بند کریں
صحت مضامینمضامین 70لاکھ افراد کو ذیابیطس کا خدشہ

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
70لاکھ افراد کو ذیابیطس کا خدشہ
تندرستی ہزار نعمت ہے “ صحت کی قدراُن لوگوں سے پوچھیں جو بیماری میں مبتلا ہیں۔ ہماراملک اس وقت صحت کے لحاظ سے بڑی سنگین صورتحال سے دوچار ہے۔ ہمارے ملک کا ہردوسرا شخص معدے اور ہائی بلڈپریشر کے مرض میں مبتلا ہے جبکہ ہر چوتھا شخص ذیابیطس کا مریض ہے ۔ ذیابیطس ایک ایسی خاموشی بیماری ہے جوانسانی جسم کو برباد کر کے رکھ دیتی ہے ۔
تندرستی ہزار نعمت ہے “ صحت کی قدراُن لوگوں سے پوچھیں جو بیماری میں مبتلا ہیں۔ ہماراملک اس وقت صحت کے لحاظ سے بڑی سنگین صورتحال سے دوچار ہے۔ ہمارے ملک کا ہردوسرا شخص معدے اور ہائی بلڈپریشر کے مرض میں مبتلا ہے جبکہ ہر چوتھا شخص ذیابیطس کا مریض ہے ۔ ذیابیطس ایک ایسی خاموشی بیماری ہے جوانسانی جسم کو برباد کر کے رکھ دیتی ہے ۔
دراصل پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ذیابیطس کامرض دہائیوں سے موجود ہے اور اس پر قابو پانے کی کوششیں بھی ناپید ہیں۔ سرکاری اعددوشمار کے مطابق پاکستان میں 70لاکھ افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد اس مرض میں مبتلا ہونے کے دہانے پر ہیں اگر احتیاطی تدابیر اپنائی گئیں ۔
عالمی ادارہ صحت اور ذیابیطس پر نظر رکھے ہوئے دیگر عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کرنے میں ناکام رہا تو 2040تک ملک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 40لاکھ ہوجائے گی ۔
دوطرح کی ذیابیطس ہیں۔ ایک وہ جوبچپن سے ہی ہو جاتی ہے اور دوسری جو تقریباََ 40 سال کی عمر میں ہوتی ہے۔ دوسری قسم کی ذیابیطس عام طور پر خوراک میں تبدیلی ، دیہی علاقوں سے شہری علاقوں میں لوگوں کی نقل مکانی جیسی وجوہات کے باعث ہوتی ہے ۔
ڈاکٹر سہیل احمد کاکہنا ہے کہ پاکستان میں ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے آگاہی کی بے حدضرورت ہے ہماری نوجوان نسل کو خاص طور پر آگاہی کی ضرورت ہے کیونکہ اس مرض کے ہونے کی ایک بڑی وجہ ہمارا لائف سٹائل ہے ۔
اور کیا ہم معیاری خوراک کھارہے ہیں یانہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب تک سرکاری سطح پر اس بیماری سے بچاؤ کی آگاہی نہیں کی جاتی تو ذیابیطس کے مریضوں میں اضافے کو روکنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس سے بچاؤ کے حوالے سے کسی قسم کی آپریشنل پالیسی یاسٹریٹیجی موجود نہیں ہے ۔

(0) ووٹ وصول ہوئے