Khatte Mithey Rass Bhare Phal - Article No. 2005

کھٹے میٹھے رس بھرے پھل - تحریر نمبر 2005

جمعہ نومبر

Khatte Mithey Rass Bhare Phal - Article No. 2005
بیر
میں موسم سرما کا بڑا لذیذ اور مفید پھل ہوں۔میری تین قسمیں ہیں:پیوندی،تخمی اور جھڑبیری۔پیوندی بیر دونوں قسموں کے مقابلے میں بڑا اور خوب مزے دار ہوتا ہے،جبکہ تخمی گول ہوتا ہے اور اس میں گودا کم ہوتا ہے۔مزے میں کھٹا میٹھا ہونے کی وجہ سے لوگ اسے زیادہ پسند کرتے ہیں۔اسے کاٹھی بیر بھی کہتے ہیں۔بیر کی جنگلی قسم جھڑبیری کہلاتی ہے،جسے کوکنی بیر بھی کہتے ہیں۔

اس میں پتے کم اور کانٹے زیادہ ہوتے ہیں۔اگر غذائیت زیادہ چاہیے تو میری پیوندی قسم کھائیے،کیونکہ اس میں لحمیات (پروٹینز)،شکر یا نشاستے کے علاوہ حیاتین وٹامنز اور فاسفورس زیادہ ہوتا ہے۔میری اس قسم میں ریشہ،یعنی پھوک بھی زیادہ ہوتا ہے،جس کی وجہ سے آنتیں اپنا کام ٹھیک طرح کرتی ہیں۔

(جاری ہے)

مجھے تسلیم ہے کہ میری دو قسمیں ذرا دیر سے ہضم ہوتی ہیں اور زیادہ کھٹی ہونے کی وجہ سے ان کے کھانے سے گلا بھی خراب ہو سکتا ہے۔

اگر آپ مجھے کھائیں تو آپ کو حیاتین الف،حیاتین ب (تھایامن)،نشاستہ،کیلسیئم،رائبو فلاون،نایاسن،حیاتین ج (وٹامن سی) ،لحمیات، فولاد، فاسفورس اور حرارے جیسے صحت بخش اجزاء بہ آسانی مل جائیں گے۔
سنترہ
میرے سنترے کے نام سے نہ چونکیے،میں وہی ہوں جسے آپ پاکستان میں کینو کہتے ہیں۔میری یہ قسم پاکستان میں خوب ہوتی ہے،بلکہ اکثر لوگ مجھے سنترے یا سنگترے سے بہتر بتاتے ہیں۔

میرا تعلق ترش پھلوں کے خاندان سے ہے۔یوں تو ترشی کھانسی کے لئے مضر ہوتی ہے،لیکن خوب پکے ہوئے کینو کے چوسنے سے خشک کھانسی کو آرام ملتاہے۔میری سونے جیسی رنگت دیکھ کر مغل بادشاہ رنگیلے شاہ نے میرا نام”سونترا“رکھا تھا۔مجھ میں حیاتین الف،ب اور ج بڑی مقدار میں ہوتی ہیں۔میری ان خوبیوں کی وجہ سے مجھے کئی بیماریوں کو دور کرنے کے لئے مفید سمجھا جاتا ہے،مثلاً مجھے کھانے سے دمے،خشک کھانسی،دق وسل،نمونیے،گٹھیا اور ہائی بلڈ پریشر سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔

میری ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ میں بڑی جلدی ہضم ہو جاتا ہوں۔مجھ میں گلوکوس اور کیلسیئم بھی وافر مقدار میں ہوتے ہیں،اس لئے بہت کمزور مریضوں کے لئے میں بے حد مفید ثابت ہوتا ہوں۔مجھے کھانے سے معدے کی تیزابیت ختم ہو جاتی ہے۔میں حیاتین ج کا ایک بہترین قدرتی ذریعہ ہوں۔یہ حیاتین جسم میں مرض کا مقابلہ کرنے کی طاقت بڑھاتی ہے۔اس حیاتین کی کمی کی وجہ سے خاص طور پر مسوڑوں میں تکلیف ہو جاتی ہے۔

مسوڑے پھول جاتے ہیں اور ان سے خون رسنے لگتا ہے۔پھر ان سے پیپ اور بُو آنے لگتی ہے۔اسے ماس خورہ یا پائیوریا کہتے ہیں۔تمام پھلوں کی طرح خوب پکا ہوا کینو،یعنی سنترہ کھائیے۔ہاں،اگر آپ کا گلا خراب ہو تو پھر احتیاط کیجیے یا نمک اور کالی مرچ کے ساتھ کھائیے۔کینو بہت فائدہ مند پھل ہے،کھانا کھانے کے بعد ایک میٹھا کینو ضرور کھائیے۔
فروٹر
آپ کھٹے پھل شوق سے کھاتے ہیں۔

ان سب کا تعلق لیموں کے خاندان سے ہے۔میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔اپنے اور ساتھیوں یعنی گریپ فروٹ،مالٹے،موسمبی اور کینو کے مقابلے میں،میں چھوٹا ہوں،لیکن آپ مجھے بہت پسند کرتے ہیں۔میں دوسرے کھٹے پھلوں سے پہلے بازار میں آجاتا ہوں۔میری رنگت سرخ ہوتی ہے۔میرا چھلکا پتلا و نرم اور قاشیں ہلکی نارنجی رنگ کی ہوتی ہیں۔میں بازار میں زیادہ دنوں تک نہیں رکتا،جلدی آتا ہوں اور جلدی رخصت ہو جاتا ہوں۔

میری خوشبو اور مزے کی وجہ سے مجھے بہت پسند کیا جاتا ہے۔ میں بہت مفید پھل ہوں۔غذا کے ماہرین مٹاپے سے نجات پانے کے لئے مجھے کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔مجھے خشک کھانسی،نمونیے اور گٹھیا سے نجات کے لئے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔اپنی ہلکی ترشی کی وجہ سے میں دمے کے مریضوں کے لئے بھی مفید ثابت ہوتا ہوں۔ مجھے کھانے سے بلغم آسانی سے خارج ہو جاتا ہے اور مریض کو آرام ملتا ہے۔

حیاتین ج کے باعث میں نزلے کے لئے بھی فائدہ مند ہوں۔ بند نزلہ بہ کر خارج ہونے سے مریض کو سکون ملتا ہے اور حیاتین ج سے جسم کی قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے۔
چکوترا(گریپ فروٹ)
جی ہاں،مجھے اندازہ ہے کہ آپ مجھے پسند کرتے ہیں۔میری کڑواہٹ ملی ترشی آپ کو نہیں بھاتی۔میں ویسے بھی اور پھلوں کی نسبت ایک نیا پھل ہوں،لیکن آپ نے دیکھا ہو گا کہ میں پاکستان میں اب زیادہ نظر آنے لگا ہوں۔

اب تو ہر جوس والے کی دکان پر میں موجود ہوتا ہوں، ذرا سوچیے تو کیوں؟میرا شمار ان چند پھلوں میں ہوتاہے،جن میں جوڑوں اور ان کی کری ہڈیوں میں جمع ہونے والے کیلسیئم کو جسم سے خارج کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔میرے کھانے سے جسم کے تمام نظام تیز ہو جاتے ہیں،بلکہ یوں کہیے کہ اسمارٹ ہو جاتے ہیں،مثلاً جگر اپنا کام زیادہ عمدہ انداز میں کرنے لگتا ہے،اس طرح پتے(Gall Bladder) میں جمع پتھریاں بھی خارج ہو جاتی ہیں۔

آنتوں کا فعل میرے گودے کی وجہ سے بہتر ہو جاتا ہے۔نزلے اور اس کی وجہ سے رہنے والے بخار سے نجات مل جاتی ہے۔ہاضمہ ٹھیک ہو جاتا ہے ۔ہاں،ایک اور بات بتا دوں،مجھ میں ریشہ یعنی پھوک زیادہ ہوتا ہے۔اس سے پیٹ بھر جانے کا احساس ہوتا ہے،اس طرح کھانا کم کھایا جاتا ہے اور خون میں شکر کی مقدار حد میں رہتی ہے۔
مالٹا
شکل و صورت میں،میں موسمی جیسا ہی ہوں،لیکن اپنے ذائقے کے اعتبار سے میں سنترے سے بہت قریب ہوں۔

میرے رس میں شیرینی کے ساتھ ترشی ایک نیا مزہ دیتی ہے۔مجھے جزیرہ مالٹا سے لا کر پہلے جنوبی ہند اور پھر پنجاب میں کاشت کیا گیا۔اپنی قسم کے اعتبار سے میں کھٹے پھلوں ہی سے تعلق رکھتا ہوں،گویا میں اسی خاندان کا ایک فرد ہوں۔انگریزی میں مجھے سویٹ اورنج (Sweet Orange)، یعنی میٹھا سنترہ کہتے ہیں۔میری ایک قسم ریڈ بلڈ ( Red Blood) یعنی سرخ خون کہلاتی ہے۔

مجھ میں لیموں کی طرح سٹرک ایسڈ زیادہ ہوتا ہے اور میں بھی حیاتین ج سے بھرپور ہوتاہوں۔اس کے علاوہ مجھ میں کیلسیئم،میگنیزیئم،فولاد اور جست وغیرہ جیسے معدنی اجزاء بھی ہوتے ہیں۔سنترے اور کینو کی نسبت مجھ میں چکوترے کی طرح زیادہ ریشہ یا پھوک ہوتا ہے،اس لئے مجھے صرف چوسنا نہیں چاہیے، بلکہ میرا پھول بھی چبا کر کھانا چاہیے،اس سے آنتوں کا فعل تیز رہتاہے۔

مجھے کھانے والے افراد صفرے (Bile)کی تکلیف سے محفوظ رہتے ہیں۔آج کل اس تکلیف کو تیزابیت (Acidity) کا نام دیا جاتا ہے۔اپنی فرحت بخش خوشبو،حیاتین اور دیگر اجزاء کے باعث میں قلب کو طاقت دیتا ہوں۔میں چونکہ ترش ہوتا ہوں،اس لئے مجھے نمک اور کالی مرچ کے ساتھ کھانا چاہیے۔
انار
میں موسم سرما کا ایک بہت خوش ذائقہ اور رسیلا پھل ہوں۔

مجھے سب ہی بہت شوق سے کھاتے ہیں۔میری تین بڑی انواع ہیں:پہلی انار شیریں،دوسری انار میخوش(کھٹا میٹھا انار)اور تیسری انار ترش۔میرا اُوپر کا سخت چھلکا اُتاریں تو اندر سے بہت سارے سرخ،گلابی یا سفید دانے نکلتے ہیں۔کابلی انار کو بہترین سمجھا جاتا ہے۔مجھ میں لحمیات(پروٹینز)،کیلسیئم،فاسفورس،فولاد اور حیاتین ج پائے جاتے ہیں ۔میں جلدی امراض دور کرنے میں مفید ہوں،کیونکہ میں جگر کے فعل کو درست کرتا ہوں اور جسم سے زہریلے مادے خارج کرکے اچھا صاف ستھرا خون بناتا ہوں۔

میرا رس پیاس بجھاتا اور دل کو فرحت بخشتاہے،اس لئے طبیب میرے رس کو دل کی ادویہ کی تیاری میں شامل کرتے ہیں۔ انار شیریں،یعنی میٹھا انار ہضم کے نظام،یعنی جگر اور معدے کے فعل کو ٹھیک رکھتا ہے۔میٹھے انار کے کھانے سے خون زیادہ بنتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق مجھ میں جراثیم ہلاک کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے،اسی لئے مجھے دق وسل،یعنی ٹی بی(TB) میں مبتلا مریضوں کے لئے بہت مفید سمجھا جاتاہے۔

مجھے کھانے سے دُبلا پتلا جسم موٹا ہو جاتا ہے۔میرا میٹھا رس پینے سے پرانی کھانسی جان چھوڑ دیتی ہے۔ ترش انار کھانے سے دانت کھٹے تو ہو جاتے ہیں،لیکن یہ صحت کے لئے بے حد فائدہ مند ہے۔میرے کھانے سے دستوں کی شکایت جاتی رہتی ہے۔انار کا رس پینے سے معدہ بھی قوی ہو جاتا ہے۔کھٹا انار یرقان کے خاتمے کے لئے بہت مفید ہے۔جن لوگوں کو بھوک نہ لگتی ہو، انھیں انار کے دانے خوب چبا کر چوسنا چاہیے۔ان پر سفید زیرہ،سونٹھ اور کالا نمک چھڑک کر کھانے سے بھوک کھل جاتی ہے۔جو ارش انارین مجھ سے تیار کی گئی خاص دوا ہے۔یہ جگر کو چست کرتی،بھوک لگاتی اور خون پیدا کرتی ہے۔صفرے سے پیدا شدہ بہت سی شکایتیں اسے کھانے سے ختم ہو جاتی ہیں۔میں بہت اچھا پھل ہوں۔میرا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-11-13

Your Thoughts and Comments