بند کریں
صحت مضامینمضامین آدھے سر کے درد سے کیسے نجات پائیں

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آدھے سر کے درد سے کیسے نجات پائیں
جب کوئی فرد آدھے سرکے درد میں مبتلاہوتا ہے تو قے یامتلی کی شکایت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس درد میں تیزروشنی اور آوازیں ناگوارلگتی ہیں اور نگاہ کے سامنے روشنی کے جھماکے ہونے لگتے ہیں
شکیل صدیقی:
جب کوئی فرد آدھے سرکے درد میں مبتلاہوتا ہے تو قے یامتلی کی شکایت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس درد میں تیزروشنی اور آوازیں ناگوارلگتی ہیں اور نگاہ کے سامنے روشنی کے جھماکے ہونے لگتے ہیں۔ ان کا بنیادی سبب ذہنی دباؤ ہے۔ تقریباََ 80 فیصد افراد ذہنی دباؤ کے سبب سے آدھے سرکے درد میں مبتلا ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ اس درد کی وجوہ میں گردن کادرد، نیند کاپورا ہونا، ہارمونوں میں عدم توازن یاناگوار بو کا دماغ تک پہنچناشامل ہے ۔ اس ضمن میں ہم آپ کو آدھے سرکے درد کو دور کرنے کے لیے چند مفید طریقے بتاتے ہیں۔
درد دُور کرنے والی ادویہ زیادہ نہ کھائیں:
ایک جرمن تحقیق کارکاکنہا ہے کہ اگر آپ نے ہفتے میں دوبار معالج کی ہدایت کو نظراندازکرکے زیادہ ادویہ کھالیں تو اس کانقصان آدھے سرکے درد کی صورت میں نکلے گا۔ بہرحال اس درد سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ فزیوتھراپی کرائیے اور آدھے سرکے درد سے نجات حاصل کرلیجیے۔
چکنائی کھانا کم کردیجیی :
کیلی فورنیا کو لومالنڈیونیورسٹی کے ایک تحقیق کارکاکہنا ہے کہ آدھے سرکے دعد میں مبتلا افراد کو جب بارہ ہفتے تک کم روغنی غذائیں کھلائی گئیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 94فیصد افراد نے بتایا کہ ان کے سرکے درد میں 40فیصد کمی آچکی ہے۔ چنانچہ انھیں جب بھی آدھے سر کے درد کی تکلیف ہوتی ہے تو معالج کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے روغنی کھانا کم کردیتے ہیں اور درد سے نجات پالیتے ہیں۔
جڑی بوٹیوں سے علاج کیجیے:
آدھے سر کے درد کو دور کرنے کے لیے ” بٹربر“ (BUTTERBUR) نامی پودے سے حاصل کردہ جڑی بوٹی بے حد مفید ہے۔ تحقیق کے مطابق جب 68فیصد افراد نے لوگوں کی شکل میں اس جڑی بوٹی کھانا شروع کیاتو ان کے آدھے سرکے درد میں 50فیصد کمی ہوگئی۔ آن لائن میڈیکل اسٹوروں سے رابطہ کرکے ان گولیوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
آدھے سرکے درد کودور کرنے کے لیے میڈیکل اسٹوروں پرادویہ دستیاب ہیں ۔ اگر آپ کے سر میں ہونے والا درد معمولی نوعیت کا ہے اور اس سے آپ کی روز مرہ کی مصروفیات متاثر نہیں ہورہی ہیں تو کسی میڈیکل اسٹور پر چلے جائیں اور دوا فروش سے درد دور کرنے والی کوئی دوالے لیں، لیکن اس ضمن میں اپنے معالج ضرور مشورہ کرلیں، معالج کے مشورے کے بغیر کوئی دوانہ کھائیں۔

(1) ووٹ وصول ہوئے