Sohanjna (Moringa) Phali - Mufeed Ghiza Aur Dawa - Article No. 2303

سوہانجنا پھلی۔مفید غذا اور دوا - تحریر نمبر 2303

ہفتہ 20 نومبر 2021

Sohanjna (Moringa) Phali - Mufeed Ghiza Aur Dawa - Article No. 2303
حکیم حارث نسیم سوہدروی
سوہانجنا پھلی غذا کے علاوہ ایک نباتی دوا بھی ہے،جو طب یونانی میں مدتوں سے مستعمل ہے۔1990ء میں امریکی سائنسدانوں نے اسے موضوع تحقیق بنایا تھا اور بتایا تھا کہ یہ پھلی تین سو سے زیادہ امراض میں مفید ہے،جن میں ذیابیطس،امراضِ قلب،ہائی بلڈ پریشر،کمی خون ،جوڑوں کا درد اور اضمحلال و افسردگی (ڈپریشن) وغیرہ شامل ہیں۔

پھر تو ہر طرف سوہانجنا کے فائدوں کے چرچے ہونے لگے۔ اگرچہ طب میں اس کو مفید دوائی پودا قرار دیا گیا ہے اور حکما اس کے فوائد طویل عرصے سے بیان کرتے رہے ہیں،مگر کسی نے دھیان نہیں دیا تھا۔اب سوہانجنا پر مزید تحقیق ہو رہی ہے اور ساری دنیا میں پھر اس کا چرچا ہے۔سوہانجنا ایک ایسا پودا ہے،جس کے پتوں میں لحمیات (پروٹینز)،دہی سے دو گنا زیادہ پوٹاشیم،کیلے سے تین گنا کیلسیئم،دودھ سے چار گنا حیاتین الف (وٹامن اے)،گاجر سے چار گنا حیاتین ج (وٹامن سی)،سنترے سے سات گنا،پالک سے نو گنا اور بادام سے تین گنا زیادہ فولاد پایا جاتا ہے۔

(جاری ہے)


سوہانجنا پھلی غذائیت سے بھرپور ایک بہترین غذا ہی نہیں،بلکہ موٴثر نباتی ادویہ میں بھی اہم مقام رکھتی ہے۔امینو ایسڈز (Amino Acids)،یعنی لحمیات کی اکائیوں کی زیادہ اقسام اس میں موجود ہوتی ہیں۔کثیر الحیاتین (ملٹی وٹامنز) کی گولیاں اس کی افادیت کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔سرطان سے بچاؤ کے لئے سوہانجنا کا کھانا بہت موٴثر ثابت ہوا ہے۔دودھ پلانے والی خواتین کے لئے یہ ایک بہترین غذائی ٹانک ہے۔

سوہانجنا دائمی نزلہ زکام دور کرنے میں بھی مفید و موٴثر ہے۔یہ کمزور اعصاب والوں کو پوٹاشیم کی زیادہ مقدار ہونے کے باعث بہت فائدہ پہنچاتی ہے۔حیاتین الف ہونے کی وجہ سے یہ آنکھوں،جلد،دل اور معدے کے امراض سے بچاتی ہے۔کیلسیئم کی وجہ سے ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے اور فولاد کی وجہ سے خون کے سرخ خلیوں کی افزائش میں مدد دیتی ہے۔
بعض لوگوں میں سوہانجنا پھلی کھانے سے پیشاب کی زیادتی ہو جاتی ہے،جو زیادہ پریشانی والی بات نہیں ہے،کیونکہ پیشاب کی زیادتی سے جسم کا فاسد مواد خارج ہو جاتا ہے،جس سے فائدہ پہنچتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ سوہانجنا پھلی کھانے سے جن لوگوں کو کثرتِ پیشاب کی شکایت ہوتی ہے،وہ چند روز بعد خود ہی جاتی رہتی ہے،سوہانجنا کے پتوں کا سفوف سالن اور آٹے میں گوندھ کر روٹی کی شکل میں بھی کھایا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ یہ سفوف خالی کیپسول میں بھی بھر کر کھایا جا سکتا ہے۔
یہ مفید پھلی ہر عمر کے افراد کے لئے فائدہ مند ہے۔سوہانجنا کا پودا آٹھ ماہ میں مکمل درخت بن جاتا ہے۔یہ گرم علاقے کا پودا ہے۔موسم گرما میں جب بارش ہوتی ہے تو یہ بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔پانی کی مناسب فراہمی،تیز روشنی اور زیادہ درجہ حرارت اس کی بنیادی ضروریات ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-11-20

Your Thoughts and Comments