Corona Virus Kab Khatam Ho Ga - Article No. 1903

کورونا وائرس کب ختم ہو گا - تحریر نمبر 1903

جمعرات جولائی

Corona Virus Kab Khatam Ho Ga - Article No. 1903
دنیا میں اس سال مئی کے اختتام تک 3لاکھ 80 ہزار کے قریب افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔وائرس کے متاثرین کی تعداد 64 لاکھ کے قریب ہو گئی۔پاکستان میں بھی اب تک 80ہزار سے زیادہ کیسز کی تصدیق جبکہ 1600 سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔کورونا وائرس کی وجہ سے اب دنیا بھر میں اربوں لوگ اپنے اپنے گھروں میں ہیں۔معیشتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کروڑوں افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔

کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے متاثرہ شہری دن گن رہے ہیں کہ کب اس وبا سے جان چھوٹے اور زندگی بحال ہو۔کیا یہ وبا ختم ہو گی․․․؟اور اگر ہاں تو اس میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے،اس کا جواب معلوم کرنے کے لئے اس حوالے سے ماہرین،ڈاکٹرز، سائنسدان اور عالمی اداروں نے اعداد و شمار کا تجزیہ کرکے مختلف آرا کا اظہار کیا ہے۔

(جاری ہے)

مثال کے طور پر سنگاپور یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ ڈیزائن (SUTD) ڈیزائن نے پاکستان سمیت وبا سے متاثر ہونے والے تمام ممالک کا جائزہ لیا ہے۔


وبا کے پھیلنے کے انداز کا جائزہ لینے کیلئے ”سسیپٹبل انفیکٹڈ ریکورڈ“Susceptible-infected-recoveredیعنی ایس آر آئی ماڈل تخلیق کیا گیا۔جس کے لئے مختلف ممالک کے مشتبہ اور مصدقہ کیسز کے ساتھ صحتیاب افراد کے ڈیٹا کو استعمال کرکے دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے دورانیے کی پیشگوئی کی گئی۔سنگاپور یونیورسٹی نے پیشن گوئی کرتے ہوئے کہا کہ 90فیصد کورونا وائرس جون تک دنیا بھر سے ختم ہو جائے گا،مخصوص ملکوں کے حوالے سے وائرس کے خاتمے کا وقت معمولی حد تک مختلف ہے اور ان میں چند دن سے لیکر چند ماہ کا فرق ہے۔

تحقیق سے اخذ کردہ اندازوں کے مطابق،وائرس دنیا بھر سے مکمل طور پر دسمبر 2020ء تک ختم ہوگا۔
تحقیق کے مطابق،اگلے چار مہینے میں برطانیہ میں کورونا وائرس پوری طرح ختم ہو جائے گا۔اس کے علاوہ اٹلی میں 24اکتوبر،امریکہ میں 11نومبر اور سنگاپور میں 27اکتوبر تک کووڈ 19کا پھیلاؤ ختم ہو جائے گا۔پاکستان میں اس وائرس پر کنٹرول کے لئے ابھی مزید لگ بھگ ڈیڑھ ماہ کا عرصہ درکار ہے۔

لیکن کیا یہ واقعی سچ ہے․․․؟کاش کہ یہ سب اتنا ہی آسان ہوتا۔اس وقت تک کچھ بھی کہنا صرف قیاس آرائی ہی ہے۔کورونا کے سال کے اختتام پر خاتمے کی پیشن گوئی کے ساتھ سائنس دانوں نے لوگوں کو مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
احتیاط لازم ہے!
ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ معاملات میں کورونا وائرس کے خاتمے کی تاریخ بتانا خطر ناک ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے لوگ لاپرواہ ہو سکتے ہیں۔

وہ وائرس سے بچاؤ کے لئے جاری کی گئی ہدایات کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔جس کی وجہ سے صورت حال مشکل ہو سکتی ہے۔بظاہر اس تحقیق میں خیال پیش کیا گیا ہے کہ جو لوگ وائرس سے ریکور ہو چکے ہوں گے ان میں دوبارہ علامات ظاہر نہیں ہو گی۔اس لئے ایسے لوگوں کو خطرے سے محفوظ یا امیونٹی پاسپورٹ کی سند جاری کی جا سکتی ہے،تاکہ لوگوں کو کام کاج کیلئے بھیجا جا سکے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)کے مطابق،اس بات کے شواہد نہیں کہ جو لوگ وائرس سے ریکور ہو چکے ہیں اور ان میں وائرس سے بچاؤ کی اینٹی باڈیز موجود ہیں،وہ دوسری مرتبہ اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔جاپان کا جزیرہ ہو کائیڈو اس کی واضح مثال ہے۔پہلے تو اس جزیرے پر سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا جس سے کورونا وائرس تقریباً ختم ہو گیا لیکن جیسے ہی جزیرے کو دوبارہ کھولا گیا تو وائرس کی دوسری لہرنے حملہ کر دیا جس سے جزیرے کو دوبارہ لاک ڈاؤن کرنا پڑا۔


دوسری طرف یورپی ملک جرمنی کی جانب سے ملک کو محتاط انداز سے کھولنے کے آپشن پر غور کیا جا رہا ہے ۔جرمنی ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں وبا سے نمٹنے کے لئے مثالی اقدامات کیے گئے ہیں۔جرمنی میں وبائی امراض کے ماہر جوناس شمٹ شنسٹ نے ایک دم پورا ملک کھولنے کی بجائے تجویز دی ہے کہ مرحلہ وار لاک ڈاؤن ختم کرتے ہوئے اس کے نتائج دیکھے جائیں۔

چین اور جنوبی کوریادو ایسے ممالک ہیں جو شروع میں متاثر ہوئے تھے لیکن اب وہاں ایک مرتبہ پھر وائرس سے لوگوں کے متاثر ہونے کے واقعات پیش آرہے ہیں۔سنگاپور میں بھی دوسری لہر آئی ہے۔کورونا وائرس بہت سخت وائرس ہے جو انسانی مدافعتی نظام میں موثر طریقے سے چھپ جاتا ہے اور اب تک ان کے لئے کوئی قابل بھروسہ طریقہ علاج یا ویکسین تیار نہیں ہو سکی ہے،بیشتر کیسز میں طبی عملہ اس کی علامات پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے۔

ویکسین متعارف کرانے میں ایک سال یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔فی الحال کورونا وائرس پر قابو پانے کا بہترین حل حفظان صحت کی مشق(پریکٹس گڈ ہائجین)ہے۔
اس مقصد کے لئے ہاتھوں اور نظام تنفس کی اچھی طرح صفائی قابل ذکر ہے۔ماہرین نے کہا کہ حفظان صحت کی مشق کے علاوہ اپنے نظام قوت مدافعت کو مضبوط رکھنے کے لئے صحت مند غذاؤں کا استعمال کرنا ضروری ہے۔

بیماری سے بچنے کے لئے ایسے لوگوں سے دور رہنابھی ضروری ہے جن میں مرض کی علامات مثال کے طور پر کھانسی،چھینکوں اور بخار کی علامات میں ظاہر ہو چکی ہوں۔پر ہجوم جگہوں پر جانے سے گریز کیا جائے۔ایک دوسرے سے ملنے کے وقت مصافحے ،ہاتھ ملانے،گلے ملنے یا کسی بھی طرح کی قربت سے پرہیز کیا جائے۔ برطانوی حکومت کے چیف میڈیکل افسر پروفیسر کرس وہیٹی نے اپیل کی ہے کہ کم از کم سال کے آخر تک سماجی فاصلہ (سوشل ڈسٹنس) اختیار کیا جائے۔

جنوبی افریقہ میں مستقبل کے امور پر نظر رکھنے والے ماہر اور اسٹریٹجی کنسلٹنٹ گرایئم کوڈرنگٹن کہتے ہیں کہ سوشل ڈسٹنس کا سلسلہ کم از کم آئندہ سال کے وسط تک جاری رہ سکتا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ گھروں،اسکولوں یا دفاتر سے باہر لوگوں کے روابطہ 75فیصد تک کم ہونے کا امکان ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ زندگی جلد معمول پر آنے کا امکان نہیں۔اس لئے ،معمولات بحال ہونے سے قبل دنیا کو کورونا وائرس کی ویکسین درکار ہوگی۔

لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ ویکسین کب تک تیار ہوگی۔اس وقت تک ہمیں خود کو ایک نئی عمومی حالت کے لئے تیار کرنا ہو گا۔
ویکسین آنے کے بعد بھی․․․
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)کے ہنگامی حالات کے شعبے کے ڈائریکٹر مائیکل رائن نے خبر دار کیا ہے کہ ممکن ہے کہ ویکسین کی تیاری کے بعد بھی کورونا ختم نہ ہو ۔ہو سکتا ہے کہ یہ وائرس ہماری کمیونٹی میں ایک اینڈیمک بن جائے،فی الحال تو کوئی بھی یہ پیشن گوئی نہیں کر سکتا کہ کووڈ19-کی بیماری کا خاتمہ کب ہو گا۔

ڈاکٹر رائن کا کہنا تھا کہ انھوں نے کہا کہ ویکسین کے بغیر لوگوں میں اس وائرس کے خلاف قوت مدافعت درکار سطح تک آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کی 100سے زیادہ کوششیں جاری ہیں اگر ویکسین بن بھی جاتی ہے تو وائرس پر قابو پانے کے لئے انتہائی بڑے پیمانے پر کوششوں کی ضرورت ہو گی۔اب بھی دنیا میں خسرہ جیسی کئی بیماریاں ہیں جن کی ویکسین موجود ہے مگر ان کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا۔


پاکستان اور کورونا
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے حوالے سے آئندہ مہینے کو بہت اہم ہیں،جس میں احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے سے کیسز کی تعداد میں بہت زیادہ اضافے کا امکان ہے۔پاکستان میں مرض کی شدت بہت کم رپورٹ ہوئی ہے اور کورونا کے مریضوں کی جو تعداد بتائی گئی ہے اصل تعداد اس سے یقینی طور پر زیادہ ہے۔

اس کی وجہ ٹیسٹنگ نہ ہونا اور دیہی اور دور دراز کے علاقوں میں مانیٹرنگ کا موثر نظام نہ ہونا ہے۔پاکستان نے اپنی آبادی کے ایک فیصد افراد کے بھی کورونا ٹیسٹ نہیں کیے جو کہ تقریباً بائیس لاکھ بنتے ہیں،ایسے میں کورونا کے حوالے سے کوئی بھی پروجیکشن یا مستقبل کی پیش بینی درست نہیں سمجھی جا سکتی ۔زمینی حقائق لمحہ بہ لمحہ بدلتے ہیں،لاک ڈاؤن پر کتنا عمل ہو رہا ہے،لوگ کنتی احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں اور اعداد و شمار کتنے درست سامنے آرہے ہیں،ان سب سوالوں کے جواب کے بعد ہی مستقبل کی درست پیشن گوئی ممکن ہے۔


جرمنی کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے،جرمن چانسلر اینجیلا مرکل خود ایک سائنس دان ہیں،انہوں نے کورونا کی آمد کے فوراً بعد ٹیسٹنگ ،لاک ڈاؤن اور دیگر اقدامات اس تیزی سے کیے کہ مریضوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باوجود ہلاکتیں کم ہوئیں۔ٹیسٹ زیادہ کرنے کی وجہ سے جرمنی مریضوں کی جلد شناخت میں کامیاب ہوا اور پھر ان مریضوں کو بزرگوں اور دیگر کمزور افراد سے دور رکھ کر شرح اموات کو کم کیا گیا۔

جب چین میں کورونا وائرس کی وبا پھیلی تب چین نے بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن اور برقی نگرانی کی مدد سے غیر معمولی اقدامات کیے اور وبا پر ضابطہ لانے میں کامیاب ہو گئے۔وقت آگیا ہے کہ دنیا کے دیگر حصوں کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم اپنی اور اپنے اردگرد کے لوگوں کی صحت کو بحال رکھنے کے لئے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔
لاک ڈاؤن اور سماجی دوری کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا،کوئی نہیں جانتا۔

ماہرین کہتے ہیں اس کا جواب مشکل ہے اور دارومدار اس بات پر ہے کہ سماجی دوری کس حد تک موثر ثابت ہوتی ہے اور کورونا کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے میں کتنی مدد ملتی ہے۔پریشانی اور خطرہ اپنی جگہ لیکن اب انفرادی سطح پر ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس وبا کا مقابلہ کرنے اور اسے شکست دینے میں اپنا مثبت کردار نبھائیں۔دوسروں کو اور خود کو محفوظ رکھنے کے سارے ضابطوں پر بہترین انداز میں عمل کریں تاکہ جلد سے جلد اس سماجی دوری کو ختم کیا جا سکے۔
تاریخ اشاعت: 2020-07-16

Your Thoughts and Comments