Phal Aur Un Ke Ras - Article No. 2197

پھل اور اُن کے رس - تحریر نمبر 2197

جمعہ 9 جولائی 2021

Phal Aur Un Ke Ras - Article No. 2197
شیخ عبدالحمید عابد
اطبا کہتے ہیں کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے،یعنی صحت و تندرستی کے لئے ہمیں ایسے طریقے اختیار کرنے چاہییں کہ احتمال مرض کم سے کم ہوتا چلا جائے۔جو لوگ آئے دن بیمار رہتے ہیں اور ہمیشہ معالجین کی کلینکوں کے چکر لگاتے رہتے ہیں،وہ زیادہ پریشان رہتے ہیں۔بعض اوقات جہالت اور لاعلمی سے اور بعض اوقات غفلت اور سہل انگاری سے وہ ایسی غلطیوں کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں،جن سے ان کی صحت کی عمارت دھڑام سے گر پڑتی ہے اور انھیں ایسی بیماریوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے،جن کی آہنی گرفت سے مرتے دم تک چھٹکارا نہیں ملتا۔


طب جدید کے ماہرین کا خیال ہے کہ ملک کے پھلدار درخت دوا فروشوں کی دکانیں اور طبیبوں کے مطب ہیں،یعنی تازہ اور پکے ہوئے پھل سینکڑوں بیماریوں اور کمزوریوں کا قدرتی علاج ہیں۔

(جاری ہے)

جو لوگ پھلوں کو روزانہ کی غذاؤں میں شامل کر لیتے ہیں اور قدرت کی ان نعمتوں سے فائدہ اُٹھانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔انھیں بہت کم معالجین کے پاس جانا پڑتا ہے۔

تقاضائے عمر یا بعض نامساعد حالات کے تحت لوگوں کے جسموں کی مشینری میں جو تھوڑا بہت نقص واقع ہو جاتا ہے،وہ قدرت کی ان سربہ مہر معجونوں اور خمیروں کے کھانے سے رفع ہو جاتا ہے۔
پاکستان کی آبادی کا زیادہ تر حصہ زمین داری پر مشتمل ہے۔ہمارے ہاں جاگیرداری نظام قائم ہے۔اس نظام میں کسان بے چارے سود در سود کے چکر میں ایسی بُری طرح پھنسے ہیں کہ پھلوں کا تو کیا ذکر،ان کے پاس جسم ڈھانپنے کو چتھڑ اور پیٹ بھرنے کو روٹی کا ٹکڑا نہیں۔


ٹھیلے والے عام طور پر نہایت خراب پھل بیچا کرتے ہیں،جنھیں بعض ناواقف اور سادہ لوح لوگ سستا سمجھ کر خرید لیتے ہیں۔ایسے پھلوں کے کھانے سے صحت کے خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے،اس لئے لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان ٹھیلے والوں سے کبھی کوئی چیز نہ خریدیں۔
سیب
اس میں فاسفورس کی کافی مقدار ہوتی ہے۔دماغی کام کرنے والوں کے لئے سیب بہت ہی مفید پھل ہے۔

وہ لوگ جنھیں کثرت کار کی وجہ سے قبض کی شکایت رہتی ہو،وہ ضرور سیب کھایا کریں،اس لئے کہ یہ ایک قبض کشا پھل ہے۔
کیلا
اس میں فولاد پایا جاتا ہے۔تپ محرقہ کے مریضوں کے لئے بہت مفید ہے۔افریقہ کے بعض حصوں میں بھی کثرت سے پایا جاتا ہے۔وہ لوگ اسے خشک کرکے پیس لیتے ہیں اور اس کی روٹی پکا کر کھاتے ہیں۔سنترا،لیموں اور چکوترا خون صاف کرنے اور معدے کو تقویت دینے کے لئے بہت مفید پھل ہیں۔

ان میں پائی جانے والی حیاتین(وٹامنز) اعضائے رئیسہ کی تقویت کے لئے بہت فائدہ مند ہیں۔لیموں جوڑوں کے درد کے مریضوں کے لئے بھی مفید ہے۔
انگور
انگور کثرت سے خون پیدا کرتا ہے۔حرارت غریزی کو تقویت دے کر آدمی کو چاق و چوبند بناتا ہے۔مفرح دل و دماغ ہے۔
کھجور
کھجور بہت میٹھی ہوتی ہے۔یہ گرم علاقوں میں کثرت سے پیدا ہوتی ہے۔

کھجور طاقت بخشتی ہے اور دل و دماغ کے لئے مفید ہے۔
انار
انار مفرح قلب اور مصفی خون ہے۔اختلاج قلب اور جگر کی گرمی دور کرنے کے لئے خاص طور پر مفید ہے۔مثانے کی گرمی سے نجات حاصل کرنے کے لئے انار کا رس بہت مفید ہے۔
آم
اگر آم چوسنے کے بعد کچی لسی پی لی جائے تو کثرت سے نیا خون پیدا ہوتا ہے اور گرمی بھی پیدا نہیں کرتا۔

انار ایک قبض کشا پھل ہے۔یہ چونکہ نہایت کثرت سے پیدا ہوتا ہے،اس لئے امیروں کی طرح غریب بھی اس سے محروم نہیں رہتے۔
دنیا بھر میں پھلوں کا رس کثرت سے پیا جاتا ہے۔حالیہ تحقیقات کے مطابق پھلوں کے رس بہترین مشروبات ہوتے ہیں۔تازہ پھلوں کا رس اُس رس کے مقابلے میں یقینا زیادہ صحت بخش ہوتا ہے،جنھیں کیمیائی اجزاء کی آمیزش سے بوتلوں اور ڈبوں میں بند کرکے محفوظ کر دیا گیا ہو۔

پھلوں کے رس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بڑی آسانی سے ہضم ہو جاتے ہیں۔
آپ نے عام طور پر محسوس کیا ہو گا کہ اگر کھانے سے قبل کوئی دوسری چیز کھا لی جائے تو بھوک خراب ہو جاتی ہے۔پھلوں کے رس میں یہ بات نہیں ہوتی،انھیں کھانے سے پہلے یا دوپہر اور رات کے کھانے کے درمیان پیا جائے،تب بھی وہ آپ کے اشتہا پر کوئی بُرا اثر نہیں ڈالتے۔ بعض لوگ انھیں ناشتے سے قبل پیتے ہیں،جو صحت پر اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

پھلوں کے رس بھوک پیدا کرنے اور کھانے کے ہضم میں مدد دیتے ہیں۔
ہمارے ملک میں مالٹا،سنترا،موسمی،گریپ فروٹ،سیب اور آم کثرت سے پیدا ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ انار،ناشپاتی،کیلے اور آلوچے کی بھی بہتات ہوتی ہے۔ان سب میں ترش پھلوں کو فوقیت حاصل ہے،کیونکہ یہ حیاتین ج (وٹامن سی) کا خزانہ ہوتے ہیں۔بہت زیادہ ٹھنڈے رس معدے پر بُرا اثر ڈالتے ہیں۔

رس میں برف کے استعمال میں احتیاط سے کام لیجیے۔برف ملانے کے بجائے برتن کو ریفریجریٹر میں رکھنا بہتر ہے۔
بعض لوگ صبح نہار منہ ناشتے سے قبل پھلوں کے رس پیتے ہیں،جس سے ان کی آنتوں پر اچھا اثر پڑتا ہے اور انھیں تحریک ملتی ہے۔ بعض پھلوں کے رس موسم میں محفوظ کر لیے جاتے ہیں اور پھر بوتلوں میں بھر کر فروخت کیے جاتے ہیں۔ایسے رس ہمارے ملک میں عام ہو چکے ہیں۔

انھیں خراب ہونے سے بچانے کے لئے اُن میں بعض کیمیائی اجزاء شامل کیے جاتے ہیں،لیکن انھیں تازہ پھلوں کے رسوں کا ہم پلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بعض لوگ پھلوں کے رس کے اتنے عادی ہو جاتے ہیں،جیسے کافی اور چائے کے شیدائی۔اگر انھیں پینے کے لئے پھلوں کا رس نہ ملے تو وہ بہت کمی محسوس کرتے ہیں۔اس عادت کو بُرا نہیں قرار دیا جا سکتا،کیونکہ پھلوں کے رس ہمارے لئے مفید ثابت ہوتے ہیں۔

پھلوں میں حیاتین،معدنی نمکیات اور دیگر مفید اجزاء ہوتے ہیں۔پھلوں کے رس خواہ تازہ ہوں یا ڈبوں میں بند،اُن کی حیاتین ضائع نہیں ہوتیں۔
ترش پھل حیاتین ج (وٹامن سی) کا بہترین خزانہ ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ان میں شکر و کیلسیئم و ترشہ اور بعض نادر اجزاء بھی موجود ہوتے ہیں۔تمام حیاتین میں حیاتین ج ہی کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ ہمارے جسم کو زیادہ سے زیادہ مقدار میں درکار ہوتی ہے۔

ہمارا جسم خلیوں (سیلز) سے مل کر بنا ہے اور خلیوں کی صحت کا دارومدار بہر نوع حیاتین ج پر ہے۔
یہ حیاتین لیموں کے رس میں کثرت سے موجود ہوتی ہے۔جب مغرب کے ملاحوں میں اسقربوط کا مرض عام ہونے لگا تو انھوں نے یہ رس پینا شروع کر دیا اور اس موذی مرض سے نجات پائی۔لیموں کے علاوہ سنترے،مالٹے،انار اور چکوترے (گریپ فروٹ) میں بھی حیاتین ج موجود ہوتی ہے۔

ترکاریوں میں آلو اس کا بہترین ذریعہ ہے۔
حیاتین ج ہمارے دانتوں کی صحت برقرار رکھنے اور ہمارے جسم کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری سمجھی جاتی ہے، خاص طور سے دق وسل (ٹی بی) سے بچانے کے لئے پہلی جنگ عظیم کے دوران میں سپاہیوں کو ڈبا بند پھل اور ٹماٹروں کا رس تو میسر نہ آسکا،لیکن بعض پھلوں کے رس نے انھیں اسقربوط جیسے مرض سے بچائے رکھا۔


دنیا کی وہ غیر مہذب قومیں جو بیسویں صدی کی روشنی سے ابھی تک دور ہیں اور حیاتین ج اور حیاتین ب کی اہمیت سے بالکل واقف نہیں ہیں۔یہ قومیں کھٹے پھلوں کے رس اور سیم اور باقلے کی پھلیوں سے پانی صحت برقرار رکھتی ہیں۔کھلی ہوا میں رہنے والے یہ لوگ صحت کے ابتدائی اصولوں پر عمل کرتے ہیں اور دنیا کی مہذب اقوام سے زیادہ توانا اور صحت مند ہیں۔

یہ حیاتین (1913ء) میں دریافت ہوئی تھی، لیکن اسے خاص حالت میں جمع کرنے کا کام 1932ء سے پہلے ممکن نہ ہو سکا۔
بہت سے پھلوں میں حیاتین ب بھی موجود ہوتی ہے،جو بیری بیری مرض کے علاج کے دوران میں اتفاقیہ طور پر دریافت ہوئی تھی۔یہ بیماری عام طور پر مشرقی ممالک میں پھیلتی ہے۔حیاتین ب کی کمی سے انسان کا وزن کم ہونے لگتا ہے،بعض اعصابی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں اور بھوک بھی کم لگتی ہے۔

اگر علاج نہ کیا جائے تو کھانا بالکل چھٹ جاتا ہے۔بعض پھلوں کے علاوہ یہ حیاتین مٹر اور سیم کی پھلیوں،خمیر،اناج اور کلیجی میں پائی جاتی ہے۔
پھلوں کے رس میں چربی نہیں ہوتی،اس لئے فربہ لوگ بھی انھیں پی سکتے ہیں۔رس میں شکر (سوائے لیموں کے رس)، معدنی اجزاء فولاد اور تانبا تک موجود ہوتا ہے۔اگر غذا غیر متوازن اور ناقص ہو تو پھلوں کے رس کا اضافہ اسے مکمل اور مفید بنا دیتا ہے۔

آپ روزمرہ کھانوں میں اس کا تجربہ کر سکتے ہیں۔
بہت زیادہ شیریں پھلوں کا رس پینے کی سفارش نہیں کی جا سکتی۔ان سے معدے میں خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔ایسے رس میں تھوڑا سا پانی شامل کر لینا چاہیے۔انار اور آلوچہ وغیرہ اس فہرست میں آتے ہیں۔
پھلوں کے رس کا بڑا فائدہ وہ تحریک ہے،جو وہ ہماری آنتوں میں پیدا کرتے ہیں۔رس میں بھی وہی اثر ہوتا ہے،جو پودے اور پھل میں ہوتا ہے۔

قبض کے مریضوں کے لئے ان کا پینا نہایت مفید رہتا ہے۔مزمن قبض کے مریضوں کو قبض کشا دواؤں کے بجائے پھل اور ترکاریاں کھانی چاہییں۔پھلوں کا رس پینے والے لوگ اپنی عمر سے کم معلوم ہوتے ہیں۔پھلوں کے رس ان کو جوان رکھتے ہیں۔ان کا پیٹ صاف رہتا ہے اور جلد بھی تروتازہ و شاداب رہتی ہے۔قبض کے مریضوں کے لئے مالٹے یا سنترے کا ایک گلاس رس بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے ،جو انھیں ہر روز نہار منہ،یعنی ناشتے سے قبل پینا چاہیے۔

اس طرح تھکن کا احساس اور جسم کا درد بھی رس سے دور ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ جلد کے داغ دھبے دور ہو کر رنگ نکھر جاتا ہے۔
حسن افزا کریمیں (ان میں کیمیائی اجزاء شامل ہوتے ہیں)استعمال کرنے کے بجائے روزانہ پھلوں کا رس پینا چاہیے،جسے بجا طور پر چشمہ حیات کہا گیا ہے۔
چونکہ پھلوں کے رسوں میں پانی زیادہ ہوتا ہے،اس لئے ان کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ وہ ہمارے پورے نظام جسم کو دھو ڈالتے ہیں۔

ہم پانی اُس وقت تک نہیں پیتے،جب تک پیاس محسوس نہ ہو،لیکن پھلوں کا رس پیاس کے بغیر بھی پیا جاتا ہے۔اس میں 80 فیصد پانی ہوتا ہے۔ پانی کی اس کثیر مقدار سے ہمارا پورا اندرونی نظام صاف ہو جاتا ہے،یعنی آنتوں کے علاوہ خون،ہماری بافتیں (ٹشوز) و خلیے،غرض سر سے لے کر پیر تک ہر عضو صاف ہو جاتا ہے۔پیشاب کثرت سے آتا ہے تو گردے بھی دُھل جاتے ہیں۔

تمام غیر ضروری ذرات اور سمی اجزاء پیشاب کے ذریعے خارج ہو جاتے ہیں۔رسوں میں ترشے موجود ہوتے ہیں،جو ہمارے منہ اور دانتوں کے جراثیم کو ختم کر دیتے ہیں۔
پھلوں کے رس بخار کی حالت میں بھی مفید ہیں۔اگر گردوں کا کوئی عارضہ لاحق ہو،جس میں نمک کے استعمال پر پابندی ہو،تب بھی رس کا پینا مفید رہتا ہے،کیونکہ اُن میں نمک یا لحمیات (ٹشوز) موجود نہیں ہوتیں۔


پھلوں کے رس ہماری غذاؤں میں تنوع پیدا کر دیتے ہیں۔اُن میں شکر ہوتی ہے،اس کے باوجود ذیابیطس کے مریض بھی انھیں پی سکتے ہیں ۔فربہ لوگ اپنا وزن کم کرنے کے لئے بھاری غذاؤں کی جگہ ترکاریوں اور پھلوں کا رس پییں تو انھیں فائدہ ہو گا۔
غرض کارخانہ قدرت میں پھلوں کا رس ہی ایک ایسی چیز ہے،جسے تندرستی اور بیماری دونوں حالتوں میں پیا جا سکتا ہے۔بازاری اور غیر متوازن غذاؤں کے مقابلے میں پھلوں اور ترکاریوں کے رسوں سے آپ کو یقینا بہت زیادہ فائدہ پہنچے گا۔
تاریخ اشاعت: 2021-07-09

Your Thoughts and Comments