Coronavirus Aur Hamare Rawaye - Article No. 2326

کورونا وائرس اور ہمارے رویے - تحریر نمبر 2326

جمعہ 17 دسمبر 2021

Coronavirus Aur Hamare Rawaye - Article No. 2326
ڈاکٹر زاہد اشرف
طبی اعتبار سے دنیا بھر میں ایک ہیجان برپا ہے۔کانگو،نگلیریا فاؤلری،ڈینگی اور کورونا وائرس نے دنیا کو دہشت زدہ کر دیا ہے۔کورونا وائرس کی وجہ سے افراد اور حکومتیں پریشان ہیں۔لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور بن رہے ہیں،جب کہ اس کے متاثرین میں ہزاروں کے اعتبار سے روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے مختلف اسباب بیان کیے جاتے رہے ہیں،ابتدائی طور پر تسلسل کے ساتھ یہ کہا جاتا رہا ہے کہ چینی قوم کی غذائی عادات اس وائرس کی پیدائش اور پھیلاؤ کا سبب بنی ہیں۔چینی قوم چونکہ حشرات الارض تک کھانے کی عادی ہے،اس لئے وہاں یہ بیماری ان سے ہی انسانوں میں منتقل ہوئی ہے۔یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ کوبرا سانپ کی دو اقسام ایسی ہیں،جن سے یہ مرض انسانوں کو لگتا ہے اور چونکہ چینی لوگ سانپ کا گوشت بہت شوق سے کھاتے ہیں،اس لئے اس بیماری سے وہ زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)


بعض حلقوں کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ چین میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا اصل ذمے دار امریکہ ہے،جس نے عالمی سطح پر غلبہ پاتی ہوئی چینی معیشت پر کاری ضرب لگانے کے لئے ایک بہت بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ چین پر ایک خوف ناک حیاتیاتی (Biological) حملہ کیا۔اُس نے ہی سفارتی ذرائع سے کورونا وائرس کو چین بھیجا تھا اور اس کے لئے ووہان شہر کا اس لئے انتخاب کیا گیا تھا کہ وہاں سے اس وائرس کی چین کے دیگر شہروں میں منتقلی زیادہ آسان تھی۔

اس مرض میں مبتلا مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث کئی ملکوں نے چینی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کر دی تھی،جس کی وجہ سے چین کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا تھا اور اس صورتِ حال کے باعث اس کی دنیا پر غلبہ پاتی ہوئی معیشت کو شدید دھچکا لگا تھا۔
دوسری طرف بعض حلقے یہ بھی لکھ رہے تھے کہ مغربی خاص طور پر امریکی ادارے اور کمپنیاں کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے ویکسین کی تیاری بھی زور و شور سے کر رہی تھیں اور ان کی منصوبہ بندی یہ تھی کہ وہ کورونا وائرس کی ویکسینز فروخت کرکے اربوں ڈالر کمائیں گے۔

اس طرح چینی معیشت زوال کا شکار ہو جائے گی اور امریکی معیشت کو استحکام ملے گا۔چنانچہ ان تمام باتوں کے تناظر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں ان کے کردار کو محض قصہ کہانی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔وائرس کے سبب یا وجہ سے قطع نظر،اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انسانوں کا رہن سہن،اُن کی بود و باش اور اُن کی عاداتِ اکل و شرب فطرت اور فطرتی قوانین سے ہم آہنگ رہیں تو وہ کئی امراض سے محفوظ و مامون رہ سکتے ہیں اور اگر اقوام،اداروں اور حکومتوں میں دیانت و امانت اور خیر خواہی و بھلائی کے اصولوں کی فرماں روائی قائم رہے تو ظالمانہ اور بہیمانہ استحصالی رویوں کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔

کیا انسانیت اور انسانی حقوق کا دن رات ڈھنڈورا پیٹنے والے اس پر غور کرنے کی زحمت کریں گے؟
تاریخ اشاعت: 2021-12-17

Your Thoughts and Comments