Bhoolne Ki Bimari Ko Bye Bye Kijye - Article No. 2092

بھولنے کی بیماری کو بائے بائے کیجیے - تحریر نمبر 2092

جمعہ فروری

Bhoolne Ki Bimari Ko Bye Bye Kijye - Article No. 2092
اکثر لوگ یادداشت کمزور ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔چیزیں خریدنے بازار جاتے ہیں تو یہی بھول جاتے ہیں کہ خریدنا کیا تھا۔امتحان کے لئے اچھی طرح تیاری کرنے کے باوجود جب جواب لکھنے بیٹھے تو آدھا بھول گئے۔کبھی کسی سے کافی عرصے بعد ملاقات ہوئی تو اس کا نام یاد نہ آیا۔ایک کمرے سے اٹھ کر کسی کام کے لئے دوسرے کمرے میں گئے لیکن وہاں پہنچنے کے بعد سوچنے لگے کہ کس کام کے لئے آئے تھے۔

یوں تو انسانی جسم کا ہر عضو قدرت کا انمول عطیہ ہے مگر دماغ کی حیثیت ان سب سے زیادہ اہم ہے۔دماغ کی وجہ سے انسان خلا کو تسخیر کرنے کے ساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجی تیار کرتا چلا جا رہا ہے۔کئی والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کی ذہنی کارکردگی بڑھانے کے لئے مختلف طریقے آزمائیں۔انہیں ایسی غذا فراہم کریں جو ذہنی و دماغی استعداد بڑھانے میں مدد دے اور ایسی ذہنی مشقیں کروائیں جن میں بچہ ذہانت کا بھرپور مظاہرہ کر سکے۔

(جاری ہے)


کچھ عادتیں ایسی ہوتی ہیں جو براہ راست دماغ کو متاثر کرتی ہیں۔مثلاً اکثر ناشتے کو اہمیت نہیں دی جاتی،یونہی تھوڑا بہت کھا لیا اور تسلی ہو گئی۔ماہرین طب کہتے ہیں کہ صبح کا ناشتہ نہ کرنے سے جسم کا شوگر لیول کم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے دماغ کو درکار توانائی نہیں ملتی،اس طرح دماغ متاثر ہوتا ہے۔بعض اوقات لوگ بے تکا اور بے حساب کھانے کے عادی ہوتے ہیں۔

یہ صاحبان ذائقہ کے متوالے ہوتے ہیں اور کھاتے وقت مقدار کا تعین نہیں کرتے۔اگر وہ جانتے ہوں کہ زیادہ کھانے سے ان کا دماغ متاثر ہو گا اور دماغ کی آرٹریز سخت ہو جاتی ہیں تو شاید وہ ایسا نہ کریں۔تمباکو نوشی سے انسانی دماغ حجم میں چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے۔دماغ کے اس طرح سکڑنے سے الزائمر جیسی بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔میٹھا کھانے کے شوقین بھی احتیاط سے کام لیں،کیونکہ زیادہ شکر استعمال کرنے سے پروٹین اور دوسرے اہم غذائی اجزاء کی غذائیت کا تناسب کم ہونے لگتا ہے۔

اس طرح دماغ کمزور ہوتا ہے اور نشوونما کا عمل سست رفتار ہو جاتا ہے۔
آلودگی کسی قسم کی ہو صحت کے لئے مضر ہے۔انسانی جسم میں سب سے زیادہ آکسیجن صرف کرنے والا عضو دماغ ہے۔فضائی آلودگی کی وجہ سے فضا میں سانس لینے سے دماغ کو ملنے والی آکسیجن کم ہو جاتی ہے جو ذہنی استعداد کو متاثر کرتی ہے۔نیند پوری کرنا ضروری ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے سے دماغ فعال نہیں رہتا پھر وہ کام کے وقت سست ہونے لگتا ہے۔

اگر مناسب وقت تک سوئیں گے تو دماغ کو اگلے بارہ یا چودہ گھنٹے کام کے لئے آرام ملے گا۔جب طویل عرصہ تک نیند پوری کرنے کا عمل جاری نہ رکھا جا سکے تو دماغ کے سیلز مردہ ہو جاتے ہیں۔اس طرح دماغی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔سوتے وقت سر کو لپیٹنا نہیں چاہیے،اس طرح جسم کے گرد کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔خواتین چوٹی کھول کر سویا کریں تو بالوں کی افزائش بہتر ہوتی ہے۔


یاد رکھیے!سوتے وقت دماغ کی مدد کرنی ہے اس کی بربادی نہیں کرنی۔بیماری کے دوران ذہنی بوجھ والے کام نہیں کرنے چاہئیں۔بیماری کے دوران مطالعہ بھی نہ کیا کریں اس طرح خلیوں کو نقصان پہنچتا ہے۔فضول گفتگو بھی دماغ صحت کو متاثر کرتی ہے۔چیخنے،چلانے اور اشتعال انگیز رویے سے دماغی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔یہ کہنا غلط نہیں کہ جسم چاہے جتنا بھی مضبوط ہو اگر دماغی طور پر کمزور ہو تو دنیا میں آگے بڑھنا یا روشن مستقبل ممکن نہیں۔

ذہنی صلاحیت کو بڑھانے کے لئے کوئی جادوئی گولی تو دستیاب نہیں تاہم کچھ غذائیں ضرور یہ کمال کر سکتی ہیں۔جی ہاں!․․․کچھ غذائیں دماغی افعال کو بہتر بنا کر عمر بڑھنے کے ساتھ ذہنی تنزلی سے تحفظ فراہم کرتی ہیں۔
اخروٹ
اخروٹ دل کو صحت مند رکھنے اور جسمانی ورم سے تحفظ دینے والا نیوٹریشنز سے بھرپور ایک خشک میوہ ہے۔

یہ الفالائنو لینک ایسڈ سے بھرپور ہے۔یہ جز دوران خون کو بڑھانے میں مدد فراہم کرتا ہے جس سے دماغ تک آکسیجن کی فراہمی موٴثر انداز سے ہوتی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق اخروٹ کے استعمال سے یادداشت بہتر ہوتی ہے اور کچھ سیکھنے کی صلاحیت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
زیتون کا تیل
زیتون کا تیل ایسے اجزاء کا مرکب ہے جو کہ دماغی عمر کے بڑھنے کے عمل کو سست کر دیتے ہیں۔

امریکہ کے بریگھم اینڈ ویمنز ہاسپٹل کی ایک تحقیق کے مطابق زیتون کے تیل میں ایسی چکنائی ہوتی ہے جو دماغی بڑھاپے کا عمل سست کر دیتی ہے۔زیتون کے تیل کا استعمال طویل المدتی بنیادوں پر دماغی صحت کو تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔
بیریز
اسٹرابیری یا بلیو بیریز کوئی بھی بیری ہو ان کا استعمال یادداشت اور توجہ تنزلی کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔

اینلز آف نیورولوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق بلیو بیریز،اسٹرابیریز اور دیگر کا استعمال درمیانی عمر کی خواتین میں دماغی تنزلی کے عمل کو سست کر دیتا ہے جس سے بڑھاپے میں بھی یادداشت متاثر نہیں ہوتی جبکہ کسی کام کے دوران بھرپور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بھی برقرار رہتی ہے۔
کافی
کافی میں پایا جانے والا جز کیفین دماغی حصوں کو بہتر بناتا ہے۔

کیفین کی دماغ تیز کرنے والے اثرات کے ساتھ ساتھ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس دماغی صحت کو مستحکم رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دنیا کا مقبول ترین یہ گرم مشروب مایوسی یا ڈپریشن کے خاتمے کے لئے بھی مفید ہے۔
پالک
پالک میں لوٹین نامی اینٹی آکسائیڈنٹ بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے جو دماغی تنزلی سے تحفظ دینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

ہاورڈ میڈیکل اسکول کی ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ پالک اور اس جیسی سبز پتوں والی سبزیوں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں دماغی تنزلی کی شرح کم ہوتی ہے۔
ڈارک چاکلیٹ
اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ڈارک چاکلیٹ جسم کے لئے صحت بخش ہوتی ہے۔اس میں شامل کیفین دماغی افعال کی تیزی کے لئے بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔چاکلیٹ فلیو نوئیڈز نامی کیمیکل سے بھی بھرپور ہوتی ہے جو کہ دوران خون کے ساتھ ساتھ دماغی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے۔


پانی
جب کوئی فرد پیاسا ہوتا ہے تو اس کے دماغی ٹشوز بھی سکڑ جاتے ہیں۔متعدد طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پیاس دماغی افعال پر اثر انداز ہوتی ہے۔در حقیقت پانی کی کمی مختصر مدت کی یادداشت،توجہ مرکوز کرنے اور فیصلہ سازی جیسی دماغی صلاحیتوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
انڈے
انڈے کولائن نامی ایک نیوٹریشن سے بھرپور ہوتے ہیں۔

یہ جسم میں ایسے دماغی جز ایسٹیلکولین کی مقدار کو بڑھا دیتا ہے جو یادداشت کو بہتر بناتے ہیں،خاص طور پر زردی کا استعمال بہت فائدہ مند ہیں۔ناشتے میں پروٹین سے بھرپور غذا جیسے انڈوں کا استعمال مجموعی دماغی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔اس میں شامل ایسٹیلکولین (Acetylcholine) چیزیں بھولنے کی عادت سے بھی نجات دلاتا ہے۔
چقندر
چقندر نائٹریٹ کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔

یہ دماغ تک دوران خون کو بہتر بناتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق چقندر جیسی مزے دار سبزی کا استعمال دوران خون کو بہتر بنا کر دماغی کارکردگی درست کرتا ہے۔
لہسن
لہسن کا استعمال دماغی کینسر کی کچھ اقسام سے محفوظ رکھنے میں مفید ہو سکتا ہے۔امریکن کینسر سوسائٹی کی تحقیق کے مطابق لہسن میں موجود اجزاء ایسے خلیات کا خاتمہ کرنے کا کام کرتے ہیں جو کہ دماغی رسولی کا باعث بنتے ہیں۔
دالیں
دالوں کا استعمال بھی دماغ کو تیز بناتا ہے۔دالوں میں فلوٹیے نامی وٹامن بی کی ایک قسم پائی جاتی ہے جو دماغی طاقت کو بڑھاتی ہے۔یہ جز امینو ایسڈ کی مقدار کو بھی کم کرتی ہے جو دماغی افعال کو نقصان پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-02-26

Your Thoughts and Comments