Apna Khayal Rakhne Ki Sciencei Tadbeer - Article No. 1953

اپنا خیال رکھنے کی سائنسی تدبیر - تحریر نمبر 1953

ہفتہ ستمبر

Apna Khayal Rakhne Ki Sciencei Tadbeer - Article No. 1953
آپ میں سے بہت سوں نے لوگوں کو کہتے سنا ہو گا”اپنا خیال رکھئے گا“۔یہ جملہ اب روز مرہ کی اخلاقیات اور طرز زندگی کا حصہ بن چکا ہے، ملاقات کے اختتام پر احتراماً بھی یہ کہا جاتا ہے اور ہر عمر کے لوگ بے تکلفی سے ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں ۔کبھی آپ نے اس جملے کی حقیقت اور پس منظر کو جاننے کی کوشش کی۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک روٹین کی بات ہے نہیں صاحب!اس میں بڑی گہرائی موجود ہے۔

آئیے جاننے کی کوشش کریں کہ ایسی کون کون سی علامات ہیں جو ہمیں ہر وقت مضمحل اور اضطرابی کیفیت میں مبتلا رکھتی ہیں۔زندگی میں ہزار ہا مسائل بھی ہو سکتے ہیں اور اطمینانی صورتحال بھی ،اسی طرح کسی شخص پربے پناہ ذمہ داریوں کا بوجھ ہو سکتا ہے۔اس لئے لوگ ہر کسی کو خوش کرنے کے خیال سے آپ اپنا خیال رکھنا بھول جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

خود کو نظر انداز کرتے ہیں تاکہ دوسروں کو وقت دیا جاسکے۔


اپنا خیال رکھنا خود غرضی نہیں ہوتا
ہم سب ایک دماغ ،ایک جسم اور ایک ہی زندگی کے مالک ہوتے ہیں اگر ہمارا دماغ الجھا رہے،تفکرات میں گھرا رہے اور جسمانی صحت بر قرار نہ رہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہم نے اپنا خیال نہیں رکھا۔صحت کے مسائل بڑھا لئے،ذہنی افکار کو مثبت رخ نہ دیا نہ وقت پر کھایا نہ متوازن غذا کی یقین دہانی کی اور نہ ہی بھر پور نیند لی اس طرح خود کو نظر انداز نہ کیا یہ عمل یعنی اپنا خیال رکھنا ہر گز بھی خود غرضی نہیں ہوتی۔

آئیے اب عام علامات کا بھی جائزہ لیتے چلیں․․․․
کیا آپ کام کے وقت اونگھتے رہتے ہیں؟
اکثر لوگوں کو دن میں ثقیل غذائیں لینے کے آدھ پون گھنٹے بعد نیند آنے لگتی ہے۔یہ فطری عمل ہے ہر وقت ادھ جاگے ادھ سوئے کی کیفیت رہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہم رات کی نیند پوری نہیں کر رہے۔اگر ہم رات 11 بجے سے صبح 6بجے تک کی 8گھنٹے کی نیند لے لیتے ہیں تو ہر وقت اونگھتے رہنے کی عادت سے نجات مل سکتی ہے۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ نیند صحت کے لئے نعمت سے کم نہیں۔
اگر آپ کی جلد خشک رہنے لگے،مگر اس کا حل کیا ہو
ہر موسم میں جلد کا Textureبدلتا ہے۔سردیوں میں آب و ہوا خشک ہوتی ہے اور ہمیں پسینہ نہیں آتا۔گرمیوں کے موسم میں ہوا میں نمی کا تناسب قدرے زیادہ ہوتا ہے لہٰذا پسینہ آتا ہے۔جسم میں پانی کی گرمی دور کرنے کے لئے شربت،تازہ پانی اور تربوز جیسے پھل کھاکے جسم کو اعتدال میں رکھتے ہیں۔

سردیوں میں موئسچرائزر،تیلوں اور کولڈ کریم کا استعمال کرنا پڑتا ہے تاکہ جلد کی خشکی دور ہو لیکن ماہرین امراض کا کہنا ہے کہ اگر لوگوں کی غذا اچھی ہو یعنی متوازن ہو اور وہ چکنائیاں بھی خوراک کا حصہ بنا رہے ہوں تو عموماً جلد نم آلود ہی رہتی ہے۔
کیل مہاسے لمبے عرصے تک نکلتے رہیں تو․․․․
اس کیفیت کے معنی یہ ہوئے کہ جسم میں کوئی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔

آپ کے ہارمونل سسٹم میں کچھ گڑ بڑ ہوئی ہے یا پھر آپ نے ذہنی دباؤ اور پژمردگی پر قابو نہیں پایا ہے یا آپ نے میٹھی غذائیں ضرورت سے زیادہ کھانی شروع کی ہیں۔آپ یہ سب ترک کرکے ہری سبزیوں اور پھلوں کو غذا کا جزو بنانا شروع کر دیں تو اس مسئلے سے نجات مل سکتی ہے مگر ساتھ ہی ساتھ زیادہ مقدار میں پانی پینا،7سے 9گھنٹوں کی پر سکون نیند لینا اور تیز قدمی جیسی ورزش کو معمول بنا لیں تو بہت جلد جلد صاف ہو سکتی ہے اور نکھر سکتی ہے۔

تاہم ماہر جلد کی تجویز کردہ ادویات کا استعمال بھی جاری رکھنا ضروری ہے۔
عضلات کی اینٹھن میں اضافہ ہوتو․․․․
آج کل کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھے رہنا کام اور زندگی کا معمول بن چکا ہے۔بے شک اس سے مفر نہیں کہ ٹیکنالوجی نے ہمیں بے شمار آسانیاں مہیا کی ہیں مگرکئی کئی گھنٹوں تک یکساں کیفیت کے ساتھ بیٹھے رہنا اور کام کرتے رہنا تھکن کا باعث بنتا ہے لیکن جسے لوگ اپنی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اکثر لوگ رات کے وقت جسم میں اکڑن یا عضلاتی اینٹھن کو بری طرح محسوس کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی درد کش دوا کھائی جائے ماہرین طب کا کہنا ہے کہ جسم کو تھکانے اور Magnesium Level کم ہونے کی وجہ سے یہ اکڑن پیدا ہوتی ہے اگر آپ ہرے پتوں والی سبزیاں اور موسم کے پھل کھاتے رہیں اور یہی نہیں بلکہ وافر مقدار میں پانی بھی پئیں۔ ساتھ ہی ساتھ نیند بھی پوری کرتے رہیں تو آپ کا طرز زندگی بہتر ہوتا چلا جائے گا۔

بنیادی باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ناشتے سے لے کر رات کے کھانے تک خوراک کے معیار کو جانچنا ضروری ہے۔اگر قوت مدافعت کا نظام مضبوط ہو تو بیماریوں سے حتیٰ الامکان حد تک محفوظ رہا جا سکتا ہے۔غذا میں پروٹین،وٹامنز،معدنی عناصر شامل ہوں تو جسم ہمارا دفاع کرتاہے۔اسی تدابیر کو آپ اپنا خیال رکھنا کہا جاتا ہے۔گھر کے سر براہ صحت مند ہوں تو اپنے دیگر متعلقین کی صحت اور زندگی کے امور پر توجہ دے سکیں گے وگرنہ زندگی بوجھ بنتی چلی جائے گی۔
تاریخ اشاعت: 2020-09-12

Your Thoughts and Comments