6 Ashiya Khasre Main Dein Araam - Article No. 1938

6 اشیاء خسرے میں دیں آرام - تحریر نمبر 1938

جمعرات اگست

6 Ashiya Khasre Main Dein Araam - Article No. 1938
خسرہ ایک متعدی مرض ہے۔یہ بھی ایک وائرس کے باعث ہوتا ہے۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ہر بچے کی عمر میں ایک بار یہ بیماری ہو سکتی ہے مگر طبی ماہرین کے مطابق ایک سے زائد بار بھی یہ وائرس حملہ آور ہو سکتا ہے۔اس میں جلد پر خارش ہوتی ہے اور جسم پر سرخ کے ساتھ دانے بھی نمودار ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ یہ وائرس سانس کے ذریعے داخل ہو سکتا ہے چنانچہ کہا جاتا ہے کہ گھر میں اگر بچے کو خسرہ ہو تو دوسرے بچوں کو اس سے حتی الامکان حد تک دور رکھا جائے۔

بچے کا تولیہ،باتھ ٹب،کھانے کے برتن وغیرہ کچھ عرصے کے لئے علیحدہ رکھے جائیں اور انہیں استعمال کے بعد نیم گرم پانی سے دھو کر خشک کیا جائے۔
خسرے کی علامات
بخار کا ہونا،بھوک کی کمی،سر درد،جسمانی تھکن اور خارش کا بڑھنا ابتدائی علامات ہیں۔

(جاری ہے)

ظاہر ہے کہ ان وجوہ سے صحت متاثر ہوتی ہے۔ بے آرامی اور نیند میں خلل واقع ہوتا ہے۔

بچوں کے ماہر ڈاکٹر سے فوری طور پر رابطہ کر لیا جائے تو بہتر ہے تاکہ گھر کے دوسرے افراد متاثر ہونے سے محفوظ رہیں اور بچہ بھی آرام محسوس کرے۔
اہم احتیاطبی تدابیر
بیکنگ سوڈا گھر میں رکھئے
یہ سوزشی خصوصیات پر مشتمل ہوتا ہے۔ساتھ ہی اس میں دفاعی صلاحیت بھی ہوتی ہے جو خارش اور سوزش زدہ جلد کو سکون مہیا کر سکتا ہے۔

بچے کے غسل کے لئے جس بالٹی میں نیم گرم پانی ہو اس میں ایک پیالی کے قریب بیکنگ سوڈا شامل کر دیا جائے اور دس منٹ تک یہ پانی میں گھل جائے تو بچے کو اس پانی سے نہلا دیجئے۔یہ عمل محفوظ ہے اور روزانہ دن میں ایک بار ایسا کرنے سے بچے کو سکون ملتا ہے اور ساتھ ساتھ ادویات بھی جاری رکھی جائیں تو جلد آرام آسکتا ہے۔
اوٹ میل باتھ
آپ نے دلیہ تو متعدد بار کھایا ہو گا اور بچوں کو بھی کھلایا ہو گا۔

چکن پاکس سے نجات کے لئے ایک کھانے کے چمچ اوٹ میل باریک پیس کر ایک گلاس گرم پانی میں بھگو دیں اب اس آمیزے کو کپڑے کی پوٹلی میں ڈال کر سختی سے گرہ لگا دیں اور بچے کے غل کے پانی میں اس پوٹلی کو ڈال کر 20سے 25 منٹ تک چھوڑ دیں۔اس کے اثرات پانی میں گھل جائیں اب اس پانی سے بچے کو غسل کرا دیں۔یہ اینٹی سیپٹک خصوصیات وال پانی ہے۔اسے روزانہ بنائیں اور جب تک خسرہ ہے استعمال کریں۔


کیمومائل چائے
کیمومائل پودا طبی خصوصیات کا سر چشمہ مانا جاتا ہے۔یہ قدرتی اینٹی بایوٹک،اینٹی فنگل،اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی بیکٹیریل بھی ہے۔ کیمومائل کے پودے کے چند پتے ڈنڈی سمیت پانی میں ابال لیں اگر یہ پتے دستیاب نہ ہوں تو کیمومائل ٹی کے بیگز بازاروں میں آسانی سے دستیاب ہیں۔آپ انہیں صاف ستھرے برتن میں ابال لیں اور ٹھنڈا کرلیں۔

اب اس چائے میں روئی بھگو کر متاثرہ جلد پر لگائیں یا غسل کے پانی میں کیمو مائل کے چند پھول شامل کرکے اس پانی سے نہایا جا سکتا ہے۔یہ بھی مفید تدبیر ہے۔
کیلا مائن لوشن
خسرے میں مبتلا بچوں اور بڑوں کو ڈاکٹر بھی یہ لوشن تجویز کرتے ہیں۔یہ لوشن زنک آکسائڈ اور کیلا مائن کا بہترین مرکب ہوتا ہے جو جلد کی سرخی اور خارش کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ دانے پانی سے بھرے ہوتے ہیں اور بہت تکلیف دیتے ہیں چنانچہ روئی کے پھائے کی مدد سے یہ لوشن جسم کے متاثرہ مقامات پر لگانے سے آرام ملتا ہے اور خسرہ جلد ٹھیک ہوتا ہے۔
نیم کے پتے اور ان کا رس
نیم بھی اینٹی وائرل اور اینٹی سیپٹک خصوصیات کا حامل پودا ہے۔ملک کے بیشتر علاقوں میں با آسانی دستیاب ہے۔خارش زدہ جلد پر ان پتوں کا رس لگایا جائے یا مٹھی بھر نیم کے پتوں کا پیسٹ بنا کر اسے دانوں پر لگانے سے آرام ملتا ہے۔

گرمیوں میں نکلنے والے دانوں کے لئے بھی نیم کے پتوں کا جوشاندہ بنا کر غسل کے پانی میں شامل کر لیا جائے اور ہر روز بچوں کو (نیا پانی بنا کر)اس پانی سے غسل کرایا جائے تو افاقہ ہوتا ہے۔
ناریل کا تیل
دن میں دو تین بار اس تیل کے چند قطرے متاثرہ جلد پر لگائیں یہ جذب ہو جائے تو جلد پر موجود بیکٹیریا اور وائرس کو ختم کرنے میں مدد دے گا۔نہانے کے بعد جلد کو سختی سے نہ رگڑیں،ڈھیلے اور کھلے سوتی کپڑے پہنیں اور بچوں کے ناخن تراش دیں تاکہ وہ جلد پر کھجا کر زخم نہ لگا لیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-08-27

Your Thoughts and Comments