بند کریں
صحت مضامینمضامینبچوں میں اسہال اور پیچس

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچوں میں اسہال اور پیچس
جب پاخانہ زیادہ مقدار میں پتلے اور بار بار آتے ہیں اس کے ساتھ اکثر درد ہوتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انتڑیوں میں بل پڑرہے ہوں

بچوں میں اسہال اور پیچس:
اسہال دستوں کو کہتے ہیں پیچس اور دست دو مختلف حالتیں ہیں اگرچہ کبھی کبھی ان دونوں حالتوں کا سبب ایک ہی ہوتا ہے،دست اس حالت کو کہتے ہیں جب پاخانہ زیادہ مقدار میں پتلے اور بار بار آتے ہیں اس کے ساتھ اکثر درد ہوتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انتڑیوں میں بل پڑرہے ہوں۔پیچس میں بھی پاخانہ بار بار آتا ہے لیکن کم مقدار میں پتلا بھی ہوتا ہے اور گاڑھا اورسخت بھی اس میں بھی درد ہوتا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انتڑیاں نیچے کوکھینچی جارہی ہیں اورباہر آنے کو کرتی ہیں۔بچوں میں دست اکثر بدہضمی کے باعث آتے ہیں خواہ دودھ پیتے ہی بچے ہی کیوں نہ ہوں اس میں جب وہ دانت نکال رہے ہوتے ہیں اس زمانے میں دانت مسوڑھوں میں درد ہوتا ہے جس کے باعث ہضم کے فعل میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہیں اور دست آنے لگتے ہیں۔مسوڑھوں میں سکون پیدا کرنے کے لیے ملیٹھی کی ایک پتلی سی ٹہنی لیں اس کے اوپر کے چھلکے صاف کردیں اور اسے بچے ہاتھ میں دے دیں وہ اسے منہ میں ڈال لے گا اور اسے چبانے کی کوشش کرے گا اس سے مسوڑھوں کی سوزش دور ہوجائے گی اور دست بھی رک جائیں گے اگر اس سے کامیابی نہ ہو تو کسی ماہر کا مشورہ حاصل کریں۔بڑوں میں بھی بدہضمی سے دست آنے لگتے ہیں اپنی خوراک درست کریں اور بدل دیں بڑوں اور بچوں میں متعدی امراض کے باعث بھی دست آنے لگتے ہیں اگر ان دستوں کی پروا نہ کی جائے اور علاج کی طرف توجہ نہ دی جائے تو ہیضے کی سی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔
اسہال کے سبب یہ ہوسکتے ہیں:
۱۔سردی لگنا یا لو لگنا۔
۲۔زیادہ کھانا(پرخوری)
۳۔گھر کے ماحول کا غلیظ ہونا
۴۔ردی اور کچا پکا کھانا کھانا یا کچے پھل استعمال کرنا۔
تالابوں کے پانی میں ایسی اشیا یا جراثیم پائے جاتے ہیں جو انتڑیوں میں سوزش پیدا کردیتے ہیں ان کے باث پیٹ میں شدید درد ہونے لگتا ہے اور پھر دست آنے شروع ہوجاتے ہیں۔
پیچس بھی ایک خطر ناک مرض ہے جس کی علامتیں یہ ہوتی ہیں:
بار بار پاخانے کی حاجت ہوتی ہے اور جب کرنے بیٹھو تو بہت زور لگانا پڑتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انتڑیوں بھی باہر کو آرہی ہیں لیکن پاخانہ بہت قلیل مقدار میں خارج ہوتا ہے اس کا زیادہ تر حصہ خون اور بلغم(آؤں)پر مشتمل ہوتا ہے عام طور پر یہ دو قسم کی ہوتی ہے۔
۱۔جراثیمی
۲۔امیبائی#
جراثیمی قسم شدید صورت میں ظاہر ہوتی ہیں اور امیبائی اکثر مزمن ہوتی ہیں اس کی تیسری قسم وہ ہے جومرچ مسالے زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے پیدا ہوتی ہیں اور اس قسم کے دیگر خراش پیدا کرنے والی اشیا کے کھانے سے بھی لاحق ہوجاتی ہیں جراثیمی قسم شدید اور خطرناک ہوتی ہیں۔امیبائی اگرچہ مزمن صورت اختیار کرلیتی ہے لیکن انجام کا ر اس سے جگر میں پیپ بڑھ جاتی ہیں جو زندگی کے لیے بڑی خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔
پیچس سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل احتیاطیں ضروری ہوں گی:
۱۔زیادہ مرچ مسالے اور انتڑیوں میں خراش پیدا کرنے والی دیگر اشیا سے قطعی پرہیز کریں۔
۲۔جسم کو لو یا سردی لگنے سے بچائیں اور بالخصوص بھیگے ہوئے کپڑے نہ پہنیں۔
۳۔اگر رات کو کمرے کے اندر اور پنکھے کے نیچے سورہے ہوں تو پیٹ پر کپڑا لپیٹ کر سوئیں۔
۴۔ایسے مکانوں میں زیادہ دیر تک نہ ٹھہریں جہاں بدبو آرہی ہو اور زیادہ لوگ جمع ہورہے ہوں اور جہاں تک ہوسکے کھلی ہوا میں رہنے کی کوشش کریں مکانوں کی چھت پر اورا ٓسمان کے نیچے زیادہ وقت گزارنے کی کوشش کریں اور بند کمروں کے اندر پڑے رہنے سے پرہیز کریں۔
۵۔اچھی اور بہتر غذا جو خوب اچھی طرح پکائی گئی ہو وہی استعمال کریں اور کچی پکی غذا سے پرہیز کریں۔
۶۔صاف ستھرا پانی استعمال کریں اور اگر شک ہو تو پینے سے پہلے ابال لیں۔
۷۔پیچس کے مریض نے جو اشیا استعمال کی ہوں انہیں یا تو اچھی طرح دھو کر خوب پاک و صاف کرلیں یا اگر ممکن ہو تو ان کو جلادیں۔
۸۔مریض کے تمام کپڑوں اور بستر کو کھولتے ہوئے پانی میں ڈال کر صاف ستھرا کریں اور ان کپڑوں کو دوسرے کپڑوں کے ساتھ ملا کر نہ دھوئیں۔
۹۔مریض کے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہ کھائیں نہ ہی اس کے برتن استعمال کریں اور نہ ہی اس کا جھوٹا پانی پئیں۔
۱۰۔مریض کی تیماداری کے بعد اپنے ہاتھ صابن سے خوب اچھی طرح دھولیں بالخصوص کھانا کھانے سے پہلے۔
۱۱۔اگر مریض تندرست ہوجائے یا فوت ہوجائے تو جس کمرے میں رہ چکا ہو اسے اچھی طرح صاف کرکے سفیدی کرائیں اور اس سے پہلے بہترہوگا کہ اس میں ہرمل کی دھونی دیں یا تمباکو جلائیں۔
۱۲۔گھر کے مکھیوں سے صاف رکھنے کی کوشش کریں اور کھانے پینے کی اشیا کو ڈھانپ کررکھیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے