Covid 19 K Khamosh Mutasreen - Article No. 1902

کووڈ 19 کے خاموش متاثرین - تحریر نمبر 1902

بدھ جولائی

Covid 19 K Khamosh Mutasreen - Article No. 1902
ہماء بلوچ
کورونا وائرس کی ایک نئی وباء 31 دسمبر 2019ء سے چین میں عام ہوئی۔جو آہستہ آہستہ وبائی شکل اختیار کر گئی۔حالیہ 2019ء میں دریافت ہونے والے کورونا وائرس کو 2-CoV-BARSیا 19-COVIDکا نام دیا گیا،یہ وائرس اس لئے خطر ناک ہے کہ یہ انسان سے انسان کے درمیان میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔25 جنوری 2020ء کو چین کے 13 شہروں میں ایمرجنسی لگا دی گئی۔

یہ وائرس اپنی پیچیدہ میوٹیشن کی وجہ سے انسان کے دفاعی نظام کو کنفیوز کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے یہی وجہ اس کے پھیلنے کی رفتار کو بہت زیادہ بڑھا چکی ہے اسی لئے اس پر قابو پانے میں پوری دنیا کو دشواری ہو رہی ہے۔
گزشتہ چند ماہ سے یہ خبریں گردش میں ہیں کہ ایسے افراد جن کے جسموں میں نا ول کورونا وائرس داخل ہو چکا ہے مگر ان میں ظاہری طور پر ا س کی کوئی علامت موجود نہیں،وہ اس بیماری کو خاموشی سے اور انجانے میں دنیا بھر میں پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔

(جاری ہے)

اب عالمی ادارہ صحت نے اس بات کی تردید کر دی ہے۔واضح رہے کہ ناول کورونا وائرس انسانی جسم میں داخل ہو کر نظام محض کو شدید نقصان پہنچاتا ہے اور بالخصوص پھیپھڑوں پر اثر انداز ہو کر سانس لینے میں دشواری پیدا کرتا ہے جس سے انسان کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔تاہم ایسا کم ہی لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔اکثر مریضوں میں یہ وائرس اپنی مدت پوری کرنے کے بعد امیون سسٹم کے ہاتھوں ختم ہو جاتا ہے۔

البتہ،کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی بڑی تعداد (تقریباً 80فیصد) ویسی بھی ہے جس میں کورونا وائرس موجود ضرور ہوتا ہے مگر اس کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی اور ،کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے لے کر اسے شکست دینے تک،متاثرہ شخص کو پتا تک نہیں چلتا کہ اُن میں یہ وائرس موجود تھا۔ایسے افراد جن میں کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آگیا ہو لیکن علامات ظاہر نہ ہوں،اُنہیں”بےعلامتی“ (asymptomatic) مریض کہا جاتا ہے۔


اس بارے میں ایک سوال بار بار سر اُٹھا رہا تھا کہ دنیا بھر میں تیزی سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ”بے علامتی مریضوں“کی وجہ سے ہو رہا ہے کیونکہ خود ان میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں اس لئے دیگر لوگ ان سے میل جول میں نہ تو کوئی احتیاط کرتے ہیں اور نہ ہی طبی عملے کو ان میں کورونا وائرس کی موجودگی کا کوئی شبہ ہوتا ہے۔لہٰذا وہ خود بھی اپنا ٹیسٹ نہیں کراتے اور انجانے میں کورونا وائرس کی دوسرے انسانوں میں منتقلی کا باعث بنتے ہیں۔


عالمی ادارہ صحت کی کورونا وائرس کی تکنیکی ٹیم کی سربراہ ماویہ دین کیروف نے میڈیا بریفنگ میں ڈس تاثر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کئی علامات سامنے آرہے تھے جن پر ہم نے دنیا بھر سے جمع شدہ امداد وشمارکا موازنہ کیا تو یہ بات صاف ظاہر ہو گئی کہ بے علامتی مریضوں کا کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔

یہ مرض علامت ظاہر ہونے والے مریضوں کے چھینکنے،کھانسنے یا ان کی قربت سے دوسروں میں پھیلا ہے۔ماویہ کیروف نے مزید کہا کہ کووڈ 19کے مریضوں کے انٹرویوز سے بھی پتا چلتا ہے کہ وہ مرض سے قبل جن لوگوں سے ملے تھے،ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو کووڈ 19 کے مریض تھے اور جن میں علامتیں بھی موجود تھیں۔اسی طرح ہسپتالوں میں کام کرنے والا طبی حملہ بھی ایسے مریضوں سے انفیکشن کا شکار ہوا جن میں علامتیں موجود تھیں۔اس لئے ملکوں اور قوموں کو ایسے لوگوں پر اپنی اولین توجہ مرکوز رکھنا ہو گی جن میں کورونا وائرس یا اس سے ملتی جلتی علامتیں موجود ہوں۔
تاریخ اشاعت: 2020-07-15

Your Thoughts and Comments