Amla - Hairat Angeez Sifaat Ka Hamil Phaal

آملہ۔ حیرت انگیز صفات کا حامل پھل

ہفتہ فروری

Amla - Hairat Angeez Sifaat Ka Hamil Phaal
شیخ عبدالحمید عابد
بر صغیر میں پانچ ہزار سال سے آملہ حکیموں اور طبیبوں کی توجہ کا مرکز چلا آرہا ہے۔یہ امراض دور کرنے کے لئے کھایا جاتاہے۔پھیپھڑوں کے امراض ،حیاتین”ج“(وٹامن سی)کی کمی،خون میں تیزابیت ،خفقان ،اسہال ،نزلہ وزکام اور بالوں کی کمزوری جیسے امراض میں اس کا کھانا اور استعمال کرنا بہت فائدہ دیتاہے۔

آملہ پاکستان اور ہندوستان میں پائے جانے والے ایک درخت کا پھل ہے۔یہ دیگر قدرتی جڑی بوٹیوں اور پھلوں کی طرح انتہائی مفید ہے۔آملے کی دو قسمیں ہیں:ایک جنگلی یا پہاڑی،جب کہ دوسری کو پیوندی کہتے ہیں۔یہ ہندوستان کے ساحلی ،جب کہ پاکستان کے گرم علاقوں میں پایا جاتاہے۔آملہ تازہ حالت میں سبز اور گودے دار ہوتاہے،جب کہ خشک ہونے کے بعد سیاہ ہوجاتاہے اور دو حصوں میں ٹوٹ جاتاہے۔

(جاری ہے)

آملے کا ذائقہ ترش اور قدرے تلخ ہوتاہے۔اس کا گودا ترش وکسیلا اور تیزابی ہوتاہے۔
اطبا کی اکثریت اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ آملہ ہندوستان میں پانچ ہزار سال سے بطور دوا کھایا جارہا ہے اور طب ہندی میں اسے ایک اہم مقام حاصل ہے ۔یونان کے طبیب بھی ہندی طبیبوں کے ذریعے ہی اس مشہور درخت کے پھل سے متعارف ہوئے۔یورپ اور امریکا کی جدید تحقیق کے مطابق آملے میں سات سو سے ایک ہزار ملی گرام تک حیاتین”ج“ہوتی ہے ،جو کیمیائی یا مصنوعی حیاتین ”ج“کے مقابلے میں زیادہ موٴثر انداز میں جزوبدن بنتی ہے۔

اس میں موجود کڑواہٹ یا ترشی جگر کے لئے انتہائی مفید ہوتی ہے۔ ”حیاتین ج“کی زیادہ مقدار کھانے کی وجہ سے دانتوں کی بیماری ہو جاتی ہے،اس میں مسوڑے سوج جاتے ہیں اور ان سے خون بہنے لگتاہے۔اس مرض میں آملے کو منہ میں رکھ کر چوسنے سے مسوڑے مضبوط ہو جاتے ہیں اور دانتوں سے خون آنا بند ہو جاتاہے۔آملہ خون کو صاف رکھتاہے۔اس سے تیزابیت کم ہو جاتی ہے۔

اس کے پانی سے آنکھیں دھوئی جاتی ہیں۔
چونکہ قابض مزاج ہوتاہے،اس لئے یہ مرض خفقان اور اسہال دور کرنے میں مفید ثابت ہوتاہے۔قے اور پیاس میں تسکین دیتاہے۔ بواسیر اور نکسیر کے خون کو روکتاہے۔بھوک بڑھاتاہے،بالوں کی مضبوطی ،چمک دمک کو برقرار رکھنے اور انھیں گھنا،لمبا کرنے میں جادوئی اثرات وخصوصیات کا حامل قرار دیا جاتاہے۔اس کے جو شاندے سے بالوں کو دھوتے ہیں۔

اس سے بالوں میں طاقت آجاتی ہے۔اسے کھانے سے دماغ میں انجماد خون بھی کم ہو جاتاہے۔یہ خون کی کمی ،ذیابیطس ،پھیپھڑوں کے پرانے امراض اور نزلہ زکام جیسی بیماریوں سے بچاتا ہے۔ خون میں کولیسٹرول کی مقدار کم کرتاہے۔اس سے قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے،جس سے مضر صحت کو لیسٹرول تحلیل ہو جاتاہے۔علاوہ ازیں یہ سرطان کے خطرات کو بھی کم کرتاہے۔
آنکھوں کے اکثر امراض میں آملہ بہت مفید ثابت ہوتاہے ،مثلاً آشوب چشم(آنکھیں دکھنا اور سرخ ہونا)اور نظر کی کمزوری وغیرہ۔

اسے باریک پیس کر اور اس کے ہم وزن شکر ملا کر روغن بادام معمولی شامل کرکے صبح ناشتے سے قبل 20گرام کی مقدار میں کھانے سے فائدہ ہوتاہے۔آملے کا مربا اور اچار بھی بنایا جاتاہے۔دھوکر چاندی کے ورق میں لپیٹ کر یہ مربا نہار منہ کھانے سے قلب کو تقویت ملتی ہے۔ اس کے علاوہ خفقان ،دماغ اور معدے کی کمزوری کے لئے بھی مفید ہے۔یہ دل کی دھڑکن میں اعتدال پیدا کرتاہے۔

یہ پھوڑے پھنسیوں کو ختم کرنے کے لئے بھی مفید ہے۔آملے کے رس اور فلفل دراز کو شہد میں ملا کر کھانے سے ہچکی فوراً بند ہو جاتی ہے۔خواتین بال لمبے کرنے اور انھیں خوب صورت بنانے کے لئے لاکھوں جتن کرتی ہیں،مہنگے شیمپو خریدے جاتے ہیں،جو اکثر اوقات الٹا اثر کرتے اور بالوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ،جب کہ روغن آملہ بالوں کے لئے انتہائی مفید اور بے ضرر ثابت ہوتاہے۔


اگر سر کے بال سفید ہو رہے ہوں تو انھیں سیاہ کرنے کے لئے آملہ،ہڑ اور بیڑہ ہم وزن مقدار میں لے کر کوٹ لیں اور رات کو کسی لوہے کی کڑاہی یا برتن میں پانی ڈال کراسے بھگو دیں۔صبح کو اس کا لیپ بالوں کی جڑوں میں اچھی طرح لگائیں اور ایک گھنٹہ بعد سر سادہ پانی سے دھو ڈالیں۔بال سیاہ،گھنے،لمبے اور چمک دار ہو جائیں گے۔چکر دور کرنے میں بھی آملہ بہت فائدہ مند ہے۔اس کے لئے آملہ نو گرام ،دھنیا نو گرام دونوں کو ملا کر رات کے وقت پانی میں بھگو دیں۔صبح کو پانی چھان کر مصری یا شکر مال کر پییں۔چند روز کے بعد فائدہ ظاہر ہونے لگے گا۔آملہ ذیابیطس کو قابو کرنے میں بھی بہت مفید ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-02-08

Your Thoughts and Comments