Chothi Leher Ka Qeher - Article No. 2249

چوتھی لہر کا قہر - تحریر نمبر 2249

جمعہ 17 ستمبر 2021

Chothi Leher Ka Qeher - Article No. 2249
رانا اعجاز حسین چوہان
پاکستان کو اس وقت خاموش قاتل ڈیلٹا ویرینٹ نامی کورونا کی چوتھی لہر کا سامنا ہے،جس سے روزانہ ہزاروں کی تعداد میں شہری متاثر ہو رہے ہیں اور قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے۔کورونا کا سب سے موٴثر سدباب تو ویکسین ہے لیکن دنیا بھر کے ماہرین اس پر متفق ہیں کہ ویکسین سے بھی سو فی صد بچاؤ ممکن نہیں بلکہ ستر سے نوے فیصد تک بچت کا امکان ہے۔

ہمارے ملک میں ویکسین کا عمل مکمل ہونے میں تو شاید کئی ماہ لگیں،تب تک ہمیں خود اپنا بچاؤ کرنا ہو گا۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں کورونا ایس او پیز پر بالکل ہی عمل نہیں ہو رہا،عوامی مقامات پر ماسک پہننے کی زحمت نہیں کی جاتی۔سب سے پہلے تو ہر ایک کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کورونا ہمیں کسی بھی جگہ پر گھیر سکتا ہے،اس سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔

(جاری ہے)


ابتداء میں ماہرین کا خیال تھا کہ جسے ایک بار کورونا ہو جائے،اسے دوبارہ نہیں ہو سکتا،اس کے جسم میں اینٹی باڈیز بن جاتی ہیں۔

اب یہ تاثر غلط ہو چکا ہے،کورونا دوسری بار ہو سکتا ہے،ہمیں چاہیے کہ اپنی اینٹی باڈیز کے زعم میں نہ رہیں۔خاموش قاتل ڈیلٹا ویرینٹ وائرس کثیر علامات کا حامل ہے جو نہایت خاموشی کے ساتھ اندر ہی اندر انسانی جسم میں پنجے گاڑتا ہے جس کا متاثرہ شخص کو فوری علم نہیں ہو پاتا،یہ انسانی جسم سے قوت مدافعت ختم کرکے پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے،بعد میں مرض کی جو علامات ظاہر ہوتی ہیں اس میں تیز بخار،معدے کی خرابی، جسم میں شدید درد عام ہیں۔


کورونا کا عام ٹیسٹ PCR ہے،مگر بہت سے کیسز میں یہ نیگیٹو آرہا ہے۔اس لئے صرف پی سی آر نیگیٹو آنے پر ریلیکس ہو کر نہیں بیٹھنا چاہیے،اگر علامات رہیں تو دیگر ٹیسٹ کروانا ضروری ہیں۔ان کے ساتھ ایک چیسٹ ایکسرے بھی ضروری ہے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ پھیپھڑے تو متاثر نہیں ہوئے۔کوئی بھی چیسٹ کا ڈاکٹر یہ ایکسرے دیکھ کر تشخیص کر سکتا ہے۔اگر خدانخواستہ معاملہ سنگین ہے تو پھر ڈاکٹرز عام طور سے سٹی سکین (HRCT) کا کہتے ہیں،اس سے بہت بہتر اندازہ ہو جاتا ہے۔

بہت بار مریض بظاہر سانس ٹھیک لے رہا ہوتا ہے،مگر آکسیجن سیچوریشن ڈراپ ہونے لگتی ہے۔مریض ایسے میں ہسپتال جانے اور آکسیجن لگوانے میں مزاحمت کرتے ہیں۔انہیں سمجھانا چاہیے کیونکہ آکسیجن تیزی سے ڈراپ ہونے پر اچانک ہی بازی ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔آکسیجن سیچوریشن کم ہونے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ پھیپھڑے کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں اور وہ ٹھیک کام نہیں کر رہے۔

اگر پھیپھڑے متاثر ہو چکے ہوں تب مریض کو اچھی اور ہیوی ڈوز ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔ایسے میں قہوہ جات،بھاپ وغیرہ روٹین میں کچھ فائدہ دے سکتے ہیں۔
ہمارے لئے واحد آپشن یہ ہے کہ اپنے آپ کو بہترین طبی حالت میں فٹ رکھیں،بلڈ پریشر،شوگر اور دل کے مریضوں کا کورونا کے حساب سے رسک فیکٹر زیادہ ہے۔یہ مریض اپنی ادویات کو باقاعدگی سے استعمال کریں اور کنٹرول رکھنے کے لئے ہر ممکن احتیاط کریں۔

شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض اگلے چند ماہ کے لئے اپنی خوش خوراکی اور بد پرہیزی کو ایک سائیڈ پر رکھ دیں۔سادہ کھانا کھائیں،مرغن کھانوں کے بجائے سبزیاں لیں،ساتھ سلاد کا استعمال کریں۔ممکن ہو تو گندم کے آٹے کے ساتھ جو کا آٹا ملا کر روٹی کھائیں،اس میں فائبر زیادہ ہے اور یہ بلڈ شوگر اور بلڈ پریشر دونوں کے لئے مفید ہے۔صبح یا شام میں جو وقت میں کم از کم نصف گھنٹہ واک کے لئے نکالیں۔

کورونا بیماری کے دوران قوت مدافعت سب سے اہم ہے،اسے مضبوط رکھیں۔وٹامن سی،وٹامن ڈی اور زنک کا استعمال اس کے لئے مفید ہے،ان کے سپلیمنٹ عام ملتے ہیں۔وٹامن سی کی چوسنے والی گولیاں ملتی ہیں جبکہ وٹامن ڈی کی چوسنے والی گولیوں کے ساتھ پورے مہینے کی ہیوی ڈوز ایک گولی کے ذریعے بھی لی جا سکتی ہے۔ادرک،پودینے،لونگ،دار چینی کا قہوہ بھی دن میں ایک دو بار لے سکتے ہیں۔اگر صبح شام بھاپ کی عادت ڈال سکیں تو فائدہ ہو گا۔کوئی اور احتیاط کرے نہ کرے،آپ باہر نکلتے وقت ماسک پہن کر خطرے کو خاصا کم کر سکتے ہیں،کیونکہ احتیاط ہی زندگی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-09-17

Your Thoughts and Comments