Sehat Ke Liye Sabziyan Bohat Zaroori Hain - Article No. 2208

صحت کیلئے سبزیاں بہت ضروری ہیں - تحریر نمبر 2208

پیر 26 جولائی 2021

Sehat Ke Liye Sabziyan Bohat Zaroori Hain - Article No. 2208
اکیسویں صدی میں سبزی خوری کی طرف لوگوں کی بڑھتی ہوئی رغبت ماحولیاتی تقاضوں کا نتیجہ ہے۔لوگ اب یہ سوچنے لگے ہیں کہ جانوروں کو بڑے پیمانے پر ذبح کرکے بہ کثرت گوشت کھانے کے بجائے زیادہ سبزیاں اور کم گوشت کھا کر بھی صحت اور توانائی حاصل کی جا سکتی ہے۔اس طرح حیوانی اور نباتی دنیا میں توازن بھی برقرار رہ سکتا ہے۔گوشت خوری سے صحت و صفائی کے مسائل بھی زیادہ جنم لیتے ہیں،کم از کم ہمارے جیسے ملکوں میں کہ جہاں بیمار اور صحت مند جانور میں کوئی فرق نہیں برتا جاتا اور ان کے ذبح کرنے اور گوشت بنانے کے معاملے میں لاپروائی برتی جاتی ہے۔


سبزی خوری کی ترغیب میں حالیہ چند برسوں میں سائنسی رپورٹوں کا بھی بڑا دخل ہے۔ان سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ عمدہ اور تازہ سبزیاں کھا کر انسان زیادہ صحت مند رہتے ہیں،انہیں کئی امراض سے تحفظ رہتا ہے۔

(جاری ہے)

اس غذا میں حیاتین و معدنیات کے علاوہ ریشہ زیادہ ہوتا ہے جو جسم سے زہریلے مواد کے اخراج میں مفید ہے۔ان میں کولیسٹرول بھی نہیں ہوتا،اس لیے رگیں اور شریانیں صاف اور لچک دار رہتی ہیں۔

یہ سب فوائد اپنی جگہ لیکن سبزی کے استعمال کے بھی کچھ تقاضے ہیں اور اس کی بھی کچھ خامیاں ہیں جن کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے،اس کے بغیر ان سے غذائی ضروریات کی درست تکمیل نہیں ہو سکتی۔عام طور پر سبزی کے شوقین افراد کی تین بڑی اقسام ہوتی ہیں یعنی۔
جو گوشت،مچھلی اور مرغی تو نہیں کھاتے لیکن انڈے اور دودھ استعمال کرتے ہیں۔
جو دودھ استعمال کرتے ہیں لیکن ہر قسم کے گوشت،مچھلی،مرغی اور انڈوں سے گریز کرتے ہیں۔


صرف سبزیاں کھانے والے افراد جو کسی بھی قسم کی حیوانی غذا کو ہاتھ نہیں لگاتے۔
ان کے علاوہ ایسے افراد بھی ہیں کہ جو سبزیوں کی بھی بعض اقسام مثلاً آلو،گاجر،مولی وغیرہ کے علاوہ پیاز اور لہسن بھی استعمال نہیں کرتے،شہد وغیرہ سے دور رہتے ہیں۔ایسے سبزی خور بھی سامنے آئے ہیں کہ جو صرف قدرتی کھاد کے استعمال سے اُگائی جانے والی سبزیاں کھاتے ہیں اور کیڑے مار کیمیائی دواؤں سے محفوظ اشیاء ہی استعمال کرنا چاہتے ہیں،خاص طور پر مغرب میں ایسے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے کیونکہ وہ کیمیائی دواؤں کے مضر اثرات سے زیادہ واقف ہیں۔


اہم ترین ضرورت
سبزی کے شوقین افراد کی اقسام سے قطع نظر اصل ضرورت یہ ہے کہ سبزیوں سے جسم کو درکار تمام ضروری اجزاء ملیں اس میں مناسب مقدار میں حرارے (کیلوریز) پروٹین اور دوسرے غذائی اجزاء ہوں۔
پروٹین کی ضروریات
لحمیات یا پروٹین کا غذا میں موجود رہنے سے جسم کو لازمی امینو ایسڈز اور نائٹروجن ملتے ہیں،ان کے بغیر جسم کی کارکردگی ٹھیک نہیں رہ سکتی۔

حیوانی غذائیں ان کا بہترین ذریعہ ہوتی ہیں۔سبزیوں اور نباتات پر مشتمل غذاؤں سے بھی لازمی اور ضروری غذائی اجزاء حاصل کیے جا سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ایسی غذا میں دیگر غذائی اجزاء شامل کرکے امینو ایسڈز وغیرہ کی کمی پوری کی جائے۔اس کمی کو پورا کرنے کے لئے دودھ اور اس سے بنی اشیاء یا انڈے کھا کر پروٹین حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

اس طرح سبزیوں کے ایک گروپ کے غذائی اجزاء کی کمی کو دوسرے گروپ کے استعمال سے دور کیا جا سکتا ہے مثلاً مختلف اناجوں کے ساتھ کہ جن میں لائی سین،امینو ایسڈ کم لیکن میتھیونین زیادہ ہوتا ہے۔سبزیوں میں دالیں شامل کرنے سے وہ مکمل غذا بن جاتے ہیں،دالوں میں لائی سین زیادہ اور میتھیونین کم ہوتی ہے اس اعتبار سے کھچڑی بہت مناسب غذا ہے۔تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ ایسی غذا ایک وقت کے کھانے میں شامل رہے،اسے چند گھنٹوں بعد کھا کر بھی یہ کمی پوری کی جا سکتی ہے گویا سبزی خوروں کی غذا سوچ سمجھ کر تیار کرنا ضروری ہے۔


پروٹین پر مشتمل چند مکمل غذائیں
دال،چاول،کھچڑی،قبولی کھچڑی۔
نوڈلز یا اسپیگھیٹی سویاں،دالوں،بیجوں،مثلاً سیم،مٹر،چنوں کے ساتھ۔
روٹی مونگ پھلی کی چٹنی کے ساتھ۔
چاول،سویابین کے دہی کے ساتھ۔
بیسنی روٹی تل کی چٹنی کے ساتھ۔
فرائیڈ رائس انڈے کے ساتھ۔
مکمل پروٹین حاصل کرنے کے لئے ان گروپوں کو ملائیں
دالیں اناجوں کے ساتھ۔


دالیں،بیجوں اور مغزیات کے ساتھ۔
نباتی پروٹین کے ساتھ انڈے یا دودھ اور دہی۔
بیشتر سبزیاں،دودھ،دہی اور دالوں کے ساتھ۔
دیگر غذائی اجزاء
زیادہ نشاستے دار اشیاء اور سبزیوں میں شامل ریشے کی زیادہ مقدار کی وجہ سے جسم میں معدنی اجزاء کے جذب ہونے کا عمل سست ہو سکتا ہے کیونکہ یہ معدنی اجزاء ریشے میں زیادہ جذب ہونے کی وجہ سے آنتوں کو کم مقدار میں ملتے ہیں،اسی طرح چکنائی کے کم استعمال سے بھی بعض غذائی اجزاء کے جذب ہونے کا عمل سست ہو جاتا ہے جن میں یہ اجزاء قابل ذکر ہیں۔


کیلشیم
جو لوگ سبزیوں کے علاوہ دودھ اور اس سے تیار ہونے والی غذائیں کھاتے ہیں ان میں کیلشیم کی کمی نہیں ہوتی لیکن جو لوگ دودھ دہی نہیں لیتے ان میں کیلشیم کی کمی رہتی ہے۔ایسے افراد کیلشیم گہرے سبز رنگ کی سبزیوں اور بعض مغزیات سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ان میں دودھ کے برابر کیلشیم نہیں ہوتا لیکن پھر بھی ان سے اس کی کچھ ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔

کیلشیم کے ساتھ حیاتین (وٹامن ڈی) شامل ہو تو کیلشیم اچھی طرح جسم میں جذب ہوتا ہے اور حیاتین D کا بہترین ذریعہ دھوپ ہے۔
وٹامن بی
کیلشیم کی طرح حیاتین ب (رائبو فلاوین) دودھ نہ پینے والوں کو کم ملتا ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ثابت اناج کھائے جائیں۔ گوشت نہ کھانے سے بھی حیاتین ب (وٹامن بی) کی کمی ہو جاتی ہے۔
فولاد
فولاد کے حصول کا بہترین ذریعہ گوشت ہے۔

فولاد کی کمی سے سبزی خور بالعموم خون کی کمی میں مبتلا رہتے ہیں۔بعض سبزیوں میں بھی فولاد ہوتا ہے لیکن یہ فولاد جسم میں کم جذبت ہوتا ہے۔پالک کا ساگ دیگر پتے والی سبزیاں اور خوبانی فولاد کا اچھا ذریعہ ہیں۔فولاد کے بھرپور انجذاب کے لئے حیاتین ج (وٹامن سی) کی موجودگی ضروری ہے۔کھٹے پھل،ٹماٹر،امرود،پپیتا،گوبھی اور سبز مرچ وغیرہ وٹامن سی کے بہترین ذرائع ہیں۔


جست
جست (زنک) کے بہترین ذرائع گوشت،مچھلیاں اور مرغی کا گوشت ہیں۔یہ پنیر اور خمیری روٹی میں بھی ہوتا ہے۔
حرارے
توانائی حاصل کرنے کے لئے حراروں (کیلوریز) کی مناسب مقدار میں فراہمی ضروری ہے۔اناج،مغزیات،بیج اس کے بہترین ذرائع ہیں جبکہ دودھ،دہی،پنیر اور انڈوں سے بھی یہ خوب ملتے ہیں لیکن ان اشیاء کے زیادہ استعمال سے خون میں کولیسٹرول کی سطح بڑھنے کا خطرہ رہتا ہے۔

مکھن اور گھی بھی حرارے فراہم کرتے ہیں لیکن ان کی کثرت استعمال سے بھی یہی خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
بچے اور سبزی خوری
بچوں کی بھرپور بڑھوتری کے لئے حیوانی پروٹین ضروری ہیں۔دودھ اور انڈے استعمال کرنے والے بچے اچھی طرح پروان چڑھتے ہیں بچوں کو سبزیوں،دالیں،سویابین اور دودھ کافی مقدار میں ملتے رہنے چاہئیں۔
حاملہ و دودھ پلانے والی خواتین
انہیں کافی مقدار میں فولاد اور حراروں کا ملنا ضروری ہے خاص طور پر فولک ایسڈ کی فراہمی ان کے اور بچے کی صحت کے لئے ضروری ہوتی ہے۔

اس لئے ایسی خواتین کی غذا کے انتخاب اور منصوبہ بندی پر بڑی توجہ دینی چاہیے۔تازہ سبزیوں اور پھلوں سے فولک ایسڈ اور فولاد فراہم ہوتا ہے۔حراروں کے لئے دالوں کا اناجوں کے ساتھ استعمال اور دودھ دہی کی فراہمی ضروری ہے۔
پھلیاں شوق سے کھایئے
سائنس دانوں کے مطابق پھلیاں درخت پر اُگنے والا گوشت ہوتی ہیں۔سیم،مٹر،سویابین،لوبیا وغیرہ کے استعمال پر پوری توجہ دینی چاہیے اور انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔


چند سبزیاں اور ان کی خصوصیات
ٹماٹر:
خون صاف کرتا ہے۔خشکی کو دور کرتا ہے۔وہم اور پریشانی کو دور کرتا ہے،سلاد میں کھانے سے فرحت بخشتا ہے۔گرمیوں میں اس کا استعمال زیادہ مفید ہے۔دانتوں کی مضبوطی کے لئے ٹماٹر کا رس مفید ہے۔
ادرک:
بہت سی خوبیوں والی سبزی ہے جو کھانے کو لذیذ بنانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی،یہ کئی بیماریوں کا علاج بھی ہے۔

ادرک کھانے کو ہضم کرنے، قبض توڑنے،معدے کی رطوبت اور بلغم کو ختم کرنے کے لئے مفید ہے،یہ جسم کے درد خاص طور پر کمر درد کو شفا بخشتی ہے اور دماغ کے امراض میں بھی مفید ہے لیکن اس کو کھانے میں مناسب مقدار سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔
گوبھی:
گوبھی کا استعمال بلغم کو روکتا ہے اور مسوڑھوں کے لئے مفید ہے لیکن اس کا زیادہ استعمال قبض کرتا ہے لہٰذا گوبھی پکاتے وقت ادرک بھی شامل کرنی چاہیے۔


لہسن:
لہسن معدے کی رطوبتوں کو خشک کرتا ہے۔بلغمی مزاج لوگوں کے لئے مفید ہے،خوراک کو جلد ہضم کرتا ہے اس کے استعمال سے رعشے کی بیماری سے نجات ملتی ہے لہسن دمہ،کھانسی اور بواسیر کے لئے بھی مفید ہے۔بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے بھی مفید ہے۔ یورپ میں تپ دق کے لئے ڈاکٹر لہسن کا استعمال کراتے ہیں۔اس سے پیٹ کا درد کم ہوتا ہے۔ناخنوں پر لگانے سے ناخن ٹوٹنے سے محفوظ رہتے ہیں۔


کدو:
کدو قبض کشا اور زود ہضم ہے،دل،دماغ اور جگر کو فرحت دیتا ہے۔بلڈ پریشر اور خون کی گرمی کو ختم کرتا ہے۔پیشاب کی بیماریوں میں مفید ہے۔کدو کا تیل بال بڑھاتا ہے،بھوک لگاتا ہے اور وزن بڑھاتا ہے۔کدو موسم گرما میں پیاس کو ختم کرتا ہے۔
گاجر:
گاجر کھانے سے پیشاب کھل کر آتا ہے،مثانے و گردے کی پتھری ٹوٹ جاتی ہے،دل کے لئے مفید ہے،گاجر کھانے سے بینائی بڑھتی ہے، کھانسی اور سینے کے درد کے لئے گاجریں مفید ہیں۔سبزی خوری مفید ہے لیکن اس کے اپنے تقاضے بھی ہیں اس لئے سبزیاں سوچ سمجھ کر کھائیے اور صحت کا صحیح لطف اٹھائیے۔
تاریخ اشاعت: 2021-07-26

Your Thoughts and Comments