بند کریں
صحت مضامینمضامینچہرہ نہیں پاؤں کی بھی حفاظت کیجئے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
چہرہ نہیں پاؤں کی بھی حفاظت کیجئے
ان کی اہمیت عمارت میں بنیاد کی سی ہے
ڈاکٹر محمد ارشد فانی:
بادی النظر میں ہرانسان‘ حیوان‘ ناطق ومطلق کی یہ پیدائشی نفسیاتی اور فطری عادت وخواہش ہوتی ہے کہ اس کے سارے جسمانی نظام اور افعال کے وہ حصے بن کر اظہار کئے بغیر معاشرے میں بحیثیت رکن معاشرہ اس کا وجود ہی ثابت ہوسکتا ہے۔ ان میں انسانی چہرہ‘ جوسرکے بالوں سے لیکر دو کونوں دو آنکھوں ناک منہ اور ہونٹوں پر مشتمل ہے، کاکردار وہی ہے جو کسی بھی نظام کے سربراہ یاہیڈ کا ہوتا ہے۔ جیسے ہیڈ آف سٹیٹ‘ ہیڈآف گورنمنٹ‘ ہیڈآف ڈیپارٹمنٹ وغیرہ۔ خصوصاََ بالخصوص ہماری محترم خواتین اس معاملے میں توجنون کی حدتک احساس کمتری کاشکار ہیں۔ میک اپ‘ کاسمیٹکس اور بیوٹی پارلرز کا کاروبار آج اگر عروج پر ہے تو صرف” وجود زن“ کیونکہ وجودزن سے ہی حسن کائنات مگر یہ راز ہے کیاَ کوئی نہیں جانتا۔ یہ توالفت کی باتیں ہیں جو بوجھ توجانیں“ لیکن آج تک افلاطون‘ ارسطو‘ سقراط اور حکیم لقمان سے لیکر کسی ڈاکٹر‘ وید‘ پنڈت جوتشی، صوفی‘ عامل، مرشد اور مریدنے بھی یہ راز نہیں پایا کہ انسانی جسم میں جومرکزی‘ بنیادی‘ طبی وطبعی بنیادوں پر انسانی جسم کے حیاتیاتی نظام کی کیمیا میں ہے وہ ہی حیثیت پاؤں” فیٹ“ کی ہے۔ وہ دل اور دماغ سمیت کسی اور عضو کی نہیں۔
اس لافانی فارمولے پر عمل کرنے کے بعد خصوصاََ بالخصوص خواتین اور بالعموم مرد حضرات کو کسی بیوٹی پارلر میک اپ‘ کاسمیٹک کی ضرورت رہے گی نہ مرد حضرات کوبڑھاپے کاخوف۔ پاؤں کی وہی حیثیت ہے جو کسی بڑی سے بڑی یاچھوٹی سے چھوٹی عمارت میں بنیاد کی ہوتی ہے۔ اگر بنیاد مضبوط ہوگی تو پھر بے شک آپ اس پر منوں، ٹنوں کابوجھ لاددیں‘ وہ برداشت کرلے گی۔ ہزاروں سینکڑوں سال گزرنے کے باوجود عمارات آج بھی جوں کی توں جوان” دل روش چشم ماشاد“ کی مثال بنے اپنے اعلیٰ قدرتی رنگ وروپ حسن وشباب کے جوبن کی بہار لئے کھڑی ہیں۔ پاؤں انسان جسم کا وہ حصہ ہے جو سب سے آخر میں ظاہر ہوتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے عمل کا آغاز سرسے ہوتا ہے اور اختتام بالخیر پاؤں پرہوتا ہے۔ اسی طرح جب کسی بھی انسان کو قبر میں اتارا جاتا ہے تو سب سے پہلے پاؤں پھر دھڑاور آخر میں سر۔ سرکتا انسان تو کم ازکم اپنے پاؤں پر توکھڑا ہوسکتا ہے لیکن پاؤں کے بغیر گزارا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ اس سے آپ پر یہ واضح ہوگیا ہوگا کہ پاؤں کی حیثیت اہمیت وعملی افادیت کیا ہے؟
زمانہ ماضی قریب میں جب دنیا کی تہذیبوں اور معاشروں میں سادگی‘ اعلیٰ انسانی اقداراور فطرت پرقائم رہنے کا اصول رسم ورواج میں قائم تھا‘ ان وقتوں کے سیانے بزرگ اپنی بہوبیٹیوں کاانتخاب کرتے وقت اس کا چہرہ نہیں صرف پردے سے اس کے پاؤں کے قدرتی حسن اور پاؤں کی صحت سے انتخاب فیصلہ کیا کرتے تھے۔ دنیا کی حسین ترین ساحرہ اور عورتوں کی فرعونیہ مس قلوبطرہ اپنے حسن کی حفاظت پاؤں کی حفاظت سے کیا کرتی تھء۔ لہٰذا میری اپنی ماؤں‘ بہنوں ‘ بیٹوں اور بھائیوں اور دوستوں سے اپیل ہے التجا ہے ‘ فریاد درخواست ہے کہ وہا پنے خون پسینے کی حلال کی کمائی اگر صرف اور صرف پاؤں کی حفاظت پر خرچ کریں تو نہ صرف 99فیصد بیماریوں سے نجات بلکہ پچاس سال کی عمر میں پچیس سال کانوجوان بنے رہنے اور کم ازکم سو سال حسین وجمیل سمارٹ‘ سڈول اور فریکلی فٹ رہنے کیلئے فطرت پر قائم رہتے ہوئے صرف پاؤں کی حفاظت کریں تو ان کو ازدواجی زندگی میں کسی قسم کی شرمندگی کاسامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاؤں کی حفاظ توکریں مگر کیسے؟ یہ جاننے کیلئے صرف چشم تصور میں جا کر قلندرانہ شعور بیدارکرکے صرف اپنی ظاہرہ باطنی آنکھ سے یہ دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کیجئے کہ ہمارے محسن اعظم ہادی برحق بزرگ وبرترہستی حضرت محمد کریمﷺ نے پاوں کی اہمیت کے پیش نظر ہی مسجد میں سب سے پہل دایاں پاؤں ‘ پھر بایاں پاؤں داخل کرو۔
مسجد سے نکلو تو پہلے بایاں پاؤں پھر دایاں پاؤں باہر نکالو۔ وضومیں تسلی سے سب آخر میں پاؤں دھوئے جاتے ہیں۔ وہ بھی پہلے دایاں پھر بایاں۔ جب کیناکماری سہاگن بن پر پیاگھر سدھارتی ہے تو اس نے پہلے دایاں پاؤں پھر بایاں پاؤں پیاگھر داخل کیاہے توسدا سہاگن رہتی ہے۔ بعض بہو بیٹیوں کے پاؤں کی اتنی برکت ہوتی ہے کہ اس کے پڑنے میں لکشمی اس کے گھر پر عاشق ہوجاتی ہے۔ بطور مثام حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کا آپﷺ کے نکاح میں آنا حسن فلسفہ اور منعطلق کی بنیاد پر ثابت کرکے یہ بحث ختم کرتا ہوں کہ جس طرح کہاوت ہے کہ ” جان ہے توجہان ہے“ میرا دعویٰ ہے دلیل کے ساتھ کہ پاؤں میں توپہاڑ بھی رائی کا دانہ ہے۔ پاؤں کی حفاظت کاقدرتی اصول ہر مردوزن کیلئے یہ ہے کہ ہر روز علیٰ وسچ کاذب پاؤں کامساج یوں کریں کہ جیسے آپ نومولود بچہ کا مساج کررہے ہیں۔ ہر روز اور ہر رات پاؤں پرلیپ کریں۔ زیتون کے تیل‘ شہد‘ کلونجی کے تیل اور روغن بادام سے۔ موسمیاتی شدت اور حدت سے بچاؤ کیلئے مناسب میڈیکیٹڈ جوتا استعمال میں رکھیں۔ موزوں اور جرابوں کااستعمال پاؤں کیلئے موزوں ہے۔ پاؤں کھلا اور آزادماحول چاہتا ہے‘ گھر زیادہ وقت ننگے پاؤں چلیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے