Mulethi - Article No. 2354

ملیٹھی - تحریر نمبر 2354

جمعہ 21 جنوری 2022

Mulethi - Article No. 2354
آمنہ ماہم
برصغیر پاک و ہند میں ملیٹھی ایک معروف جڑی بوٹی ہے جو زمین کی گہرائی میں پائی جاتی ہے۔عموماً یہ گلے کی خراش اور دیگر عارضوں میں استعمال ہوتی ہے لیکن طبی ماہرین ملیٹھی (لیکورائس) کو سپر فوڈ بھی قرار دیتے ہیں۔ملیٹھی میں کئی طرح کی معدنیات،اینٹی آکسیڈنٹس،فاسفورس،پوٹاشیم اور دیگر اہم اجزاء پائے جاتے ہیں لیکن کیا کیجئے کہ اس کا احوال بھی میتھی دانوں جیسا ہے جو بے حساب فوائد کے باوجود نظر انداز کئے جاتے ہیں اور ملیٹھی کا بھی یہی حال ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یونانی،اسلامی،آیورودیک اور دیگر پرانی تہذیبوں میں بھی ملیٹھی کو غیر معمولی مقام حاصل رہا ہے۔اسی لئے گھریلو نسخوں میں بھی اسے اہمیت حاصل ہے۔
ملیٹھی اور اندرونی جسمانی سوزش
غذائی ماہرین کے مطابق ملیٹھی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اندرونی جسمانی سوزش یا جلن کو کم کرتی ہے۔

(جاری ہے)

ہم جانتے ہیں کہ جسم کے اندر سوزش،گرمی یا جلن کسی نہ کسی بیماری کا اشارہ ہوتی ہے۔

دوسری جانب اس میں اینٹی سیپٹک اور بیکٹیریا کے خلاف تاثیر بھی موجود ہے۔
کھانسی اور سینے کے لئے مفید
ملیٹھی کو سردیوں کی خاص سوغات قرار دیا جا سکتا ہے۔یہ خشک کھانسی کو دور کرتی ہے اور سینے کے اندر بلغم اور ریشہ صاف کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملیٹھی کی چائے دمے کے مریضوں کو سکون پہنچاتی ہے۔
معدے اور آنتوں کیلئے مفید
ملیٹھی میں دو اہم کیمیکل پائے جاتے ہیں۔

ان میں سے ایک گلائی سائی رائزن اور دوسرا کاربنوکسولون ہے۔اس سے معدے اور آنتوں کو تقویت ملتی ہے۔السر میں فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ قبض اور تیزابیت میں بھی ملیٹھی بہت ہی مفید قرار دی گئی ہے۔
ذہنی تناؤ دور کرے
ملیٹھی میں سکون آور اجزاء موجود ہیں جو پٹھوں اور عضلات کو سکون پہنچاتے ہیں۔دوسری جانب اس جادوئی بوٹی میں اعصاب کو سکون دینے کی پوری صلاحیت ہے۔

ملیٹھی کا استعمال آپ کو پُرسکون رکھتا ہے۔
جلد کی ناہموار رنگت کا علاج
جلد پر داغ دھبوں اور غیر یکساں رنگت (پگمنٹیشن) کا ایک بہترین حل ملیٹھی بھی ہے۔ملیٹھی جلد کو ہموار کرکے اس کی رنگت نکھارتی ہے اور یوں چہرہ بے داغ اور شاداب ہو جاتا ہے۔
ملیٹھی کی چائے
ملیٹھی کی تین سے چار انچ لمبی جڑیں لیجئے اور اسے ایک کپ پانی میں اچھی طرح گھول لیجئے۔ٹھنڈا ہونے کے بعد اسے آپ نہار منہ نوش فرمائیں۔ملیٹھی چند دنوں بعد ہی اپنا اثر دکھانا شروع کر دے گی۔
تاریخ اشاعت: 2022-01-21

Your Thoughts and Comments