بند کریں
صحت مضامینمضامینکینسر سے کیسے محفوظ رہا جائے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کینسر سے کیسے محفوظ رہا جائے
کینسر ایک ایسا جان لیوا مرض ہے کہ اس کا نام سنتے ہی مارے خوف کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے کہ امراض قلب کے بعد سب سے زیادہ اموات کینسر یاسرطان کے سبب ہوتی ہیں۔
بتول حسین:
کینسر ایک ایسا جان لیوا مرض ہے کہ اس کا نام سنتے ہی مارے خوف کے رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور یہ حقیقت بھی ہے کہ امراض قلب کے بعد سب سے زیادہ اموات کینسر یاسرطان کے سبب ہوتی ہیں۔ سرطان کی ابتدائی علامات میں مستقل تھکن، وزن میں ا چانک کمی، درد، بخار ہاضمے کی مسلسل خرابی اور کھانسی وغیرہ شامل ہیں۔ ماہرین طب کے مطابق بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کرکے کینسر کو شکست دی جاسکتی ہے۔ کینسر یا سرطان کی کئی اقسام ہیں اور اُن سے بچاؤ کے طریقوں ہر سبھی ماہرین متفق بھی نہیں ہیں۔تاہم محققین کاا س بات پر اتفاق ہے کہ کینسر کی نصف سے زائد اقسام سے بچاؤ ممکن ہے۔بہتر طرز زندگی اختیار کرنے سے کینسر کے امکانات کم ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کی رائے میں سگریٹ اور شراب نوشی سے پرہیز، خوراک پر توجہ اور وزن کم رکھنے جیسے تدابیر اس مرض سے بچا سکتی ہیں۔
جرمنی کے شہر ہائیڈل برگ میں قائم کینسر پر تحقیق کرنے والے ادارے کے سربراہ ڈولف کاکس کاکہنا ہے کہ ”بلاشبہ قسمت کابھی کردار ہے، لیکن حفاظتی اقدامات کے ذریعے کینسر کے امکانات کو ضرور کم کیا جاسکتا ہے۔
سگریٹ نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں گلے غذائی نالی اور مثانے کے کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔پھیپھڑوں کا کینسر عام طور پر جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین کی رائے میں تمباکونشی ترک کرنے سے اس مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات میں واضح کمی ہوجاتی ہے۔
موٹاپا بھی کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ موٹاپے کا کینسر سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن یہ خیال درست نہیں ہے۔ لیکن زوڈولف کاسک کاکہنا ہے کہ 5سے 6فیصد مریض زیادہ وزن اور موٹاپے کی وجہ سے ہی کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق وہ دُبلے پتلے افراد جن کے پیٹ میں چربی کی مقدار زیادہ ہواُن کے بھی اس مرض میں مبتلا ہونے کے کافی امکانات ہوتے ہیں۔
غیرمتوازن غذا کااستعمال بھی اس مرض کاسبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق 10فیصد مریض غیر متوازن غذا استعمال کرنے کے سبب کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں۔ سائنس تصدیق کی چکی ہے سرخ گوشت کے استعمال سے نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ غذائی ریشوں کے فائدہ مند ہونے کی بھی تصدیق ہوچکی ہے۔ ابھی تک اس مفروضے کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ پھلوں اور سبزیوں کا بکثرت استعمال کینسر سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈیلیو ایچ او) نے گزشتہ برس خبردار کیاتھا کہ پہلے سے تیار شدہ گوشت استعمال کرنے کے باعث کینسر میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات اہم نہیں ہے کہ آپ کس قسم کا گوشت کھاتے ہیں اصل بات یہ ہے کہ آپ کتنی مقدار میں اسے استعمال کر رہے ہیں ۔ تمباکونوشی اور شراب کے ایک ساتھ استعمال سے کینسر کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔
جسمانی ورزش اور سرگرمیوں سے بڑی آنت اور چھاتی کے سرطان سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔ کاکس کاکہنا ہے کہ ورزش کرکے کینسر کی دیگر اقسام سے بھی بچاجاسکتا ہے۔زیادہ ماہرین کی رائے میں تندرست رہنے سے مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے، تاہم ایسا سمجھنا بھی غلط ہے کہ میرا تھن دوڑ میں شامل ہونے سے سرطان کے امکانات ختم ہوجائیں گے۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ جلد کے سرطان کابنیادی سبب (sunburns) سن برن ہوتا ہے۔اس لیے دھوپ سے پچنا ضروری ہے۔ لیکن ہر وقت گھر کے اندر یا صرف سائے میں رہنا بھی نقصان دہ ہے۔ دھوپ وٹامن ڈی کا اہم ذریعہ ہے جو ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔
مذکورہ بالا احتیاطی تدابیر کے علاوہ اہم بات یہ بھی ہے کہ گاہے بگاہے اپناچیک اب یعنی طبی معائنہ ضرور کرایا جانا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق اگر سرطان کی بروقت تشخیص ہوجائے تو اس کا علاج ممکن ہے مگر ترقی پذیر ممالک میں سرطان کی ابتدائی تشخیص کی شرح بہت کم ہے جس کی وجہ عوامی آگہی کافقدان ہے۔

(1) ووٹ وصول ہوئے