بند کریں
صحت مضامینمضامین24اکتوبر:پولیو کا عالمی دن

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
24اکتوبر:پولیو کا عالمی دن
پولیو(Poliomyelitis) ایک خطرناک بیماری ہے جو پانچ سال کے کم عمر بچوں پر حملہ آور ہوتی ہے اس کامرض کا وائرس اعصابی( نروس) سسٹم کو برباد کرتے ہوئے دیکھتے ہی دیکھتے چند گھنٹوں کے اندر ا نہیں ٹانگوں سے معذورکرکے زندگی بھر کیلئے اپاہج بنا ڈالتا ہے
پولیو(Poliomyelitis) ایک خطرناک بیماری ہے جو پانچ سال کے کم عمر بچوں پر حملہ آور ہوتی ہے اس کامرض کا وائرس اعصابی( نروس) سسٹم کو برباد کرتے ہوئے دیکھتے ہی دیکھتے چند گھنٹوں کے اندر ا نہیں ٹانگوں سے معذورکرکے زندگی بھر کیلئے اپاہج بنا ڈالتا ہے ا س کا وائرس منہ کے راستے انسان کے جسم میں داخل ہو کر انتڑیوں میں پرورش پاتا ہے۔90فیصد مریضوں میں اس مرض کے شروع ہونے کا پتہ ہی نہیں چلتا باقی10فیصدمیں ابتدائی طور پر اس سے بخار، سر درد،الٹیاں،گردن کا اکڑنا اور ٹانگوں میں درد ہوتا ہے۔اس بیماری کا کوئی علاج نہیں.اس مرض کا شکار زندگی بھر کیلئے اپنے خاندان اور معاشرے پر بوجھ بن کے رہ جاتا ہے اور اگر یہ بیٹی ہو تو ماں باپ سارے عمر رونے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتے مگر اس مہلک مرض سے بچاؤ کا واحد حل پولیو ویکسین کے دو قطرے ہیں جوپانچ سال سے کم عمرکے بچوں کو باقاعدگی کیساتھ پلانے سے اس مرض کا وائرس مر جاتا اوربچے اس مرض سے محفوظ رہتے ہیں۔صاف ستھرے ماحول اور ٹائیلٹ باتھ کا بہتر انتظام ہونے اور بچوں کے ٹائیلٹ ٹرینڈہونے کے باعث اس کا وائرس مرجاتاہے۔پہلی دفعہ17جون94 18کو امریکہ کی روٹ لینڈ کاوئنٹی کے ڈاکٹر چارلس کیورلیDr. Chales Caverly MD) ) نے چھ بچوں کی موت اور 132بچوں کو پولیو کا شکار ہونے کی تصدیق کی ۔25اپریل1954کو پہلی دفعہ پولیو دیکسین کاوسیع پیمانے پر تجربہ کیا گیااور 12 اپریل1955کومشیگن یونیورسٹی میں ڈاکٹر تھامس فرانسسزجونےئر(Dr. Thomas Francis Jr. MD) نے اپنے رفقاء کی موجودگی میں اس کی کامیابی کا اعلان کیا اور بتایا کہ یہ ویکسین 80سے90تک کامیاب رہی ہے۔اسی دن امریکی حکومت نے اس کی عام استعمال کی اجازت دیدی ۔یونیسیف، ورلڈ ہیلتھ آرگینائزیشن، سی ڈی سی اور روٹری انٹرنیشنل دنیا کے چار سب سے بڑے ڈونرزہیں انہوں نے 1988میں طے کیا کہ جلد ازجلد دنیا سے پولیو کا خاتمہ کیا جائیگا۔1988میں125ملکوں میں 350,000سے زائد بچے پولیو سے معذور ہوئے جبکہ ان اداروں کی کاوشوں کی بناء پر 2013میں صرف تین ملک (پاکستان، افغانستان اورنائجیریا) میں یہ مرض باقی رہ گیا اور اس سال میں ان تین ملکوں میں کل160مریض کنفرم ہوئے جبکہ پوری دنیا میں اس سال406مریض سامنے آئے۔ اسی پولیو ویکسین کی بدولت 1988سے اب تک دنیا سے پولیو کا99فیصدتک خاتمہ ہوچکا ہے اور ایک کروڑ بچوں کو معذور ہونے بچالیا گیاہے۔ امریکہ 1991جبکہ انڈیا 2011سے پولیو فری ملک قرار پا چکا ہے۔اور 2018تک دنیا کو ہر قسم کے پولیو کو ختم کرنے کا ہدف ہے جس کیلئے مزید 5.5ارب امریکی ڈالروں کی ضرورت ہوگی۔یونیسف،ورلڈ ہیلتھ آرگینائزیشن، سی ڈی سی کی امدادکے علاوہ ر وٹری انٹرنیشنل بھی دنیا سے پولیو کے خاتمہ کیلئے اب تک1.2ارب ڈالر(تقریبا ایک کھرب اور بیس کروڑ روپے) خرچ کر چکاہے اس کے باوجود دنیا میں رواں سال2014میں اب تک پولیو کے 261 بچے پولیو کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے206 کا تعلق پاکستان سے ہے یعنی دنیا کا79فیصد پولیو پاکستان میں پایا جا رہا ہے جو محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کی بے حسی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔محکمہ صحت کا عملہ سولو فلائٹ کرنے کا عادی اور اس نے عمومی طور پرمذہبی ،سیاسی رہنماؤں، مقامی اور عالمی سماجی تنظیموں اور بڑے ڈونرز کے نمائندوں کو بھی نا معلوم وجوہ کی بناء پر اپنی میٹنگز، مانیٹرنگ اورانسداد پولیو کی مہم سے دور رکھا ہوا ہے۔ پولیو ورکرز کو تین یا پانچ دن کیلئے ڈیلی ویجز پر بلاکراس کامعاوضہ بھی ایک ڈیڑھ ماہ بعد ادا کرنا اور مہم کے دوران غیر ذمہ دارانہ مانیٹرنگ بھی اس کی ناکامی کی وجوہات ہیں ۔پاکستان میں پولیو ختم نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ 2012میں اسامہ بن لادن کو پکڑنے کیلئے امریکی حکومت اور سی آئی اے کی ایماء چلائی گئی بچوں کے ڈی این اے سیمپل لینے کی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی جعلی ہیپاٹائٹس مہم اور امریکی ڈرون حملوں کے باعث قبائلی مذہبی رہنماؤں کی برہمی،ہیلتھ کےئر سٹاف کو دھمکیا ں ان پر حملے ،کم و بیش 67پولیو ورکرز کی شہادت اور 48سے زیادہ کا شدیدزخمی ہونا، اور اس دوران پولیو ورکرز کے فاٹا میں داخلہ پر پابندی کے علاوہ پاکستان کے دیگر شہری علاقوں کے ْقدامت پرست اور دیہاتی علاقوں کے ان پڑ ھ لوگوں، خانہ بدوشوں اور جنوبی وزیرستان کے لوگوں کا اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار اورپولیو کی بیماری کے سنگین اثرات سے لا علمی ہے ۔پاکستان میں 206کیسیز کی تصدیق کے علاوہ افغانستان میں 10،کیمرون 5،ایکویٹوریل گینیا 5،ایتھوپیا ایک،عراق2،نائیجیریا26،صومالیہ5،جبکہ شام میں ایک کیسیز کی تصدیق ہو چکی ہے ۔رواں سال 2014میں خیبر پختونخواہ میں 42، فاٹا 136، پنجاب3،بلوچستان6 اورسندھ میں 19معصوم بچوں کو پولیو نے زندگی بھر کیلئے معذور و اپاہج کر دیا ہے۔پولیو کے تمام مریضوں کا جنیاتی تعلق پشاور سے بتایا جاتاہے جس کی وجہ سے پشاور کو دنیا کے پولیوکا گڑھ، ڈپو،انجن اور ایکسپورٹر کے نام سے جانا جاتا ہے لہذا یہ بدنامی ختم کرنے کیلئے صوبائی حکومت سمیت تمام متعلقین کو سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔پاکستان میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ ہے اور یہاں سے بیرون ملک سفر کرنے والے تمام لوگوں کیلئے سفر سے پہلے پولیو ویکسین پینا لازمی ہے جبکہ شمالی وزیرستان سے پولیو کے قطرے پےئے بغیر لوگوں کی ملک کے دوسرے علاقوں میں ہجرت سے پولیو کا خطرہ مزید بڑھ گیاہے۔پاکستان، افغانستان اور نائجیریا دنیا میں پولیو کے حوالہ سے خطرناک اور PAN) (کے نام سے جانیوالے ملک ہیں۔پاکستان اگر پولیو وائرس کو کنٹرول اور ختم نہ کر سکا تو اس پر مزید سخت شرائط اورعالمی پابندیاں،جن میں پاکستان میں غیر ملکی امداد، قرض اور سرمایہ کاری میں رکاوٹ کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کے بیرون ملک سفر پر مکمل پابندی لگنے کا بھی احتمال ہے۔لہذا والدین، سیاسی،مذہبی، سماجی رہنماؤں ،میڈیااور منتخب عوامی نمائندوں کے علاوہ سکولوں کی انتظامیہ کو چاہئے کہ پاکستان سے پولیو ختم کرنے کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کرتے ہوئے اپنے اور ارد گرد کے پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو انسداد پولیو کی ہر مہم میں پولیو ویکسین کے دو ،دو قطرے ضرور پلوائیں،ہیلتھ ایجوکیشن اور آگاہی کے سلسلہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔مذہبی طبقہ بھی آگے بڑھے اور پولیو دیکسین اور پولیو ورکرز کے بارے میں پھیلے منفی تاثر کو زائل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں بصورت دیگر چند سال بعدجنوبی وزیرستان سے پولیو سے متاثرہ اپاہج و معذور افرادکا جم غفیر برآمد ہو جائے گا۔اور جب تک دنیا کے کسی بھی ملک میں پولیو کا ایک بھی نیا مریض سامنے آتاگیااس کا وائرس پوری دنیا میں دوبارہ پھیل سکتا ہے۔واضح رہے کہ اس وقت پاکستان کی کل آبادی انیس کروڑ ساٹھ لاکھ اور پانچ سال کے کم عمر بچوں کی تعدادتین کروڑ چالیس لاکھ ہے جنہیں ہر مہم میں پولیو ویکسین پلانا ضروری ہے۔ پاکستان میں پولیو کے زیادہ مریضوں کا تعلق افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقوں سے ہے جبکہ ہندوستان پہلے ہی پولیو فری ملک قرار دیا جا چکا ہے۔دنیا میں عمومی طور پردو ماہ کے بچوں سے لیکر چھ سال کی عمر تک مخصوص وقفوں کے ساتھ مسلسل ویکسین پلا کر بچوں کو اس مرض کا شکار ہونے سے بچایا جاتاہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     محمد ممتاز بیگ

محمد ممتاز بیگ کے مزید مضامین پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-