Sardiyon Main Taza Machli Khayie

سردی میں تازہ مچھلی کھائیے

جمعرات فروری

Sardiyon Main Taza Machli Khayie
حکیم حارث نسیم سوہدروی
موسم سرما میں سردی سے محفوظ رہنے کے لئے لوگ طرح طرح کے خشک میوے،خوش ذائقہ کھانے اور مچھلی زیادہ کھاتے ہیں۔مچھلی سردی میں بڑی رغبت سے کھائی جاتی ہے۔ہمارے ہاں مچھلی کی جو اقسام دستیاب ہیں:ان میں بام،رہو،ٹراؤٹ،کند،سرمئی،پاپلیٹ،سنگھاڑا، سلور اور تھیلہ عام ہیں۔مچھلی کی تمام اقسام فائدہ مند ہیں۔

ہمیں موسم سرما میں ،خصوصاً ایسے مہینے جن میں لفظ”ر“آتا ہے ،یعنی ستمبر سے اپریل تک مچھلی خوب کھانی چاہیے ،البتہ مئی تا اگست اس کا کھانا ترک کر دینا چاہیے۔مچھلی میں پوٹا شیئم ،فولاد، آیوڈین،لحمیہ(پروٹین )، حیاتین الف اور د(وٹامنز اے اور ڈی)، سیلینیئم، فاسفورس اور میگنیزیئم پائے جاتے ہیں۔اس میں لحمیہ 60فیصد،چکنائی 10فیصد،حیاتین الف 50فیصد،سیلنیئم67فیصد ،فاسفورس33فیصد اور میگنیزیئم 16فیصد ہوتاہے۔

(جاری ہے)


مچھلی کے غذائی اجزاء سے اس کی افادیت کا اندازہ ہو جاتاہے،اس لئے ہمیں ستمبر تا اپریل ہفتے میں دو تین بار ضرور کھانا چاہیے ،تاکہ اس کے گوشت سے فوائد حاصل کیے جا سکیں۔مچھلی ہمیشہ تازہ کھانی چاہیے۔باسی مچھلی کا گوشت کھانے سے صحت پر خراب اثرات پڑتے ہیں۔ تازہ مچھلی کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ اس کی آنکھوں میں چمک ہوتی ہے ۔اگر اس کے جسم کو انگوٹھے سے دبانے پر گڑھا پڑ جائے تو مچھلی تازہ نہیں ہے۔

مچھلی خریدنے کے بعد آپ اس کو نمک ،لیموں اور اجوائن لگا کر رکھ دیں۔جب سارا پانی نکل جائے تو اس کو مصالحہ لگا کر چند گھنٹوں کے لئے ریفریجر یٹر میں رکھ دیں،تاکہ مصالحہ خوب اچھی طرح اس کے گوشت میں جذب ہو جائے۔اس طرح مچھلی کا گوشت بہت مزے دار ہو جائے گا اور کھانے کا لطف دو بالا ہو جائے گا۔مچھلی میں بہت کم حرارے(کیلوریز)ہوتے ہیں،اس لئے سب لوگ اسے کھا سکتے ہیں۔


ماہرین صحت کے مطابق ہفتے میں دو تین بار مچھلی کھانے والا فرد حملہ قلب سے محفوظ رہتاہے ،اس لئے کہ اس میں اومیگا۔3چربیلا تیزاب (فیٹی ایسڈ) ہوتاہے،جو حملہ قلب کا خطرہ کم کرنے میں بہت معاون ہوتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ جو افراد مچھلی کا گوشت زیادہ کھاتے ہیں،ان میں چونکہ اومیگا ۔3کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ،لہٰذا وہ قلب کی بیماریوں سے بچے رہتے ہیں۔


امریکی تحقیق کاروں نے انکشاف کیا ہے کہ کوڈ(COD) مچھلی کے جگر کا تیل جوڑوں کا درد ورم دور کرنے کے علاوہ ہڈیوں،پھیپھڑوں اور شریانوں کے لئے بہت فائدہ مند ثابت ہو چکا ہے۔اس میں حیاتین الف اور دزیادہ ہوتی ہیں۔مچھلی کھانے والے افراد کی جلد صحت مند ہوتی ہے،وہ نزلے زکام سے محفوظ رہتے ہیں اور اُن کی ہڈیاں بھی مضبوط ہوتی ہیں۔خواتین کے لئے مچھلی کا گوشت بہت مفید ہے۔

نسوانی امراض ،مثلاً زچگی کے بعد ٹانگوں اور کمر میں درد وتکلیف وغیرہ مچھلی کھانے سے جاتے رہتے ہیں۔خواتین کو چاہیے کہ وہ ہفتے میں دو تین بار مچھلی ضرور کھائیں،اس طرح وہ دل کے امراض سے بھی بچی رہیں گی۔
مچھلی کے فائدے
مچھلی کا گوشت دماغ اور یاد داشت کے لئے بہت مفید ہے ،اس لئے سردی کے موسم میں بچوں کو ضرور کھلائیں۔


مچھلی قلب کے لئے بہت فائدہ مند ہے ۔امراض قلب کے مریضوں کو مچھلی ضرور کھانی چاہیے۔
مچھلی ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے اور نسیان کے مرض (الزائمر)کو دور کرتی ہے۔مچھلی ذہنی دباؤ (اسٹریس) سے نجات دلاتی ہے ۔مچھلی کھانے والے افراد ذیابیطس کے مرض سے محفوظ رہتے ہیں۔
مچھلی کا گوشت کھانے سے خون نہیں جمتا ہے۔
مچھلی بلڈ پریشر اور سرطان سے بچاتی ہے۔


مچھلی کا گوشت بالوں کی حفاظت کرتا اور وزن کو بڑھنے سے روکتاہے۔
مچھلی مردانہ طاقت میں اضافہ کرتی ہے۔
مچھلی کا گوشت خون میں روانی کو قائم رکھتاہے۔
مچھلی خون میں چربی کو کم کرتی ہے۔
مچھلی کا تیل نزلے زکام سے محفوظ رکھتاہے۔
مچھلی کا تیل فربہی سے بچاتا ہے اور وزن نہیں بڑھنے دیتا۔
مچھلی کے تیل سے سانس کی نالیاں صاف رہتی ہیں۔
غرض مچھلی نعمت خداوندی ہے۔اس کی غذائی اور طبی افادیت کے پیش نظر ہر فرد کو اپنی حیثیت کے مطابق مچھلی کھا کر بھر پور فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔
تاریخ اشاعت: 2020-02-06

Your Thoughts and Comments