Roza Kayi Jismani O Rohani Amraz Ka Behtareen Elaaj

روزہ کئی جسمانی وروحانی امراض کا بہترین علاج

Roza Kayi Jismani O Rohani Amraz Ka Behtareen Elaaj
آج دنیا بھر کے ماہرین اور سائنسدان اس حقیقت کا اقرار کررہے ہیں کہ روزہ انسانی صحت کو بر قرار رکھنے اور جسمانی نظاموں کو آرام پہنچانے کا مفید ذریعہ ہے ۔روزے سے معدے کو بھی بہت زیادہ تقویت ملتی ہے ۔دل اور دماغ کو آرام ملتا ہے ۔یہ شوگر ،گیس ،بلڈ پریشر،گیس اور دیگر کئی امراض کے خاتمے کے لیے بھی مفید ہے ۔
طبی سائنس کے حوالے سے کچھ عرصہ قبل تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ روزے سے صرف نظام انہضام کو آرام ملتا ہے مگر جیسے جیسے طبی سائنس نے ترقی کی اس حقیقت کا بتدریج علم ہواکہ روزہ تو ایک حیر ت انگیز طبی معجزہ ہے ۔


روزے کے دوران مختلف جسمانی نظام اور جسمانی اعضاء آرام کی حالت میں چلے جاتے ہیں جو ان کے لیے مفید ہوتا ہے ۔روزے سے دماغ میں دوران خون کا بے مثال توازن قائم ہو جاتا ہے جو صحت مند اعصابی نظام کی نشاندہی کرتاہے۔

(جاری ہے)


انسانی معدہ روزے کے ذریعے کئی فوائد حاصل کرتا ہے ۔روزے کے دوران معدے سے نکلنے والی رطوبتیں متوازن ہو جاتی ہیں ۔روزے میں معدے کے پٹھے اور رطوبت پیدا کرنے والے خلیے آرام کی حالت میں چلے جاتے ہیں ۔

خوراک کی نالی کو روزے کی حالت میں آرام ملتا ہے روزے کے دوران انتڑیوں کے حال کو نئی توانائی اور تازگی حاصل ہوتی ہے جو بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔
اہم اثر خلیوں کے اندرونی سیال مادوں کے درمیان توازن قائم رکھنے پر ہوتا ہے ۔لعاب دارجھلی کے بالائی خلیے(Epithelial Cells)جو جسم کی رطوبت کے متواتراخراج کے ذمہ دار ہوتے ہیں ،انہیں بھی آرام ملتا ہے اور ان کی صحت مندی میں اضافہ ہوتاہے۔


جگر ہمارے جسم کا ایک اہم عضو ہے ۔اس کے ذمے کھانا ہضم کرنے والی رطوبتیں پیدا کرنے کے علاوہ کئی مزید کام ہوتے ہیں ۔روزے کی وجہ سے جگر کو چار سے چھ گھنٹے آرام مل جاتا ہے ورنہ تو بے حد معمولی مقدار کی خوراک بھی اگر معدے میں داخل ہوتو جگر فوراً مصروف عمل ہوجاتاہے۔
جگر کے مشکل کاموں میں ایک اس توازن کو برقرار رکھنا ہے جو غیر ہضم شدہ خوراک اور تحلیل شدہ خوراک کے درمیان ہوتا ہے یا تو اسے ہر لقمے کو ذخیرہ کرنا ہوتاہے یا پھر اس کے ہضم ہونے کے بعد خون میں تحلیل ہو جانے کے عمل کی نگرانی کرنی ہوتی ہے۔


روزے کی وجہ سے جگر توانائی بخش کھانے کو ذخیرہ کرنے کے عمل سے کافی حد تک آزاد ہوجاتا ہے ۔خون ہڈی کے گودے میں بنتا ہے ۔ہڈی کے گودے کو یہ مواد جگر مہیا کرتا ہے ۔اس طرح جب روزے کے دوران خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کو گودا خود بخود حرکت میں آجاتا ہے اور باآسانی اور زیادہ مقدار میں خون بنتا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کمزور اور لاغر لو گ جن میں یہ گوداسست حالت میں ہوتا ہے اور چہرے کی پیلا ہٹ کا باعث بھی ․․․․وہ روزہ رکھ کر اپنے اندر ہڈیوں کے گودے کو فعال کرکے زیادہ خون پیدا کر سکتے ہیں۔


ہمارا دل چوبیس گھنٹوں میں ہر لمحہ دھڑکتا ہے اور اس کی دھڑکن ہی ہماری زندگی کی ضامن ہے ۔روزے کے دوران اسے بھی آرام مل جاتا ہے کیونکہ دل کاڈائی سٹولک دباؤ(Diastolic Pressure) روزے کی وجہ سے کم سطح پر رہتا ہے اور دل کے پٹھے آرام کی حالت میں آجاتے ہیں ۔رمضان کے ایک ماہ کے روزے دوران خون پر بھی مثبت اثر ڈالتے ہیں اور کئی پیچیدگیوں سے انسان کو بچاتے ہیں۔

خون میں کئی مادے اگر پوری طرح تحلیل نہ ہوں تو خون کی شریانوں کو کمزور کر دیتے ہیں ۔جبکہ روزے کے دوران سحر سے افطار تک خون میں موجود کئی ذرے تحلیل ہو چکے ہوتے ہیں ۔اس طرح شریانوں کی دیواروں پر چربی یا دیگر اجزاجم نہیں پاتے اور شریانیں سکڑنے سے محفوظ رہتی ہیں۔
آرٹیریوڈی روسس(Arteriosclerosis)آج کے دور کی ایک خطر ناک بیماری بنتی جارہی ہے ۔


اس بیماری میں خون کی شریانیں سخت ہو جاتی ہیں ۔روزہ انسان کو اس خرابی سے بھی محفوظ رکھتاہے۔
گردے جنہیں دوران خون کا ایک حصہ ہی سمجھا جاتا ہے وہ بھی روزے کے دوران آرام کی حالت میں چلے جاتے ہیں ۔اس طرح جسم کے ان اہم اعضاء کی قوت بھی روزے کی برکت سے بحال ہو جاتی ہے
۔
روزہ شوگر لیول،کولیسٹرول اور بلڈ پریشر میں اعتدال لاتا ہے ۔

اسٹریس واعصابی اور ذہنی تناؤ ختم کرکے بیشتر نفسیاتی امراض سے چھٹکارا دلاتا ہے ۔روزہ رکھنے سے جسم میں خون بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے اور جسم مضبوط ہوجاتا ہے ۔روزہ انسانی جسم سے فضلات اور تیزابی مادوں کے اخراج کا سبب بنتاہے۔
روزہ رکھنے سے دماغی خلیات بھی فاضل مادوں سے نجات پاتے ہیں ،جس سے ناصرف کئی نفسیاتی وروحانی امراض میں افاقہ ہوتا ہے بلکہ اس سے دماغی صلاحیتوں کو جلا مل کر انسانی صلاحیتیں بھی اجاگر ہوتی ہیں۔


یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مندرجہ بالافوائد تب ہی ممکن ہوسکتے ہیں جب ہم سحر و افطار میں سادہ غذا کا استعمال کریں ۔ہمارے ہاں افطاری کے وقت ثقیل اور مرغن تلی ہوئی اشیاء مثلاً سموسے ،پکوڑے ،کچوری وغیرہ کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے جس سے روزے کا روحانی مقصد توفوت ہوتا ہی ہے خوراک کی اس بے اعتدالی سے جسمانی طور پر ملنے والے کئی فوائد بھی مفقود ہو جاتے ہیں بلکہ معدہ مزید خراب ہوجاتا ہے ۔


لہٰذا افطاری میں دستر خوان پر دنیا جہان کی اشیاء اکٹھی کرنے کی بجائے افطار کسی پھل کھجور یا شہد ملے دودھ سے کر لیا جائے اور پھر نماز کی ادائیگی کے بعد مزید کچھ کھالیا جائے۔افطار میں پانی دودھ یا کوئی بھی مشروب ایک ہی مرتبہ زیادہ مقدار میں استعمال کرنے کی بجائے وقفے وقفے سے استعمال کریں۔
تاریخ اشاعت: 2019-05-08

Your Thoughts and Comments