بند کریں
صحت مضامینمضامیناپینڈکس

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اپینڈکس
جسم کیلئے مفید بیکٹیریا کا گڑھ
غلام زہرا :
اپینڈکس کاشدید درد انسان کاجینا دو بھر کردیتا ہے ۔ اکثر لوگ اس درد سے خوف زدہ رہتے ہیں اور درد کی صورت میں اپینڈکس کاآپریشن کروانے میں دیرنہیں لگاتے۔ اب ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ ڈاکٹروں کی جانب سے ایک عرصے تک بے مصرف قراردیے جانے والا اپینڈکس بہت کارآمد ہے اور اس میں جسم کے لیے مفید بیکٹیریا کی ایک بڑی مقدار موجود ہوتی ہے ۔ اپینڈکس انسان کی بڑی اور چھوٹی آنت کے سنگم پر موجود ہوتا ہے اوسطاََ اس کی لمبائی 9 سینٹی میٹر ہوتی ہے ۔ لیکن یہ دو سے بیس سینٹی میٹر تک بھی ہوسکتا ہے۔ پوری دنیا میں پتے کے بعد آپریشن کے ذریعے سب سے زیادہ آپریشن کے ذریعے نکالے جانے والا عضو غریب اپینڈکس ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں سوزش پیدا ہوجاتی ہے اور اپینڈیکس پھٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔
لیکن ماہرین کے مطابق اب اپینڈکس جسم کے لیے مفید بیکٹیریا کاایک گڑھ ہوتا ہے جو پورے انسان پر مفید اثرات مرتب کرتے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق اپینڈکس ایک چھوٹی سے تھیلی کی مانند ہوتا ہے جو لمفی ٹشو پر مشتمل ہوتا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ انسانوں کے علاوہ بھی دودھ پلانے والے 500 ممالیہ میں اپینڈکس ہوتا ہے جن میں خرگوش اور بن مانس وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اب تک ماہرین اس کی معقول وجہ بتانے سے قاصر رہے ہیں۔ ایرویزناکالج آف آسٹیوپیتھک سے وابستہ ڈاکٹر ہیدر اسمتھ نے اپینڈکس کے حامل 533 ممالیہ کا مطالعہ کیا ہے ا ور وقت کے ساتھ ساتھ اپینڈکس میں تبدیلی نوٹ کی ہے لیکن کسی بھی جاندار میں یہ غائب نہیں ہوا۔ ڈاکٹر اسمتھ کے مطابق اس میں لمف ٹشو ہوتے ہیں جو جسمانی امنیاتی نظام کو مضبو بناتے ہیں ۔ اس طرح اپینڈکس اہم ترین بیکٹیریا کا گودام ہوتا ہے اور انسان کو تندرست رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔

(1) ووٹ وصول ہوئے