا پانی نکل جاتا ہے تو اسے صاف پانی سے دھو کر پھر پکاتی ہیں۔اس طریقے سے کریلوں میں موجود کئی صحت بخش غذائی اجزاء بشمول نمکیات خارج ہو جاتے ہیں اور اب یہ تیار سبزی محض بھوک تو مٹا سکتی ہے پر اس کی غذائی افادیت میں کمی آجاتی ہے ۔کریلوں کی کڑواہٹ ختم کرنے کی ایک ترکیب یہ ہے کہ اس کی تیاری میں پیاز کی زیادہ مقدار استعمال کریں اور آدھا کلو کریلے کی پکتی ہوئی ہانڈی میں ایک یا آدھا چائے کا چمچ چینی ملادیں۔

اس ڈش کی کڑواہٹ محسوس نہیں ہوگی۔کریلے سے مزے مزے کی ڈشز بشمول کریلا گوشت ،چکن کربلا ،دال کریلا ،کریلے کی بھجیا ،اسٹفڈ قیمہ کریلے سے لے کر کریلے کا اچار تک تیار کیا جاتاہے،ان ڈشز اور اچار کو صحت تندرسی کے حوالے سے محتاط اور کریلے کی شفاء بخش خصوصیات سے آگاہی رکھنے والے افراد شوق سے استعمال کرتے ہیں۔
کریلا معدے کے کئی امراض کے لیے ایک مفید دوا،ایک پُر ہضم غذا ہے۔

گھٹیا اور جوڑوں کے امراض (Rheumatism)نقرس یا چھوٹے جوڑوں کا درد(Gout) تلی(Spleen) وجگر کے امراض میں ایک مفید سبزی ہے۔اس سبزی کے بیج پیٹ کے کیڑے مارنے والی ادویات کی تیاری میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔کریلے کے پتوں کا پلٹس سردرد اور جلد کے جل جانے والے حصوں کے علاج کے لیے مفید بتایا جاتاہے۔کریلے کی بیل کی جڑوں سے بواسیر (hemorrhoids)کے مرض کا علاج کیا جاتاہے۔ملایا (Malaya)میں کریلے کے پتوں کی پلٹس(Poultice) سے پالتو ہاتھیوں کی سوزش زدہ آنکھوں کی سوزش کا علاج کیا جاتاہے ۔
تاریخ اشاعت: 2019-10-03

Your Thoughts and Comments