Antoon Main Tabdeeli K Asraat - Article No. 2009

کیا آنتوں میں رہائش پزیر خوردبینی جاندار دواؤں کے اثرات میں تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں؟ - تحریر نمبر 2009

ڈاکٹر حامدمرچنٹ، جامعہ ہڈرسفیلڈ، انگلینڈ بدھ نومبر

Antoon Main Tabdeeli K Asraat - Article No. 2009
ہماری آنتوں میں کھربوں خوردبینی جاندار یعنی مائیکرو آرگنانزم قیا م پزیر ہیں، جس میں کم اذ کم ہزار مختلف اقسام کے جاندار شامل ہیں جو تیس لاکھ مختلف جینیاتی مرکبات پر مشتمل ہیں۔ بیشتر کھائی جانے والی ادویات کے اثرات مختلف افراد میں یکساں نہیں ظاہر ہوتے۔ ایک ہی دوا سے ہونے والے مضر اثرات کی شکل اور شدت بھی لوگوں میں مختلف ہوتی ہے۔

دوا کھانے کے بعد آنتوں سے جزب ہوتے وقت دوا وہاں مقیم خوردبینی جاندار وں سے بھی رابطہ میں آجاتی ہیں۔ یہ خوردبینی جاندار دوائیوں کے اثرات میں اہم تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔ سائینسی تحقیق کے ایک مشہور جریدے نیچر میں چھپنے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق سائنسدانوں نے معلوم کیا ہے کہ خوردبینی جاندار دواؤں کو جزب ہونے سے پہلے ان کی کیمیائی شکل کو تبدیل کردینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

(جاری ہے)

اس تحقیق میں خوردبینی جاندار وں سے دوائیوں کے اثرات میں بے پناہ اضافہ یا پھر دواؤں کے ذہریلے مرکبات میں بھی تبدیل ہوجانے کے شواہد ملے ہیں۔
ہمارےپیٹ میں پائے جانے والے خوردبینی جاندار کی انتہائی اقسام ہیں، حتہ کہ خوردینی جانداروں کا کُل جنیاتی مرکب ہمارے انسانی جسم کے تمام جنیات سے سو گناہ ذیادہ ہے۔ حالیہ تحقیق میں دواؤں اور خوردبینی جانداروں کے بیس ہزار جوڑوں کی جانچ پڑتال کی گئی اور نتیجتاً بننے والے چھ ہزار سےذائد کیمیائی مرکبات کا جائزہ لیا گیا۔

خوردبینی جاندار وں کے دواؤں پر اثر کے نتیجے میں کچھ دوائیں موئثر ہوگئی مثلاً سلفا سیلاذین، جبکہ کچھ دوائیں بے اثر ہوگئیں مثلاً ڈیجوکسن۔ حیران کن بات یہ ہے کہ کئی دوائیں ذہریلے مرکبات میں تبدیل ہو گئیں، مثلاً سوریووڈین، بریووڈین، ایرینوٹیکان۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اکثر ادویات چھونٹی آنتوں سے جزب ہو جاتی ہیں اور خوردبینی جاندار جوعموماً بڑی آنت میں قیام پزیر رہتے ہیں ، تک نہیں پہنچتیں۔

درحقیقت دوائیں چھوٹی آنت سے مکمل طور پر جزب نہیں ہو پاتیں اور انکا کچھ حصہ عموماً بڑی آنت تک ضرور پہنچتا ہے اوراسطرح خوردبینی جانداروں سے رابطہ میں آ جاتا ہے۔ حالیہ تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ کچھ کیمیائی اشکال کا دواؤں کے کیمیا ئی مرکب میں موجود ہونا اس بات کی پیش گوئی کر سکتا ہےکہ پیٹ میں خوردبینی جاندار اِن دواؤں پر اثر اندازہوسکتے ہیں۔

اس معلومات سےنہ صرف دواؤں کے خوردبینی جانداروں سے ممکنہ اثرات کی پیشن گوئی کی جاسکتی ہے، بلکہ انسانی آنتوں میں رہنے والے خوردبینی جاندروں کی اقسام میں دانستہ تبدیلی کر کے دواؤں کے اثرات میں ہونے والی ممکنہ منفی تبدیلی کوبھی روکا جا سکتا ہے۔
انسانی جسم میں بڑی آنت میں رہنے والے خوردبینی جاندار وں کی نسل و اقسام کا دارومدار بہت حد تک ہماری غزاء اور صحتمندانہ رہن سہن پر مبنی ہے۔

ایک صحتمند انسان کی آنتوں میں رہنے والے یہ جاندار ہماری غذا سے بچنے والے غیر ہضم شدہ مادّوں کو بطورِخوراک استعمال کرتے ہیں اور بدلے میں ہماری آنتوں کو بیماری پھیلانے والے جراثیموں کے حملے سے بچاتے ہیں اور انسانی جسم کے لئے وٹامن اور دیگر مفید اجزاء بھی پیدا کرتے ہیں۔ لیکن اگر ان خوردبینی جانداروں کا تواذن بگڑ جائے تو یہ صحت کیلئے بہت ہی مضر مرکبات پیدا کرسکتے ہیں جس سے نہ صرف آنتوں کی سوذش بلکہ بہت سے دیگردائمی امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔

خوردبینی جانداروں کے اس بگڑے تواذن کو بحال کرنے کیلئے فیکل ٹرانسپلانٹ کا عمل ایک عرصہ سے مغربی دنیا میں عام طور پر کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں ایک صحتمند انسان کے جسم سے خارج شدہ فضلہ کو اینڈوسکاپی ٹیوب کے ذریعہ بیمار انسان کی بڑی آنت میں داخل کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اس طریقہ علاج کو مشرقی دنیا میں اب تک اتنی ذیادہ پزیرائی نہیں ملی۔

گزشتہ برس بی بی سی کی خبروں میں آنے والی خبر شائد آپکی نظر سے گزری ہوگی جس میں صحتمند انسانوں کو اپنے فضلہ کے عطیہ کی گزارش کی گئی تھی۔ آ ج بھی انگلینڈ کے اسپتالوں میں سی ڈیف اسہال کے ایسے مریضوں کا علاج جو انٹی بائیوٹکس سے ٹھیک نہیں ہوپاتے ، فیکل ٹرانسپلانٹ سے ہی کیا جاتا ہے ۔
انسانی صحت کیلئے مفید خوردبینی جانداروں کی افزائش نسل لیباٹری میں بھی کی جاتی ہے اور انکو خوراک کے ساتھ بھی شامل کرکے استعمال کیا جاتا ہے۔

ان جانداروں کو پروبائیوٹِکس کہتے ہیں۔ دہی اور اس سے بننے والی مصنوعات عام طور پر استعمال ہونے والی پروبائیوٹکس کی ایک عام قسم ہے جس میں لاکھوں کی تعداد میں مفید خوردبینی جاندار ذندہ حالت میں موجود ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہمارئی غزا ء میں شامل کچھ ایسے فائبر اور اجزاء بھی ہوتے ہیں جنہیں ہمارا جسم ہضم نہیں کرپا تا اور وہ بڑی آنتوں میں ان خوردبینی جانداروں کی غزا ء بن جاتے ہیں۔

ان نہ ہضم ہونے والے غزائی اجناس کو پِری بائیوٹِکس کہتے ہیں۔ ان اجزاء کا خوراک میں باقاعدگی سے استعمال صحت کیلئے مفید خوردبینی جانداروں کی افزئشِ نسل میں معاون کردار ادا کرتا ہےجو بیماری پھیلانے والے جراثیموں کوآنتوں میں گھر کرنے سے بچاتے ہیں۔ اسطرح پِری اور پرو بائیوٹِکس انسانی آنتوں میں قیام پزیر خوردبینی جانداروں کی نسل و اقسام میں تبدیلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسلئے یہ قدر ِممکن ہے کہ مستقبل میں انفرادی طور پر دوائیوں کی افادیت کو بہتر بنانے اور اسکے مضر اثرات کو کم کرنے کیلئے دواؤں کے ساتھ خاص اقسام کی پِری اور پرو بائیوٹکس کا نسخہ بھی لکھا جانے لگے۔
اپنے پیٹ کی آواز سُنیں ، ہماری آنتوں میں مقیم خوردبینی جاندار وں میں بہت سے دائمی امراض کے خفیہ رازپوشیدہ ہیں متوازن غزا کا استعمال کریں اور صحتمند طرزِزندگی اپنائیں ۔
تاریخ اشاعت: 2020-11-18

Your Thoughts and Comments