بند کریں
صحت مضامینمضامینبڑھاپے میں یادداشت کی کمی

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بڑھاپے میں یادداشت کی کمی
یہ مرض روزبروزبڑھتا جارہا ہے۔
شہریار:
انسان ساری زندگی کئی ایک بیماریوں میں مبتلا ہوتا ہے لیکن بروقت علاج سے وہ جلد صحت یاب بھی ہو جاتا ہے۔ بیماریوں ہر عمرمیں لاحق ہوتی رہتی ہیں تاہم کچھ ایسی بھی ہیں جس کاتعلق بڑھاپے سے ہے جس کے باعث عمررسیدہ افراد کی زندگی مزید کٹھن ہوجاتی ہے۔دیکھنے میں آتا ہے کہ عمر رسیدہ افراد اکثرباتیں بھولتے لگتے ہیں یاایک بات کہنے کے چند لمحے بعد دوبارہ ہی بات دھراتے ہیں۔اسی طرح کسی سے بات پوچھنے کے بعد دوبارہ وہی سوال کرتے ہیں اور اس عمل کو مسلسل دھراتے رہتے ہیں۔
عمررسیدہ افراد میں بھولنے کی بیماری یا یادداشت کی کمی صرف غریب ممالک میں ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ان افراد میں بھولنے کی بیماری یادداشت کی کمی کو انگریزی میں (Dementia) کہا جاتا ہے۔ حال ہی میں پیرس کے ایک اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیابھر میں (Dementia)یازوال عقل کے مرض میں مبتلا مریضوں کی تعداد چار کروڑسات لاکھ ہے جو 2050ء میں بڑھ کر 13کروڑ ہوجائے گی۔ماہرین کاکہنا ہے کہ زوال عقل کے باعث عمررسیدہ افراد کی سوچنے اور یادداشت کی صلاحیت میں مسلسل کمی اآنے لگتی ہے۔
ورلڈالزائمررپورٹ 2015ء کے مطابق زوال عقل کے مریضوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں60سال اور اس سے زیادہ عمر کے900ملین لوگ زوال عقل کی بیماری میں مبتلاہیں جبکہ اگلے 35 سالوں میں ترقی یافتہ ممالک میں65سال کے افراد میں یہ بیماری زیادہ شدت اختیار کرجائے گی۔جبکہ ترقی یافتہ اور محدود آمدنی والے ممالک میں اس بیماری کے بڑھنے کی شرح 185فیصد ہو جائے گی۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ غریب ممالک یاخط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے ممالک میں یہ شرح 239فیصد ہوجائے گی 2015ء میں پوری دنیا میں زوال عقل کے دس ملین نئے کیس سامنے آئے ہیں یہی وجہ ہے کہ زوال عقل کے مریضوں میں ہر ایک سیکنڈ کے بعد اضافہ ہورہاہے۔یہ شرح 2010ء کی نسبت 30فیصد زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق 1000افراد میں 60سے 64سال کے چار افراد کی عمر 90سال ہوتی ہے تو0 100میں سے 105افراد اس بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو تقریباََ 10فیصد بنتا ہے۔ماہرین کاکہنا ہے کہ پچھلے 5سالوں کے دوران دنیا بھر میں زوال عقل کے مریضوں کے علاج پر خرچ کئے جانے والے پیسے میں بے پناہ اضافہ ہواہے 2010ء سے 2015ء تک زوال عقل مریضوں کے علاج پر 818 ارب ڈالر خرچ کئے جاچکے ہیں۔اس رقم میں 60فیصد رقم ادویات اور ہسپتالوں کو فیس کی مدادا کی گئی ہے جہاں زوال عقل کے مریض زیر علاج رہے۔
حال ہی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق محققین کاکہنا ہے دنیا بھر میں ہرسال زوال عقل کے مریضوں کی تعداد میں 9.9 ملین کے حساب سے اضافہ ہورہاہے۔یعنی 3.2سیکنڈ کے بعد ہر ایک نیا مریض سامنے آرہاہے 2015ء کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں مشرقی ایشیا میں ایسے افراد کی تعداد 9.8ملین جبکہ مغربی یورپ 5.1ملین اور شمالی افریقہ میں 4.8 ملین ہے۔اس وقت دنیا میں 10 ایسے ممالک ہیں جہاں زوال عقل کے مریضوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جن کی ترتیب کچھ اس طرح ہے۔ چین میں 9.5ملین ،امریکہ 4.2ملین ،بھارت 4.1ملین،جاپان3.1ملین ،برازیل 1.6ملین جرمنی 1.3، اٹلی1.2ملین۔ انڈونیشیا 1.2ملین اور فرانس میں 1.2ملین عمررسید افراد اس بیماری میں مبتلا ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے