Corona Virus Alamat O Ehtiyat - Qist 1

” کرونا وائرس ۔ علامات و احتیاط“۔ قسط نمبر1

Dr. Zulfiqar Ali Danish ڈاکٹر ذوالفقار علی دانش بدھ اپریل

Corona Virus Alamat O Ehtiyat - Qist 1
پوری دنیا کی طرح اس وقت پاکستان بھی وبائی وائرس کرونا کی لپیٹ میں ہے ۔ یہ وائرس کیوں آیا ؟ کہاں سے آیا ؟ اس کا آغاز کہاں سے ہوا ؟ اس کی تاریخ کیا ہے ؟ اس نے ایک مہلک وبا کی طرح آناً فاناً پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں کیسے لے لیا ؟ کیا یہ قدرتی آفت ہے یا بائیو انجینئرنگ کی پیداوار ہے ؟ اللہ کی ناراضگی کی علامت ہے یا کوئی عالمی سازش ہے ؟ جراثیمی جنگ کی ابتدا یا اس کا ایک نمونہ ہے یا باقی عام وائرسز کی طرح کا ایک وائرس ہے ؟ یہ اور اس سے ملتے جلتے بے شمار سوالات ہنوز جواب طلب ہیں۔

الیکٹرانک میڈیا میں ان موضوعات پر برابر روشنی بھی ڈالی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا پر تو ہر شخص اپنے تئیں اس کا ماہر بھی بن چکا ہے۔ شاید کچھ عرصے تک اس کی حقیقت بھی مکمل طور پر سامنے آجائے۔

(جاری ہے)

فی الوقت ان سب سوالوں سے قطع نظر جو اہم ترین حقیقت دیکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہے چاہے وبا ہے یا ایک عام بیماری کا وائرس ، بہرحال عالمِ انسانیت ، بلا تخصیص رنگ و نسل و مذہب و ملت ، اس کی لپیٹ میں آ چکی ہے یا آ رہی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس وقت کیا اقدامات کیے جائیں کہ اس کے پھیلاوٴ کے آگے بند باندھا جائے اور اس کو کسی طرح محدود کیا جائے۔ حکومتی سطح پر اس کو سنجیدگی سے لیا گیا یا غیر سنجیدگی سے ، اس بحث سے قطع نظر آئیے آج صرف طبی اور حفاظتی نقطہِ نگاہ سے ان تدابیر کا ذکر کیا جائے جو بحیثیت انسان ہم سب کر سکتے ہیں اور ہمیں کرنی چاہییں۔ کیونکہ اس سطور کی لکھنے تک اس وائرس کا نہ تو کوئی مصدقہ علاج دریافت ہو سکا ہے اور نہ ہی کوئی ویکسیین منظرِ عام پر آئی ہے اس لیے واحد چیز احتیاطی تدابیر ہی وہ عمل ہے جس کے ذریعے اس موذی وبائی مرض سے خود کو اور اپنے چاہنے والوں اور آس پاس رہنے والوں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

یہ سطور تحریر کرنے کی ایک اور بہت اہم وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگوں کو ابھی تک درست انداز میں اس بات کا بھی علم نہیں کہ یہ وائرس پھیلتا کیسے ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے ، بالخصوص گھریلو خواتین کی ایک بڑی تعداد اس بات سے قطعاً لاعلم ہے۔ آئیے آج کے کالم میں ہم اس پر بات کرتے ہیں۔
سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ اگر کسی کو کرونا وائرس ہو جائے تو اس کی علامات کیا ہونگی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی تین اہم ترین علامات میں 100 ڈگری یا اس سے زیادہ مسلسل کئی دن رہنے والا بخار ، خشک کھانسی (یاد رہے یہ خشک کھانسی ہو گی ، بلغم والی کھانسی نہیں ) اور سانس میں تنگی یا سانس لینے میں رکاوٹ۔

یہ تینوں علامات کرونا وائرس کے مریضوں میں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سب سے پہلے بخار ہوتا ہے ، اس کے بعد کھانسی حملہ آور ہوتی ہے اور تیسرے مرحلے پر عمل تنفس میں تنگی کا احساس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جسم میں کمزوری یا تھکاوٹ یا درد ، فلو زکام ناک بہنا گلے میں درد وغیرہ اس کی ممکنہ علامات ہو سکتی ہیں لیکن بہرحال ان کے ہونے کا لازمی مطلب کرونا وائرس نہیں۔

یہ بات پھر دہرا دوں کہ کرونا وائرس سے ہونے والی کھانسی وقفے وقفے سے ہونے والی کھانسی نہیں بلکہ مسلسل ہونے والی کھانسی ہوتی ہے اور یہ خشک کھانسی ہوتی ہے ، اس میں کسی قسم کا بلغم نہیں ہوتا۔
یہ وائرس پھیلتا کیسے ہے ؟ دوسرے وائرسز کے برعکس کرونا وائرس اس لیے بڑی تیزی سے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے کہ یہ وائرس جسمانی تعلق اور چھونے کے ذریعے پھیلتا ہے۔

مثلاً کوئی کرونا کا مریض ہے تو اگر وہ کسی سے ہاتھ ملا لے تو بھی وہ وائرس دوسرے بندے کو منتقل ہو جائے گا ، یا اگر ایسا مریض کسی چیز کو چھو لے اور بعد ازاں اس چیز کو کوئی صحتمند بندہ چھو لے تو وائرس اس کو منتقل ہو جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ وائرس کپڑوں ، گلاس، پلاسٹک کی چیزوں ، غرض ہر چیز پر کچھ گھنٹوں تک زندہ رہتا ہے اور یہی اس کے تیزی سے پھیلاوٴ کی ایک بڑی وجہ بھی ہے۔

کیونکہ نادانستگی میں بھی صرف مصافحہ یا معانقہ کرنے یا ہاتھ لگ جانے کی صورت میں بھی اس کا انتقال ایک فرد سے دوسرے فرد کو ممکن ہے۔
اس وائرس سے بچا کیسے جائے ؟ یہ ایک اہم ترین سوال ہے۔ اس کی صرف اور صرف ایک صورت ہے کہ غیر ضروری میل ملاقات سے گریز کیا جائے ، ایک دوسرے سے ملتے وقت کچھ دن مصافحہ اور معانقہ سے اجتناب کیا جائے اور دور سے سلام کر لیا جائے اور کسی بھی قسم کے اجتماعات چاہے وہ مذہبی ہوں یا سماجی ، شادی بیاہ کی تقریبات ہوں یا غمی دکھ کی ، ان سب سے کچھ عرصے کے لیے کنارہ کشی اختیار کی جائے۔

کیونکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ وائرس 25 ڈگری یا اس سے زیادہ کی گرمی میں زندہ نہیں رہ سکتا جو ہمارے ہاں قریباً مارچ کا آخر یا اپریل کا پہلا یا دوسرا ہفتہ بنتا ہے ، اگرچہ اس کی کوئی سائنسی توجیہہ ابھی تک سامنے نہیں آئی۔ اس کے علاوہ صفائی کا خاص اہتمام کیا جائے اور صابن یا ہینڈ سینسٹائزر کے ساتھ ہاتھوں کو کم از کم بیس سیکنڈ تک کلائیوں تک دھویا جائے۔

کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد اور دن میں پانچ بار نماز سے قبل وضو کے دوران ہاتھوں پاوٴں اور چہرے کو دھونا یقیناً اس وائرس سے بچاوٴ کی اہم احتیاطی تدابیر میں شامل ہے جو الحمد للہبحیثیت مسلمان ہمیں اسلام کی طرف سے ایک انعام کے طور پر ودیعت کیا جا چکا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے اس وقت جو لوگ اس سے دور ہیں وہ بھی نمازِ پنجگانہ اور وضو کا اہتمام کریں تو بڑی حد تک اس وائرس سے بچا جا سکتا ہے۔ (جاری ہے )
تاریخ اشاعت: 2020-04-29

Your Thoughts and Comments