Machli Ghiza Bhi Amraaz Se Tahaffuz Bhi

مچھلی غذا بھی امراض سے تحفظ بھی

Machli Ghiza Bhi Amraaz Se Tahaffuz Bhi

طبی تحقیق کے مطابق مچھلی میں موجود مختلف اچھی قسم کی چکنائیوں کے استعمال سے جسم کا مدافعتی نظام مستحکم رہتا ہے ۔اس چکنائی کو عرف عام میں اومیگا تھری کہا جاتا ہے ۔مشاہدے سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ مچھلی اور اس کا تیل باقاعدگی سے استعمال کرنے والے کئی امراض سے محفوظ رہتے ہیں ۔اومیگا تھری فیٹی ایسڈز انسانی جسم کی قوت مدافعت کو بڑھاتے ہیں اور اس طرح نہ صرف عام لوگ بیماریوں سے اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں بلکہ امراض میں مبتلا افراد کی صحت کی بحالی بھی ممکن ہے ۔


دنیا میں امراض قلب موت کی بڑی وجہ ہے جبکہ اس کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں سرطان کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ اس مہلک مرض سے ہونے والی پینتیس سے چالیس فیصد اموات کا سبب غذائی یا غذا کے نقائص ہوتے ہیں اور دل کے امراض کی طرح سرطان کا سب سے اہم سبب مضر چکنائیاں ہی ہیں ۔

(جاری ہے)


امریکہ میں واقع ایک ادارے نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق چربی کا زائد استعمال کرنے والے بیشتر افراد سینے ،قولون ،مثانے کے غدود،رحم اور لبلبے کے سرطان میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔

اس ادارے نے اپنی ریسرچ میں بتایا ہے کہ صرف امریکہ میں ہر سال سینے کے امراض میں مبتلا افراد کی اموات میں پچیس فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے اگر وہ روز مرہ کی غذا سے حاصل ہونے والے پچیس سے تیس فیصد حرارے روغنی اجزاء سے حاصل کریں ۔اسی طرح بڑی آنت (قولون)کے سرطان سے بچاؤ غذا میں ریشے کا استعمال زیادہ کرکے ممکن ہے۔
یہ خاصی حیرت انگیز بات ہے کہ نیو جرسی میں چوہوں پر اومیگا تھری چکنائیوں کا استعمال کیا گیا تو ان میں پھیپھڑوں اور مثانے کے غدود کے سرطان کا خاتمہ ہو گیا جس کی وجہ یہ تھی کہ ان چکنائیوں کے باعث ان کے اجسام میں ان کیمیائی اجزاء کی تیاری کا سلسلہ موقوف ہو گیا جو کہ سرطانی رسولیوں کا باعث ہوتے ہیں ۔

مچھلیاں کھانے والے افراد پر کی جانے والی تحقیق بھی اس بات کا انکشاف کرتی ہے کہ مچھلی نہ کھانے والوں کے مقابلے میں مچھلی کھانے والے سرطان سے محفوظ رہے ہیں ۔
یہ درست ہے کہ سرطان کا ایک سبب موروثی اثرات بھی ہوسکتے ہیں ۔ایسے افراد کو ہمہ وقت اپنے بڑھتے ہوئے وزن پر توجہ رکھنا چاہیے اور اس میں کمی کے لیے غذا میں مچھلی کا استعمال بڑھا دینا چاہیے اور روغنیات میں کمی جس حد تک ممکن ہو کر لینا چاہیے ۔

اس طرح سرطان کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ دیگر خطر ناک امراض سے تحفظ بھی ممکن ہے ۔
امراض قلب سے بچاؤ کے لیے بھی مچھلی کا استعمال مفید ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مچھلی کے استعمال کے ساتھ ہی دیگر غذائی بے اعتدالیاں جاری رہیں ۔تحقیق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مچھلی کے استعمال کے ساتھ ہی وزن میں کمی کرکے غذا میں سبزیوں اور پھلوں کا تناسب بڑھا دینا چاہیے۔

ورزش روزمرہ کے معمولات میں باقاعدگی سے شامل ہو تو اس کے اچھے اثرات ہوتے ہیں ۔
برطانیہ میں 1700ء کے زمانے میں گٹھیا کے مریضوں کا علاج مچھلی کا تیل پلا کر کیا جاتا تھا جو کہ اس وقت انتہائی بودار ہوتا تھا لیکن جو مریض اسے پی لیتے تھے وہ صحت یاب ہوجاتے تھے ۔اس حوالے سے جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ مچھلی کا تیل اور اس کا گوشت استعمال کرنے سے درد اور ورم پیدا کرنے والے اجزاء پروسٹا گلینڈن کی مقدار کم ہوجانے سے مریض شفا پا جاتے ہیں ۔


ہارورڈیونیورسٹی کے محققین نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مچھلی کے تیل کے کیپسول کھانے سے جوڑوں کے درد اور ان میں پیدا شدہ سختی سے ہونے والی تکلیف میں افاقہ ہوتا ہے ۔
جسم میں لیکوٹرین کا اضافہ سانس کی تکلیف ،دمہ ،کھانسی اور سانس پھولنے جیسے امراض کا سبب بنتا ہے مچھلی کا باقاعدہ استعمال جسم میں لیکوٹرین کی مقدار بڑھنے نہیں دیتا اور یہی وجہ ہے کہ انتہائی سرد ممالک میں مچھلی زیادہ کھانے والے افراد دمے اور کھانسی سے محفوظ رہتے ہیں ۔

کہا جاتا ہے کہ دمے کے حملے کے وقت مچھلی کا تیل استعمال کرانے سے دورے کی شدت میں کمی آجاتی ہے جن خاندانوں میں یہ مرض موروثی ہوتا ہے ان کے بچوں کو شروع سے مچھلی اور اس کا تیل استعمال کرانے سے فائدہ ہوتا ہے ۔
لبلبے کی کار کردگی میں کمی سے شوگر کا مرض ہوتا ہے ۔اس میں مبتلا افراد کی اکثریت کے خون میں چر بیلے مادے ،ٹرائی گلیسر ائیڈ خصوصاً کولیسٹرول LDLکی بلند سطح ہوتی ہے جو آخر کار ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب کا باعث بنتی ہے ۔

تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ مچھلی کھانے والے افراد میں ذیا بیطس کے باوجود مضر چکنائیوں کی سطح کم رہتی ہے ۔
جسم کے مدافعتی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مچھلی کو غذا کا ایک اہم جزوبنالیا جائے ۔ایک ہفتے میں کم از کم تین مرتبہ مچھلی کا استعمال کئی امراض سے محفوظ رکھ سکتا ہے اور جو لوگ بعض امراض میں مبتلا ہیں وہ اپنے معالج کے مشورے سے مچھلی کے گوشت اور تیل کے مناسب استعمال کے بعد صحت کی بحالی میں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔

تاریخ اشاعت: 2018-12-05

Your Thoughts and Comments