Machli Khaiye Lambi Umer Paiye - Article No. 2353

مچھلی کھائیے لمبی عمر پائیے - تحریر نمبر 2353

جمعرات 20 جنوری 2022

Machli Khaiye Lambi Umer Paiye - Article No. 2353
جاپانی دنیا میں وہ قوم ہے،جن میں سو سال یا اس سے زیادہ عمر ہونا عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔آخر اس کی وجہ کیا ہے․․․․؟
جاپانیوں کے جینز میں لمبی عمر کا راز پنہاں ہے یا کچھ اور معاملہ ہے․․․․؟
جب تحقیق ہوئی تو معلوم ہوا کہ جاپانیوں کی لمبی عمروں کا تعلق ہے براہ راست ان کی خوراک سے ہے۔جاپانی دنیا کی دیگر قوموں کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں کہ کون سی غذا کب اور کتنی اہم ہے․․․؟
جاپانیوں میں اکثریت ہفتے میں ایک مرتبہ مچھلی کا استعمال کرتی ہے۔

دالیں بھی ان کی خوراک کا لازمی حصہ ہوتی ہیں۔اسی طرح سویا اور سبزیاں جاپانی شوق سے کھاتے ہیں۔جاپان میں گویا (Goya) نامی سبزی بہت زیادہ کھائی جاتی ہے،حالانکہ اس کا ذائقہ نسبتاً تلخ ہوتا ہے، تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ گویا کے استعمال سے خون میں شوگر کی مقدار کنٹرول میں رہتی ہے۔

(جاری ہے)

جاپانیوں کی غذا کا ایک بڑا حصہ سمندر سے آتا ہے،یعنی سی فوڈ۔

جس میں مچھلی کا نمبر سب سے پہلے آتا ہے۔آئیے․․․․!خوراک میں مچھلی کے اثرات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
عمر بڑھانے میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی اہمیت
چکنائی والی اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے بھرپور مچھلی کے استعمال سے عمر طویل ہو سکتی ہے اور امراض قلب کی وجہ سے اموات کے خدشات ایک تہائی سے بھی زیادہ کم ہو سکتے ہیں۔سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ جن لوگوں کے خون میں بڑی مقدار میں فیٹی ایسڈ موجود ہوتا ہے، ان کی عمر دیگر لوگوں کے مقابلے میں تقریباً ڈھائی سال زیادہ ہوتی ہے۔


ڈپریشن سے نجات اور یکسوئی کے حصول کے لئے مچھلی کا استعمال
تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اومیگا تھری سے ذہنی یکسوئی حاصل ہوتی ہے اور کسی چیز کو یاد کرنے اور الفاظ کے ذخیرے میں اضافہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔جن ملکوں میں زیادہ مچھلی کھائی جاتی ہے،وہاں ڈپریشن کی شرح میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔مچھلیوں کی مختلف اقسام کو بدل بدل کر استعمال کرنا چاہیے تاکہ ان سے حاصل ہونے والے اجزاء کا بھرپور فائدہ اُٹھایا جا سکے۔


دوران حمل مچھلی کے فوائد
ایسی خواتین جو دوران حمل مچھلی کھائیں یا فش آئل استعمال کریں،ان کے بچوں کی دماغی نشوونما بہتر ہوتی ہے اور بہت سے مسائل اور امراض سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔
مچھلی اور ذیابیطس کے مریض
ذیابیطس کے مریضوں میں خون کی چھوٹی اور بڑی نالیوں میں خرابی سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں،جن میں آنکھوں اور گردوں کی بیماری کے ساتھ ساتھ دل کے دورے اور فالج وغیرہ جیسی بیماریاں بھی شامل ہیں۔

ذیابیطس کے مریضوں میں اچھے کولیسٹرول یا ایچ ڈی ایل کا لیول کم ہو جاتا ہے اور ٹرائی گلیسرائیڈ کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ذیابیطس کی دوسری قسم کے مریضوں میں ہائی بلڈ پریشر اور جوڑوں کی بیماری بھی عام ہے۔اس بیماری میں تین سے چار گرام فش آئل روزانہ استعمال کرنے سے خون میں ٹرائی گلیسرائیڈ کی مقدار تقریباً پچاس فیصد تک کم ہو جاتی ہے۔فش آئل کے استعمال سے دل کی بیماری سے محفوظ رہنے کے علاوہ بلڈ پریشر کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

ایک ریسرچ کے مطابق فش آئل کے استعمال سے ذیابیطس کے مریضوں میں سوزش والے کیمیکل کم ہو جاتے ہیں اور اچھے کولیسٹرول میں اضافہ ہوتا ہے۔
مچھلی کا استعمال اور دل کا دورہ
ہفتے میں دو تین بار مچھلی کھانے والے افراد میں دل کے دورے کا امکان ان لوگوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے،جو ہفتے میں صرف ایک بار یا بالکل ہی مچھلی نہیں کھاتے۔

یہ نتیجہ طویل تجزیاتی مطالعات کے نتیجے میں سامنے آیا۔ماہرین نے تیس برس کی عمر سے لے کر ایک سو تین برس بعد تک کی عمر کے چار لاکھ سے زائد انسانوں کا مسلسل مشاہدہ کیا تھا اور نتائج کے مطابق ایسے افراد میں،جو قدرے زیادہ مچھلی کھاتے تھے مچھلی نہ کھانے والوں یا بہت کم مچھلی کھانے والوں کے مقابلے میں دل کے دورے کا امکان بارہ فیصد کم تھا۔

مچھلی کسی بھی انسان کی خوراک میں غذائیت سے بھرپور عناصر یعنی اومیگا تھری پیدا کرنے کی وجہ بنتی ہے،یہی وجہ ہے کہ زیادہ مچھلی کھانے والوں میں دل کے دورے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔
مچھلی کے جگر کے تیل (Cod Liver Oil) کے فوائد
مچھلی کے جگر کا تیل جو کاڈ لیور آئل (Cod Liver Oil) کہلاتا ہے،گٹھیا کے لئے مفید ہے۔اس سے شریانیں بھی صاف اور کھلی رہتی ہیں،جس کے نتیجے میں دل صحت مند رہتا ہے۔

مچھلی کا تیل جوڑوں کے درد کی بھی دوا ہے۔ایک چائے کا چمچ صبح یا رات کو استعمال کرنے سے جوڑوں کے درد میں فائدہ مند ہوتا ہے،مگر اس کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔مچھلی کا تیل خون کی شریانوں کی دیواروں کو رکاوٹوں سے بچاتا ہے۔طبی تحقیق و مطالعوں سے معلوم ہوا ہے کہ مچھلی میں موجود مختلف قسم کی چکنائیوں کے استعمال سے جسم کا مدافعتی نظام مستحکم رہتا ہے۔

مچھلیوں کی چکنائی کو عرف عام میں اومیگا تھری کہا جاتا ہے۔
کینسر سے بچاؤ
ساری دنیا میں امراض قلب کو سب سے بڑا قاتل قرار دیا جاتا ہے۔اس کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں سرطان کی وجہ سے واقع ہو رہی ہیں۔یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ اس مہلک مرض یعنی کینسر سے واقع ہونے والی پینتیس سے چالیس فیصد اموات کا سبب غذائی بے اعتدالی یا غذا کے نقائص ہوتے ہیں۔

دل کے امراض کی طرح سرطان کا سب سے اہم سبب مضر چکنائیاں ہی ہوتی ہیں۔امریکہ میں واقع ایک ادارے نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق کے مطابق چربی کا زائد استعمال کرنے والے بیشتر افراد سینے،قولون،مثانے کے غدود،رحم،بیضہ دانی اور لبلبے کے سرطان میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔اس ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر سال سینے کے امراض میں مبتلا افراد کی اموات میں پچیس فیصد کمی واقع ہو سکتی ہے اگر وہ روزمرہ کی غذا سے حاصل ہونے والے پچیس سے تیس فیصد حرارے روغنی اجزاء سے حاصل کریں۔

اسی طرح بڑی آنت (قولون) کے سرطان سے بچاؤ غذا میں ریشے کا استعمال بڑھا دینے سے ممکن ہے۔
چنبل
چنبل بھی ایک ایسا تکلیف دہ مرض ہے جو بڑی مشکل سے رفع ہوتا ہے۔جب دو ماہ تک ایک درجن مریضوں کو مچھلی کا تیل استعمال کرایا گیا تو ان کی تکلیف میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔خاص طور پر دواؤں کے استعمال کے ساتھ مچھلی کا تیل استعمال کرانے کے زیادہ بہتر نتائج برآمد ہوئے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھلی میں ایسے بہت سے اجزاء موجود ہیں جو صرف مچھلی کے استعمال سے ہی جسم کو مہیا ہوتے ہیں،لیکن اگر کوئی دوسری سمندری غذا استعمال کر لی جائے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں۔البتہ جھینگے کا استعمال زیادہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جھینگوں میں کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2022-01-20

Your Thoughts and Comments