بند کریں
صحت مضامینمضامینچکوترا

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
چکوترا
ذائقہ اور لذت کے ساتھ بے پناہ فوائد کا حامل ہے۔۔۔۔چکوترا مفرح ہونے کی وجہ سے دل کو تقویت اور فرحت بخشتا ہے۔ معدہ کو قوی اور نظام انہضام کو درست کرتا ہے۔ معدہ کی تیزابیت اور گرمی کو دور کرتا ہے۔ مقام جگر پر درد کا محسوس ہونا، جگر کی جگہ دبانے سے سخت لگے
حکیم شجاع احمد:
چکوترا پاکستان کے سبھی شہروں میں با آسانی مل جاتا ہے۔ چکوترا دیکھنے میں مسمی اور مالٹے جیسا ہوتا ہے لیکن جسامت میں ان سے بڑا ہوتا ہے۔ پھل کا چھلکا ذرد جبکہ گودا سرخی مائل ہوتا ہے۔ بڑے سے بڑا پھل خربوزے جتنا بڑا ہوتا ہے۔ مالٹے اور مسمی کی طرح اس کے اندر بیج ہوتے ہیں۔ عموماََ چھوٹے پھل کا چھلکا باریک اور بڑے پھرل کا چھلکا موٹا ہوتا ہے۔ مختصراََ یہ پھل ذائقہ اور لذت کے ساتھ بے پناہ فوائد کا حامہ ہے۔ اطباء کرام نے چکوترا پھل کا مزاج سرد تر درجہ دوم مقرر کیا ہے۔ اطباء کرام فرماتے ہیں وہ پھل زیادہ مفید ہے جو ذائقہ میں چاشنی دار ہو۔ چکوترا ایک دن میں 500گرام تک بھی کھایا جاسکتا ہے۔ چکوترا خرید کر کمرے میں کھلا رکھیں اور جس کا چھلکا خشک معلوم ہو اسے چھیل کر آپ استعمال میں لائیں۔ کھانے سے قبل اس پر نمک اور سیاہ مرچ چھڑک لیں جس سے ذائقہ اور لذت بڑھ جاتی ہے۔ خشک چھلکے والا پھل ذائقہ میں میٹھا اور فوائد بھی دو چند ہوجاتا ہے۔
چکوترا مفرح ہونے کی وجہ سے دل کو تقویت اور فرحت بخشتا ہے۔ معدہ کو قوی اور نظام انہضام کو درست کرتا ہے۔ معدہ کی تیزابیت اور گرمی کو دور کرتا ہے۔ مقام جگر پر درد کا محسوس ہونا، جگر کی جگہ دبانے سے سخت لگے یا جگر کی خرابی اور صفرا ہوجانے پر اس کا استعمال بے حد مفید ہے۔ اطباء کرام چکوترے کو مسکن صفرا کہتے ہیں۔ ایسے اشخاص جو اپنے آپ کو تھکے تھکے محسوس کریں، جسم میں حرارت اور بخار کا احساس رہتا ہو، پیاس وقت بے وقت لگے ایسی صورت میں چکوترا دوا اور غذا کا کام کرتا ہے۔ تھکان اور بخار کو دور کر کے پیاس بجھاتا اور بھوک لگاتا ہے۔یہ ہاتھ پیر کی جلن ختم کرتا ہے اس کا مسلسل استعمال چہرے پر سرخی لاتا ہے۔ متلی بدہضمی میں مفید ہیپاٹائٹس میں معاون ہے۔ چکوترا خون صاف کرتا ہے، چہرے سے کیل چھائیاں داغ دھبے دور کرتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اسے ذیابیطس کے مریض بے فکر ہو کر استعمال کرسکتے ہیں۔ اگر موٹا شخص جس کو ذیابیطس بھی ہو وہ چکوترا پھل مسلسل کھائے تو یہ مفید پھل نہ صرف موٹا پا دور کرتا ہے بلکہ شوگر ختم کرنے میں بھی کارآمد ثابت ہوا ہے۔
چکوترے کو چھیل کر کاشیں بنا کر ہلکا نمک اور مرچ سیاہ چھڑک کر استعمال کریں۔اگر نمک پرہیز ہوتو بغیر نمک استعمال میں لائیں۔ موٹاپے کے ستائے ہوئے مرد و خواتین چکوترا بعد غذا باقاعدگی سے کھائیں اور موٹاپے سے نجات حاصل کریں۔ ہوالشافی رس چکوترا 1کلو، نارنگی 1کلو، رس سیب 1کلو، رسوں میں قند سفید 2کلو ملا کر ہلکی ہلکی آنچ پر رکھیں۔ جب شربت کی مانند قوام بن جائے تو ست لیموں 5گرام، ست لوہان 5گرام ملا کر چولہے سے اتار کر ٹھنڈا کرلیں۔ ٹھنڈا ہونے پر صاف بوتلوں میں محفوظ کرلیں۔
طریقہ استعمال:
6چمچہ شربت مذکورہ ایک گلاس موسم کے مطابق پانی مل اکر صبح نہار منہ اور شام 4بچچے استعمال کریں۔ یہ شربت بے پناہ مقوی قلب معدہ اور جگر ہے، چکوترا کا چھلکا خشک کیا ہوا 50گرام درخت چکوترا پھل کے پتے خشک 20گرام دونوں باریک پیس کر رکھ لیں۔ سفوف 10گرام دودھ میں ملا کر چہرے پر لییپ کریں۔ کچھ عرصے میں اس طرح عمل کرنے سے چہرے کو داغ دھبے کیل چھائیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ چکوترا کا زیادہ استعمال منہ خشک کرنے کا باعث بنتا ہے۔ بعض اوقات پیچش بھی لگ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں انر کا جوس پی لینے سے اس کی اصلاح ہوجاتی ہے۔ چکوترا میں سٹرک ایسڈ کافی مقدار میں پایا جاتا ہے جو کہ معدہ میں غذا ہضم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

(9) ووٹ وصول ہوئے