Mein Sharifa Hoon - Article No. 2116

میں شریفہ ہوں - تحریر نمبر 2116

ہفتہ 27 مارچ 2021

Mein Sharifa Hoon - Article No. 2116
میرا شمار خودرو جنگلی پھلوں میں ہوتا ہے،لیکن اب لوگ مجھے اپنے گھروں کے باغوں میں لگانے لگے ہیں۔مجھے آپ شریفہ کہتے ہیں،جب کہ ہندوستان میں مجھے زیادہ تر سیتا پھل کے نام سے پکارا جاتا ہے۔میرا شمار بہت میٹھے پھلوں میں ہوتا ہے۔خوب پک جاؤں تو شیرہ ٹپکنے لگتا ہے۔بھارت کے وسط سے جنوب کے دور دراز ساحلوں کے جنگلوں میں خوب پیدا ہوتا ہوں۔

میرے شوقین مجھے سندھ لے آئے ہیں۔اس کی مٹی اور آب و ہوا مجھے خوب راس آئی اور اب میری باقاعدہ کاشت ہونے لگی ہے۔
مجھ میں گلوکوس خوب ہوتی ہے۔اس کے علاوہ مجھ میں حیاتین ج(وٹامن سی) بھی ہوتی ہے۔ان دونوں کی وجہ سے میں جسم میں توانائی اور حرارت پیدا کرتا ہوں۔
میرے گودے سے آنتیں چشت رہتی ہیں،بھوک کُھل کر لگتی ہے اور غذا اچھی طرح ہضم ہو جاتی ہے۔

(جاری ہے)

میرا گودا جسم سے خراب مادے سمیٹ کر انھیں خارج کر دیتا ہے۔مجھے کھانے سے دل کو طاقت ملتی ہے اور گھبراہٹ کی شکایت دور ہو جاتی ہے۔میرے کچے پھل کو سکھا کر اس کا سفوف کھلانے سے پیٹ کے کیڑے ہلاک ہو کر خارج ہو جاتے ہیں۔تازہ شریفے کھانے کے لئے اپنے باغ میں میرا پودا لگائیے اور مجھے کھا کر صحت پائیے،میں نے اپنا انگریزی نام تو بتایا ہی نہیں۔

مجھے کسٹرڈ ایپل (Custard Apple) کہتے ہیں اور یہ بھی مشہور ہے کہ مجھے ویسٹ انڈیز سے لا کر پہلے جنوبی ہند کے صوبے چنائی(مدراس) اور آندھرا میں لگایا گیا۔پھر میں خودرو جنگلوں میں تبدیل ہو گیا۔جنوبی ہند میں نہار منہ مجھے پیٹ بھر کر کھا کر اوپر سے باسی پانی پی لینے کو پیٹ کے کیڑوں سے چھٹکارا پانے کے لئے موٴثر سمجھا جاتا ہے۔میرے کالے بیجوں سے تیل بھی حاصل ہوتا ہے،جو اچھا کیڑے مار ثابت ہوتا ہے۔


میرے تازہ پتوں کو باریک پیس کر اور بھجیا بنا کر ورموں پر باندھنے سے وہ گھل جاتے ہیں۔اسی طرح میرے پھول سکھا کر پیس کر اس میں چنے کا بیسن ملا کر اس سفوف کو چھڑکنے سے کیڑے مکوڑے اور زہریلے جانور ہلاک ہو جاتے ہیں۔
میں پٹھوں کی کمزوری،چڑچڑے پن،اضمحلال و افسردگی(ڈپریشن)اور ذہنی دباؤ کو دور کرتا ہوں۔مجھ میں موجود میگنیزیئم جسم میں پانی کے توازن کو برقرار رکھتا اور جوڑوں سے تیزابیت کا خاتمہ کرتا ہے،جس کے باعث جوڑوں کے امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔میرے اندر ایسے اجزاء بھی پائے جاتے ہیں،جو جسم میں سرطان کے خلیات سے لڑتے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کرتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-03-27

Your Thoughts and Comments