Covid19 Aur Hifazati Teeke - Article No. 2158

کووڈ۔19 اور حفاظتی ٹیکے - تحریر نمبر 2158

منگل 25 مئی 2021

Covid19 Aur Hifazati Teeke - Article No. 2158
پروفیسر حافظ اعجاز احمد
پاکستان میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے حفاظتی ٹیکوں (ویکسینیشن) کی مہم کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔پہلے مرحلے میں ہیلتھ کیئر ورکروں کو یہ ویکسین لگائی جا رہی ہے،جس کے بعد 60 برس یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو لگائی جائے گی۔گزشتہ برس سے دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری اور خریداری کا عمل جاری تھا۔

مختلف ممالک کووڈ۔19 کی ویکسین تیار کرنے کی دوڑ میں شامل تھے اور بالآخر مختلف کمپنیوں کی ویکسینز تحقیق کے کئی مراحل سے گزرنے کے بعد نہ صرف تیار ہو چکی ہیں،بلکہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ طلب بھی ان ہی کی ہے۔سرکاری سطح پر ہمارے ملک میں جن ویکسینز کے استعمال کا باقاعدہ طور پر اعلان کیا گیا ہے،اُن میں چین کی تیار کردہ ویکسین ”سائنوفارم“ (Sinopharm)،اوکسفرڈ یونیورسٹی کی ”آسٹرازنیکا“ (Astrazeneca) اور روس کی تیار کردہ ”اسپٹنک“ (Sputnik) ویکسین شامل ہیں۔

(جاری ہے)

ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں سال 2021ء کے دوران تقریباً سوا کروڑ افراد کے لئے ویکسین مہیا کی جائے گی،جس کی 17 لاکھ خوراکیں 60 برس سے زیادہ عمر والوں کے لئے ہیں۔اس ویکسین کی اندازاً قیمت 100 ڈالر ہے،جو پاکستانی تقریباً 15 ہزار روپے بنتے ہیں۔
8 دسمبر 2020ء وہ تاریخی دن ہے،جب امریکہ اور جرمنی کی دوا ساز کمپنیوں کے اشتراک سے تیار کردہ ویکسین برطانیہ میں ایک 91 سالہ خاتون کو لگا کر کورونا وائرس کے خلاف ویکسینیشن کے عالمی پروگرام کا آغاز کیا گیا۔

پاکستان کو چین کی تیار کردہ ویکسین کی فراہمی کا آغاز ہو چکا ہے۔اگرچہ یہ قدرے تاخیر سے فراہم کی گئی،پھر فوری طور پر عام افراد تک اس کی رسائی بھی ممکن نہیں اور کب تک ہو گی،اس حوالے سے بھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا،جب کہ آئندہ چند ماہ تک عالم گیر وبا کے مکمل خاتمے کے بھی کوئی امکانات نظر نہیں آرہے ہیں،لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ بہرحال ویکسین کی صورت امید کی ایک کرن ضرور جاگی ہے۔

ملک بھر میں ویکسینیشن کے آغاز کے ساتھ ہی منفی پروپیگنڈے کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔اس ضمن میں جہاں ویکسین سے متعلق ہر سطح تک آگہی پھیلانے کی اشد ضرورت ہے،وہیں ویکسین مہیا ہونے کے باوجود بھی ہمیں اس وبائی مرض سے محفوظ رہنے کے لئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہو گا،خاص طور پر ماسک پہننا،بار بار ہاتھ دھونا اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنا۔
اس ضمن میں کسی بھی قسم کی بے پروائی اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ بھی نہ کیا جائے۔

چونکہ اس نئے وائرس سے متعلق جامع معلومات دستیاب نہ ہونے کے نتیجے میں ماضی میں بھی کئی افواہیں اور غلط اطلاعات زیر گردش رہیں تو ویکسینیشن کے آغاز کے بعد بھی کئی غلط فہمیاں اور من گھڑت کہانیاں عام ہو رہی ہیں،جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں،خصوصاً ویکسین کے محفوظ ہونے کے حوالے سے طرح طرح کے سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں اور ان خدشات کو زیادہ تقویت اُس وقت ملی،جب ایک نرس کو آن کیمرہ ویکسین لگانے کے فوراً بعد مشہور کر دیا گیا کہ اُس کا انتقال ہو گیا ہے۔

حالانکہ اس نرس کو صرف چکر آئے تھے،جیسا کہ کسی کو بھی ٹیکا لگنے کے بعد آسکتے ہیں اور اس بات کی وضاحت مذکورہ نرس نے ہوش میں آنے کے بعد پریس کانفرنس کے ذریعے بھی کر دی تھی،لیکن پروپیگنڈے کے زیر اثر معاشرے میں کسی خبر کا ایک پہلو دیکھنے کے بعد حقیقت جاننے کی کوشش ذرا کم ہی کی جاتی ہے۔لاکھوں کی تعداد میں مریضوں کو ویکسین لگانے اور اس کے بے ضرر ہونے کی بھرپور تسلی کے بعد ہی اس کے استعمال کی منظوری دی گئی ہے،جب کہ جانچ کے تمام مراحل میں کسی بھی موقعے پر اسے ناقابل تلافی مضر اثرات پیدا کرنے کا باعث نہیں پایا گیا۔

ایک تصور یہ بھی عام ہے کہ معالجین زبردستی لوگوں کی ویکسینیشن کرنا چاہتے ہیں۔معالجین کا کام آگاہی فراہم کرکے اُنھیں ویکسین کے لئے آمادہ کرنا ہے،نہ کہ زبردستی ویکسینیشن کرنا۔معالجین کی پہلی ترجیح مریضوں کی جان بچانا ہے،لہٰذا اُن پر اعتماد کیا جائے۔
ایک ایسے وقت میں کہ جب ہمارے ملک میں کووڈ۔19 کی ویکسین کا پہلا مرحلہ جاری ہے،یہ بحث کرنا کہ کورونا وائرس کی ویکسین حلال ہے یا حرام؟درست نہیں۔

یاد رکھیے،کسی بھی شے کو حرام یا حلال قرار دینا علمائے کرام کا کام ہے اور مستند علما نے کورونا وائرس کی ویکسین کا استعمال جائز قرار دیا ہے۔علاوہ ازیں یہ کہنا کہ ویکسینیشن کے ذریعے جسم کے اندر ایک مخصوص چپ (Chip) داخل کرکے لوگوں کو ٹریک کیاجا رہا ہے اور یہ عمل کسی عالمی سازش کا حصہ ہے تو یہ بھی سراسر من گھڑت اور بے بنیاد باتیں ہیں،جن سے ہمیں دور رہنا چاہیے۔

دنیا بھر کے خود مختار متعلقہ اداروں نے کورونا وائرس ویکسین کو منظور کیا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی چپ کی موجودگی نہیں پائی گئی۔ویسے بھی لوگوں کی نقل و حرکت معلوم کرنے کے کئی دیگر ذرائع موجود ہیں،جیسے موبائل فون اور واٹس ایپ وغیرہ۔بعض افراد ادویہ ساز کمپنیوں کو قابل بھروسا نہیں سمجھتے اور اس بنا پر ویکسین کے استعمال سے انکار کرتے ہیں۔

ان معروف کمپنیوں نے شب و روز تحقیق کے بعد متعدد ادویہ بھی متعارف کروائی ہیں،جو برسوں سے مسلسل استعمال کی جا رہی ہیں،لہٰذا یہ کہنا کہ ویکسین تیار کرنے کا بنیادی مقصد عالمی سازش کا حصہ بننا ہے،بالکل غلط ہے۔
بعض افراد اس شبہے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ چونکہ ویکسین کم عرصے میں تیار کی گئی ہے،لہٰذا یہ کووڈ۔19 سے بچاؤ کے لئے غیر موٴثر ثابت ہو سکتی ہے۔

دراصل کم عرصے میں ویکسین بننے اور منظور ہونے کی وجہ یہ تھی کہ عالمی سطح پر اس وبا سے نمٹنے کے لئے دنیا بھر کے سائنس دانوں نے غیر معمولی رفتار سے کام کیا اور کئی برسوں کاکام مہینوں میں مکمل کر لیا۔اس کے ساتھ لائسنس جاری کرنے والے اداروں نے بھی اس وبا کے تیز پھیلاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے تیز رفتاری سے منظوری کے تمام مراحل مکمل کیے ہیں۔

بعض افراد کا یہ خیال ہے کہ جب کورونا وائرس سے بیش تر افراد صحت یاب ہو ہی جاتے ہیں تو پھر ویکسین کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن یہ حقیقت کیسے جھٹلائی جا سکتی ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد کورونا وائرس کی وجہ سے لقمہ اجل بھی بنے اور لاکھوں اس وائرس کے لاحق ہونے کے نتیجے میں شدید قسم کی پیچیدگیوں کا شکار بھی ہوئے ہیں ۔یاد رکھیے ویکسین کے معمولی اور وقتی مضر اثرات،جان جانے یا مختلف پیچیدگیاں لاحق ہونے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔

ایک مخصوص حلقے کا کہنا ہے کہ ہمیں معاشرے میں قدرتی طور پرقوت مدافعت پیدا ہونے کا انتظار کرنا چاہیے،لیکن اس طرح کی قوت مدافعت تب ہی پیدا ہو سکتی ہے،جب عوام کی اکثریت کورونا وائرس کا شکار ہو چکی ہو۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں اور لاکھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں،جب کہ قدرتی قوت مدافعت پیدا کرنے کے لئے اس سے بھی زیادہ افراد کے متاثر ہونے اور موت کے منہ میں جانے کا خدشہ ہے،جو تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

اس ضمن میں اپنی قوت مدافعت مضبوط کرنے پر دھیان دیا جائے،جس کے لئے مناسب آرام، باقاعدگی سے ورزش اور متوازن غذائیں کھانا ضروری ہے،جب کہ تمباکو نوشی اور دیگر نشہ آور اشیاء سے اجتناب بھی لازمی ہے۔
پاکستان میں کورونا ویکسینیشن کے ضمن میں ایک مربوط اور منظم نظام ناگزیر ہے،جو سیاست،علاقائیت اور ذاتی مفادات سے مکمل طور پر بالاتر ہو اور قومی ہم آہنگی کا آئینہ دار ہو۔

چونکہ کووڈ۔19 ویکسین اس وبائی مرض سے بچاؤ کے لئے اللہ کی رحمت و کرم کے بعد اُمید کی واحد کرن ہے،اس لئے حکومت عام افراد تک اس کی رسائی سہل بنانے کے لئے بہترین حکمت عملی مرتب کرے۔ویکسینیشن سینٹروں پر ہجوم، بے قاعدگی اور اقربا پروری جیسے ناخوش گوار واقعات بھی رونما ہو سکتے ہیں،جنھیں روکنا بہرحال مرکزی و صوبائی حکومتوں کا اولین فرض ہے۔

حکومت پر یہ ذمے داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ میڈیا کے ذریعے ویکسینیشن کی افادیت سے متعلق معلومات عام کرنے کے ساتھ عوام میں پائے جانے والے شبہات کو بھی دور کرے۔علاوہ ازیں قابل بھروسا،تجربہ کار اور سینئر ڈاکٹر بھی اپنے طور پر عوام کو مثبت پیغام دیں۔عوام کے تحفظات دور کرنے کے لئے ایک ہیلپ لائن قائم کی جائے اور اس ضمن میں حکومت کے ساتھ نیم سرکاری اور نجی اداروں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
تاریخ اشاعت: 2021-05-25

Your Thoughts and Comments