بند کریں
صحت مضامینمضامینبڑوں میں یرقان کی وجوہات اور علاج

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بڑوں میں یرقان کی وجوہات اور علاج
بڑوں میں یرقان یاجسے جوائنڈس یاپیلیا بھی کہتے ہیں، ایک ایسا مرض ہے جس میں جلد اور آنکھ کا سفید حصہ پیلا پڑجاتا ہے ۔ عموماََ مرض نوازائیدہ بچوں پایاجاتا ہے لیکن انسان عمر کے کسی بھی حصے میں اس کا شکار ہوسکتا ہے۔ یرقان کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ بڑوں میں یرقان جگر، خون یاپتے کے مسائل کی علامت ہوسکتا ہے۔
بڑوں میں یرقان یاجسے جوائنڈس یاپیلیا بھی کہتے ہیں، ایک ایسا مرض ہے جس میں جلد اور آنکھ کا سفید حصہ پیلا پڑجاتا ہے ۔ عموماََ مرض نوازائیدہ بچوں پایاجاتا ہے لیکن انسان عمر کے کسی بھی حصے میں اس کا شکار ہوسکتا ہے۔ یرقان کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ بڑوں میں یرقان جگر، خون یاپتے کے مسائل کی علامت ہوسکتا ہے۔
یرقان میں ہونے کی وجوہات :
یرقان تب ہوتا ہے جب بلی روبین کی مقدار بڑھ جاتی ہے ۔ بلی روبین خون میں موجود ایک زرد سے نارنجی رنگ کامادہ ہوتا ہے جو خون کے سرخ خلیات میں پایاجاتا ہے ۔ جب یہ خلیات مرجاتے ہیں، جگر انھیں خون میں سے چھان لیتاہے ۔ لیکن اگر اس نظام میں کوئی عضر پیدا ہوجائے تو جگر صحیح طرح کام نہیں کرتااور بلی روبین زیادہ تعداد میں بننا شروع ہوجاتے ہیں جس سے جلد پیلی معلوم ہوتی ہے ۔ یرقان بڑو ں میں اتنا عام نہیں ہے جتنا بچوں میں لیکن اس کے ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ جن میں سے چند کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے ۔
ہیپاٹائٹس : اکثریہ انفیکشن ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ یہ قلیل الحیات بھی ہوسکتا ہے اور دائمی بھی ۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ چھ ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے ۔ مخصوص ادویات کااستعمال اور مدافعتی نظام کی خرابی ہیپاٹائٹس کاسبب بن سکتی ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہیپاٹائٹس پہلے جگر کو نقصان پہنچا کر یرقان کا سبب بن سکتا ہے ۔
پت نالی میں رکاوٹ : یہ تنگ نالیاں ہوتی ہیں جن میں سیال جسے پت کہتے ہیں دوڑرتا ہے ۔ یہ نالیاں پت کو جگر اور پتے سے چھوٹی آنت تک پہنچاتی ہیں۔ کبھی کبھی یہ پتے کی پتھری ، کینسریا جگر کے مرض کی وجہ سے ہلاک ہوجاتی ہیں۔ اگر ایسا ہوتو یہ یرقان کاباعث بن سکتی ہیں۔
لبلبے کاکینسر : یہ مردوں میں پائے جانے والا دسواں اور عورتوں میں نواں سب سے عام کینسر ہے ۔ اس سے بھی پت نالی ہلاک ہوسکتی ہے، جس یرقان ہوسکتا ہے ۔
بعض ادویات کااستعمال : پینسلین ، ضبط ولادت کی دوائیں اور اسٹیرائڈ کے استعمال کا تعلق جگر کے امراض سے ہے ۔
یرقان کی علامات :
جلد اور آنکھوں کے سفید حصے کازرد ہوجانا۔ خارش ۔ متلی یاالٹی ۔ وزن گھنٹا ۔ بخار ۔ پیشاب کا رنگ گہرا ہوجانا۔
یرقان کی تشخیص :
ڈاکٹر عموماََ یرقان کی علامات ظاہر ہونے پر بلی روبین کاٹیسٹ کراتے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ خون میں یہ مادہ کتنی مقدار میں موجود ہے ۔ اگر مریض کو یرقان ہے تواسکے خون میں بلی روبین کی مقدار زیادہ ہوگی۔ معالج علامت کے بارے میں معلوم کرنے کے بعد چیک اپ اور دیگر ٹیسٹ بھی لکھ کردے سکتے ہیں جس سے جگر کے بارے میں پتاچل سکے ۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے سی بھی سی بھی کرایا جاتا ہے جس میں خون کے خلیات کی گنتی کی جاتی ہے ۔
یرقان کاعلاج :
اس کے علاج کے لیے اس کی وجہ کو جاننا اور اس کاعلاج کرنا ضروری ہے ۔ اگر ہیپاٹائٹس یرقان کا باعث بنا ہے تو جیسے جیسے مرض دور ہوگا اور جگر صحت مند ہونا شروع کرے گا یرقان اپنے آپ ٹھیک ہونے لگے گا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے