بند کریں
صحت مضامینمضامین دالوں سے صحت

مزید مضامین

- مزید مضامین
دالوں سے صحت
قدیم زمانے میں مصر کے مقبروں میں بھی دالیں پائی گئی ہیں ،یعنی مُردے کو دفناتے وقت قبر میں دال بھی رکھی جاتی تھی ۔

محمد عثمان حمید
دالیں دنیا کے تقریباً تمام خطّوں میں کاشت کی جاتی ہیں۔انھیں غذاؤں میں اہم مقام حاصل ہے۔ جہاں لوگوں کی اکثریت سبزی خور ہے ،وہاں غذا کا بڑا حصہ اناج اور دالوں پر مشتمل ہے ۔
اقوام متحدہ نے 2016ء کو دنیا میں سب سے زیادہ بکنے والی ڈش”دال“سے منسوب کیا تھا ،یعنی ۲۰۱۶ء کو دال کا برس قرار دیا گیا تھا،جس کا مقصد دنیا بھر میں دالوں کی غذائی اہمیت اور افادیت کا شعور اُجا گر کرنا تھا ۔دالوں میں پائی جانے والی لحمیات (پروٹینز)صحت وتندرستی کی ضامن ہیں ،اسی لیے انھیں گوشت کا درجہ حاصل ہے ۔
دنیا کے کچھ ممالک میں دالوں کو خوش نصیبی کی علامت سمجھاجاتا ہے ۔اطالوی روایات کے مطابق نیا برس دال اور مسالے دار قیمہ بھری آنت SAUSAGE))کھاکر منایا جاتا ہے ۔دال چوں کہ سکّوں کی طرح گول ہوتی ہے ،اس لیے اسے دولت کی فراوانی کی علامت اور قیمہ بھری آنت کوکام یابی اور خوش حالی کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔اسی طرح جنوبی امریکا میں دال ،چاول اور گوشت کے پکوان سے نئے برس کا آغاز کیا جاتا ہے ۔
قدیم زمانے میں مصر کے مقبروں میں بھی دالیں پائی گئی ہیں ،یعنی مُردے کو دفناتے وقت قبر میں دال بھی رکھی جاتی تھی ۔اٹھارویں صدی میں فرانسیسی شہنشاہ لوئی پنج دہم کی ملکہ ماریہ نے شاہی دستر خوان پر مسور کی دال کو فوقیت دی اوروہ ”ملکہ دال“کہلائی۔شاید یہ وہی مسور کی دال ہے ،جسے ہم آپ ملکہ مسور کہتے ہیں ۔مسور کی دال دل پر اچھے اثرات مرتّب کرتی ہے اور آنکھ سے پانی کے اخراج کو بھی کم کرتی ہے۔ صرف مسور کی دال ہی نہیں ،بلکہ ہر قسم کی دالیں بہت سی بیماریوں کے علاج میں بھی کام آتی ہیں ۔
امریکا کے بعض علاقوں میں ہر برس بڑی دھوم دھام سے دال کا میلا منایا جاتا ہے ۔اس میلے کی تیاری پورے برس ہوتی رہتی ہے اور ہفتے بھردالوں کے گن گائے جاتے ہیں ۔اس میلے میں نہ صرف صارفین ،بلکہ کاشت کار اور دال بیچنے والے بھی شرکت کرتے ہیں ۔میلے میں مختلف اقسام کی دالوں کی دکانیں بھی ہوتی ہیں ۔
ان میں مختلف قسم کی دالوں سے بنے ہوئے پکوان بھی سجائے جاتے ہیں ۔بچوں کے لیے دال سے بنے ہوئے پکوان اور دال کے کباب وغیرہ بھی ہوتے ہیں ۔ان پکوانوں میں دال کی رانی اور راجا کا انتخاب بھی ہوتا ہے ۔غرض دال کا یہ میلہ بہت پُر رونق ،دلچسپ اور انوکھا ہوتا ہے اور وہاں کے لوگوں کے لیے تفریح کا بھرپور سامان بھی ۔
تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دالیں ریشہ (فائبر)،لحمیات (پروٹینز)اور معدنیات(منرلز)کی وجہ سے دل کی صحت کے لیے بہت مفید ہیں ۔دالوں میں فولیٹ اور میگنیز ےئم پائے جاتے ہیں ۔میگنیزےئم کی کمی سے دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔دالیں باقاعدہ کھانے سے یہ کمی دور کی جا سکتی ہے ۔دالوں میں موجود ریشے کی وجہ سے خون میں کولیسٹرول کی سطح کم ہوجاتی ہے ۔کولیسٹرول اگر بڑھتا جائے تو دل کی طرف جانے والی خون کی نالیوں کی دیواروں میں جمع ہوکر ان نالیوں کو بند کر سکتا ہے ،جس کی وجہ سے حملہ قلب بھی ہوسکتا ہے ۔
غذائیت
زیادہ گوشت کھانا آنتوں کی صحت کے لیے مضرہے ۔اس سے آنتوں کے سرطان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔پھل ،سبزیاں اور دالیں کھانے سے آنتوں کی صحت بہتررہتی ہے اور ان میں سرطان کے ہونے کاخطرہ کم ہوجاتا ہے ۔دالیں کھانے سے قبض کی شکایت بھی دور ہوجاتی ہے ۔یہ فوائد حاصل کرنے کے لیے ہفتے میں دوبار دال کھانی چاہیے۔دالیں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ہیں ،کیوں کہ ریشہ ہونے کی وجہ سے دال کھانے سے مریضوں کے خون میں شکر کی سطح میں اضافہ نہیں ہوتا۔دال چاول سب کی پسندیدہ غذا ہے ۔
دال کا سُوپ بھی بنایا جاسکتا ہے ۔یہ سُوپ بہت مزے دار ہوتا ہے ۔تمام لوگ اسے بہ آسانی بنا سکتے ہیں ۔دال دھو کر اس میں پانی ،نمک ومرچ اور ہلدی ملا کر پکائیں ۔ادرک اور لہسن کا تھوڑا ساپیسٹ (لگدی )بھی شامل کردیں ۔ایک ٹماٹر کاٹ کر ڈال دیں ۔جب دا ل نرم ہوجائے تو اسے خوب گھوٹ لیں ۔گھر میں عام طور پر پکنے والی دال سے اس کو زیادہ پتلا رکھنا ہوگا۔
دالوں میں فولاد بھی ہوتا ہے ۔فولاد سے خون کے سرخ خلیے بنتے ہیں اور اگر فولاد کی کمی ہوتو جسم میں خون کی کمی ہوجاتی ہے ۔جسم میں فولاد کم ہونے سے خون کی کمی کی بیماری لاحق ہوجاتی ہے ۔خون کے سرخ خلیے اوکسی جن کی سپلائی کاکام کرتے ہیں اور اگر ان کی کمی ہوتو مریض میں تھکن کی شکایت ہوسکتی ہے ۔دال اس کا بہترین علاج ہے۔دالوں میں فولیٹ ہوتا ہے ۔
حاملہ خواتین کے فولیٹ کی کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچوں میں جسمانی خرابیاں پیداہوجاتی ہیں ۔ان میں سے ایک بیماری ”نیورل ٹیوب ڈیفیکٹ“(NEURAL TUBE DEFECT)ہے ،جسے میں بچے کی ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچتا ہے ۔اس بیماری کے شکار بچے تمام زندگی کے لیے معذور ہوجاتے ہیں ۔
بہترین غذا
دالوں کو اپنی غذاؤں کا باقاعدہ حصہ بنائیں ،کیوں کہ ان میں کئی ضروری حیاتین (وٹامنز)اور نمکیات موجود ہوتے ہیں ۔ان سے لحمیات حاصل ہوتی ہیں اور چکنائیاں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں ۔ایک پیالی پکی ہوئی دال میں صرف ۲۳۰حرارے (کیلوریز)ہوتے ہیں ۔کینیڈا میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق دالوں کا کھانا بلڈ پریشر کو خطر ناک حد تک بڑھنے سے روکتا ہے ۔ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ دالیں خون کو صاف کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔کئی دالیں فولاد کا خزانہ ہیں ۔ایک پلیٹ دال روزانہ کھانے سے ۳۷فی صد فولاد حاصل ہوتا ہے ۔دالوں کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمارے پٹّھوں کو مضبوط کرتی ہیں ۔
وزن کم کرنے میں مددگار
تحقیق سے پتا چلا ہے کہ روزانہ پھلیاں ،مٹر چنے اور دالیں کھانے سے نہ صرف وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے،بلکہ یہ وزن دوبارہ بڑھنے سے روکنے میں بھی مددگار ہیں ،یعنی غذا اور جسمانی سرگرمیوں کے معمول میں کوئی تبدیلی کیے بغیر بھی آپ روزانہ کی بنیاد پر لو بیے کی پھلیاں ،چنے ومٹر اور دالیں کھا کر دبلے پتلے ہوسکتے ہیں۔
ایک تحقیق مضمون سے معلوم ہوا ہے کہ ایک دن میں صرف ۱۳۰گرام دالیں کھا کر وزن میں کمی کی جا سکتی ہے ۔دال کھانے سے پیٹ زیادہ بھرا ہوا محسو س ہوتا ہے ۔یہ خراب کولیسٹرول کی سطح کوکم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتی ہے ۔یہ مضمون ایک تحقیقی جائزے پر مشتمل ہے ،جس میں تحقیق کاروں نے ۹۰۰ مردوں اور عورتوں پر مشتمل ۲۱طبّی جائزوں کا تجزیہ کیا ،جس میں شرکانے روزانہ کی بنیاد پر صرف ایک مرتبہ دالیں اپنی غذا میں شامل کرکے چھے ہفتوں کے دوران ۷۵پونڈ کی اوسط سے وزن کم کیا تھا۔نتائج سے واضح تھا کہ انھوں نے اس دوران دیگر کھانے پینے کی اشیا سے اجتناب کی کوشش کیے بغیر اپنا وزن کم کیا۔
سینٹ مائیکلز نامی اسپتال میں کی گئی ایک دوسری تحقیق کے مطابق دالوں کے فوائد کو جانتے ہوئے کینیڈا
کے ۱۳فی صد شہری ہر روز خشک پھلیوں اور دالوں کو اپنے کھانوں میں شامل کرتے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں کم وزن کے ممکنہ فوائد کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی غذا میں دالوں اور پھلیوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے ۔انھوں نے مزید کہا کہ پھلیاں اور دالیں ایک خاص انڈیکس پر کم درجے کی غذا ہیں ،جس کا مطلب ہے کہ یہ ٹوٹنے کے بعد توانائی میں تبدیل ہو کر خون میں رفتہ رفتہ شامل ہوتی ہیں ،جس سے غذا میں شکر کی سطح بلند نہیں ہوتی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے