Burhape Main Kami Layi Ja Sakti Hai

بڑھاپے میں کمی لائی جاسکتی ہے

ہفتہ مئی

Burhape Main Kami Layi Ja Sakti Hai
تیز چہل قدمی یا سائیکل چلانا نہ صرف صحت کے لئے فائدہ مند ہے بلکہ یہ بڑھاپے کی جانب سفر بھی سست کر دیتا ہے۔ یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے ۔تحقیق کے مطابق ہلکی پھلکی ورزش جیسے تیز چہل قدمی یا تیز رفتاری سے سائیکل چلانا نہ صرف جسمانی دفاعی نظام کو بہتر ،ذہن کو تیز، نیند میں مددگار اور مسلز کے لئے اہم ہے بلکہ یہ جسمانی خلیات کی توڑ پھوڑ کو بھی سست کر دیتی ہے ۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ عادت خلیات کے اسٹرکچر کو دوبارہ بنانے میں مفید ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ جسمانی سرگرمیاں عمر بڑھنے سے جسم میں آنے والی تبدیلیوں کے عمل کو سست کر دیتی ہیں اور ایسا کسی بھی قسم کی ادویات سے کرنا ممکن نہیں ۔محققین کا کہنا تھا کہ بنیادی سائنسی ڈیٹا اس خیال کو سپوٹ کرتاہے کہ جسمانی سرگرمیاں بڑھاپے کی روک تھام یا اسے التواء میں ڈالنے کے لئے ضروری ہیں اور ان کا کوئی اور متبادل نہیں۔

(جاری ہے)

امریکہ میں ایک اور تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کھانے کی مقدار میں ذرا سی کمی بڑھاپے کی جانب لے جانے والے جسمانی عمل کی رفتار سست کر دیتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ انسان کی جلد پر جھریاں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں اور وہ ڈھلک جاتی ہے جس پر کہا جاتا ہے کہ بڑھاپا آگیا ہے ۔لیکن اگر ایسی غذائیں استعمال کی جائیں جن سے جھریاں کم ہوں تو پھر بڑھاپا بہت دیر بعد آئے گا۔

آئیے چند ایسی غذاؤں کے بارے میں جانتے ہیں۔
مچھلی
مچھلی میں اومیگا تھری کی بھر پور مقدار موجود ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسانی جلد نرم وملائم اور خوبصورتی رہتی ہے۔
ناریل
اگر جلد پر کیل مہاسے ہوں تو ناریل کا وافر استعمال کیا جائے ۔جلد کو دانوں سے نجات دیتا ہے۔ جلد کو تازہ رکھے گا جس سے عمر کم معلوم ہو گی۔


زیتون
زیتون میں اولک ایسڈ پایا جاتا ہے جو اومیگا تھری کو ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے ۔زیتون میں یہ خاصیت موجود ہے کہ یہ جسم میں چکنائی کی ضروریات پوری کرتا ہے اور صحت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔
چاکلیٹ
سیاہ چاکلیٹ میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جو جلد کو سورج کی تیز روشنی سے محفوظ رکھتے ہیں اور ساتھ ہی بڑھاپے کو آنے سے روکتے ہیں ۔

دارک یا سیاہ چاکلیٹ میں پائے جانے والے اینٹی آکسیڈینٹ کی مقدار سبز چائے اور بلیوبیریز سے بھی زیادہ ہے۔
سرخ مرچیں
ان میں وٹامن AاورEکی اچھی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے جو کہ جلد کے لئے بہت فائدہ مند ہے ۔اس میں بائیو فلیونائیڈز (Flavonoids) بھی پائے جاتے ہیں جس کی وجہ جلد میں نمی رہتی ہے اور وہ ملائم رہتی ہے۔
ٹماٹر
ٹماٹر کے فوائد کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ دنیا بھر کی کئی کمپنیاں اپنی جلد کی پراڈکٹس بنانے میں ٹماٹر کے اجزاء کا استعمال کرتی ہیں ۔

ٹماٹر میں Lycopeneپایا جاتا ہے جو کہ جلد کے علاوہ کینسر کے خلاف بھی اچھا کام کرتاہے۔
ہلدی
ہلدی جلد کے لئے مفید ہے ۔ہلدی میں ایک اینٹی آکسیڈینٹ Curcuminپایا جاتا ہے جو کہ جلد کے لئے مفید بتایا جاتا ہے ۔اس کے استعمال سے جلد نرم و ملائم رہتی ہے اور اس میں جھریاں نہیں پڑتیں۔سائیکل چلانے کی عادت آہستہ آہستہ لوگوں میں سے کم ہوتی جارہی ہے ۔

ماہرین نے کہا ہے کہ سائیکل چلانے سے بہتر کوئی ورزش نہیں ۔یہ ورزش بڑھاپے سے بھی دور رکھتی ہے۔ ایک مطالعے میں شوقیہ سائیکل چلانے والوں کا باقاعدہ ورزش نہ کرنے والوں سے موازنہ کیا گیا ہے ۔اس سے انکشاف ہوا ہے کہ سائیکل چلانے کا عمل پٹھوں اور ہڈیوں کو مضبوط رکھتا ہے اور بڑھاپے کے باوجود بھی جسم کی چکنائیوں اور کولیسٹرول کو ایک خاص حد میں رکھنے میں مددگار ہوتاہے۔


مردوں میں سائیکل چلانے کی عادت ان کے خاص ہارمون ٹیسٹو سٹیرون کی مقدار بھی بلند رکھتی ہے ۔ایک اور حیرت انگیز بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ سائیکلنگ کے مثبت اثرات امنیاتی نظام (امیون سسٹم) تک پہنچتے ہیں جو ہمارے جسم میں بیماریوں سے لڑنے والا فطری نظام بھی ہے۔یونیورسٹی آف برمنگھم میں بڑھاپے اور اندرونی سوزش کے انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ پروفیسر جینٹ لارڈ کہتے ہیں کہ سائیکل چلانے سے بہتر کوئی ورزش نہیں۔

پروفیسر لارڈ نے کہا کہ تحقیق بتاتی ہے کہ باقاعدہ ورزش بڑھاپے میں کئی مسائل حل کر سکتی ہے ۔ہم زیادہ عرصے تک زندہ تو رہ رہے ہیں لیکن اس دوران صحت تباہ ہوجاتی ہے اور بیماریوں میں گھر جاتے ہیں ۔باقاعدہ سائیکل چلانے والوں کا بڑھاپا بہت حد تک بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے بشر طیکہ وہ اسے جاری رکھیں ۔سائیکل چلانے کا عمل قدرتی طور پر جسم کو کئی امراض سے دور رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-05-09

Your Thoughts and Comments