بند کریں
صحت مضامینمضامینبڑھتا ہوا شور اور ہماری سماعت

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بڑھتا ہوا شور اور ہماری سماعت
آواز کی خوب صورتی اور افادیت اس وقت تک ہے، جب تک یہ متوازن ہوگا۔ اگر آواز بہت زیادہ اونچی اور بے ترتیب ہوجائے تو یہ شور کی صورت اختیار کرلیتی ہے، جو انسانی اعصاب اور صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
محمد عثمان حمید:
آواز کی خوب صورتی اور افادیت اس وقت تک ہے، جب تک یہ متوازن ہوگا۔ اگر آواز بہت زیادہ اونچی اور بے ترتیب ہوجائے تو یہ شور کی صورت اختیار کرلیتی ہے، جو انسانی اعصاب اور صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
دنیا بھر میں ماحول کی آلودگی اور اس سے بچاؤ کی تدابیر کابہت چرچاہے۔ شور بھی ماحولیاتی آلودگی کا ایک بڑا سبب ہے، جس سے بچنا انسانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ شور کاآغاز دھات کی ایجاد اور اس کے استعمال کے ساتھ ہی ہوا۔ تانبے اور لوہے کی دریافت کے بعد بارودکی ایجاداور صنعتوں کے فروغ سے شور میں اضافہ ہوا۔ پھر ریل گاڑی، ہوائی جہاز اور اس نوع کی دیگر ایجادات نے گراہٴ ارض پر شور میں بہت زیادہ اضافہ کردیا زیادہ شور قوت سماعت میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔
بڑھتی ہوئی آبادی نے جہاں زندگی کی سرگرمیوں کو یکسرتبدیل کرڈالا۔ وہیں ہماری صحت پر بھی برے اثرات مرتب کیے۔ ٹریفک کاشور بڑے شہروں میں زندگی کاایک لازمی حصہ بن چکاہے۔ انسانی سرگرمیوں میں مشینوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے ہم رفتہ رفتہ آوازوں کے ایک ایسے حصار میں قید ہورہے ہیں، جس سے نکلنا اب ممکن نہیں۔ رات کے سناٹے میں رکشے کی آواز کی قدرنا کوگزارتی ہے، اس کااندازہ ان لوگوں کو ضرور ہوگا، جن کے گھر شاہراہوں سے قریب ہیں۔
بغیر سائلنسر کارکشا کان کے پردے پھاڑدینے والی آواز کے علاوہ مضر صحت دھواں بھی خارج کرتا ہے۔ اس کااندازہ ماہرین کی اس رائے سے لگایاجاسکتا ہے کہ ہوائی جہاز کے چلنے پر اس کے انجن کی آواز ابتدائی طور پر 110سے 120 ڈیسی بل (DECIBLE) ہوتی ہے، جب کہ رکشاچلنے پر اس کی آواز 95سے 100 ڈیسی بل ہوتی ہے۔ اس مثال سے اُن گاڑیوں سے پیدا ہونے والی صوتی آلودگی کا بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں، جو بغیر سائلنسر کے سڑکوں پر دوڑتی پھرتی ہیں۔ ماحول میں موجود تیزوکرخت اور اعصاب شکن آوازیں انسان کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کررہی ہیں۔گنجان آباد شہروں ، تجارتی اور صنعتی مراکز میں آوازوں کایہ سیلاب انسان کی صحت کوتباہ کررہا ہے۔
اگر بہت زیادہ تیز آواز دیر تک قائم رہے تو کان کے اندرونی حصے شدید متاثر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے قوت سماعت میں ہمیشہ کے لیے کمی آجاتی ہے۔
مختلف حالات میں آواز مختلف لوگوں پر مختلف اثرات مرتب کرتی ہے۔ کچھ لوگوں کے کان بہت حساس ہوتے ہیں، ایسے لوگ اگر تھوڑے عرصے کے لیے بھی حد سے زیادہ شور والی جگہ پر کام کریں توانھیں نقصان پہنچتا ہے، جب کہ لوگ بہت زیادہ عرصے تک شور والی جگہ پرکام کرنے کے باوجود متاثر نہیں ہوتے۔
مستقل شور کے علاوہ شور کی ایک دوسری قسم بھی ہے، جسے ضرباقی شور کہاجاتا ہے،مثلاََ رائفل کی آواز، ہتھوڑا چلانے کی آوازم پرانے ڈیزل انجن کی آواز اور گھریلو جنریٹر کی آواز۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض اوقات شوروالی جگہ چھوڑنے کے باوجود لوگوں کی قوت سماعت متاثر ہوتی ہے۔ اس کی علاوہ شور والی جگہ پرکامکرنے والے لوگ اگرادویہ کھائیں تو عام لوگوں کی نسبت انھیں زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔
شور صرف انسانی قوت سماعت ہی کومتاثر نہیں کرتا، بلکہ جسم کے دوسرے حصے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کی نیند متاثر ہوتی ہے، وہ سکون سے سو نہیں سکتے، مختلف ذہنی بیماریوں اور چڑچڑے پن کاشکار ہوجاتے ہیں۔
آوازوں کے سماعت پرکیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ اس کااندازہ ہمیں معاشرے میں بڑھتے ہوئے نفیساتی امراض سے ہوسکتا ، خاص طور پر آواز اس صورت میں زیادہ اثر کرتی ہے، جب وہ مسلسل اور تیز ہو۔ غیر متوقع اور اچانک بلند ہونے والی آوازیں بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔ گاڑیوں کے ہارن کی تیز آوازیں اس کی ایک مثال ہیں۔
تیز آواز سماعت کی خرابی، اعصابی تناؤ اور ذہنی دباؤ ہے، جب کہ ذہنی دباؤ اور اعصابی تناؤ دوسری جسمانی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں، جن میں امراض قلب اورمعدے کازخم بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ناک کان اور گلے کے امراض بھی شامل ہیں۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ ملک میں عمومی اور بڑے شہروں میں خصوصی طور پر ناک، کان اور گلے کے امراض کی زیادتی پائی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق فضائی اور صوتی آلودگی ناک، کان، اور گلے کے امراض میں اضافہ کررہی ہے۔ صوتی آلودگی بہرے پن کاباعث بنتی ہے۔ بہرے پن کی بہت سی وجوہ ہوسکتی ہیں، مثلاََ کوئی بیماری کوئی کرخت آواز، دھماکا یابہت تیز شور۔ اسی طرح میوزک سننے کے لیے ”واک مین“ کا مسلسل استعمال یا موبائل فون کالیں سننے کے لیے کانوں میں مسلسل ائیرفون کالگائے رکھنا بھی سماعتی خرابی کاباعث بنتا ہے۔
ماہرین نے دوسری آلودگی کی طرح صوتی آلودگی کوبھی صحت کے لیے ہر طرح سے مضرقرار دیاہے۔ تیزآواز صحت کے مسائل پیداکررہی ہے۔ ان مسائل کا حل اس صورت میں ممکن ہے، جب لوگوں کو تیز آوازوں کے سنگین اثرات سے آگاہ کیاجائے اور انھیں بنیادی معلومات فراہم کی جائیں۔ اس سلسلے میں ٹھوس پیمانے پر بنیادی اقدامات کرنے چاہییں، مثلاََ صنعتی علاقوں میں مشینی شور سے بچنے کے لیے احتیاطی اقدامات کیے جائیں۔ پبلک اور پرائیویٹ گاڑیوں کوضابطوں کا پابند بنایا جائے۔
صوتی آلودگی سے انسانی صحت پر پڑنے والے انتہائی مضراثرات ہمارے سامنے ہیں۔ ان اثرات سے بچاؤ اسی وقت ممکن ہے، جب عوامی اور سرکاری سطحوں پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ ہرفرد اپنی ذمے داری محسوس کرے۔ حکومت عوام کی رہنمائی کرے، جب کہ عوام اپنی صحت کے لیے فضائی اور صوتی آلودگی میں ممکنہ حدتک کمی کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے