بند کریں
صحت مضامینمضامینذیا بیطس کی اقسام

مزید مضامین

- مزید مضامین
ذیا بیطس کی اقسام
طبّی ماہرین کی ایک جماعت کے مطابق ذیابیطس کسی ایک علامت یا بیماری کا نام نہیں بلکہ یہ کئی ایک علامات اور عوارض کے مجموعے کا نام ہے ، جو غذائی ردِعمل کے طور پر سامنے آتا ہے ۔ یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے

ذیا بیطس کی ان اقسام کے متعلق آپ کتنا جانتے ہیں؟
ذیا بیطس کا شمار موجودہ دور کے خطرناک اور تکلیف وہ امراض میں ہوتا ہے۔ لوگ اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے کڑوی اشیا کا بڑی وافر مقدار میں استعمال کرتے ہیں۔ عوام الناس شاید یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ تلخی اور کڑواہٹ مٹھاس کی ضد ہے یوں کڑوی چیزیں کھانے سے ذیابیطس کا خاتمہ ہوجائے گا۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ طبّی ماہرین کی ایک جماعت کے مطابق ذیابیطس کسی ایک علامت یا بیماری کا نام نہیں بلکہ یہ کئی ایک علامات اور عوارض کے مجموعے کا نام ہے ، جو غذائی ردِعمل کے طور پر سامنے آتا ہے ۔ یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر ذیا بیطس کے مریض اپنے معمولات زندگی اور روزمرہ غذاؤں میں ردّوبدل کرلیں تو وہ کافی حد تک اس کے مضر اثرات اور مہلک کیفیات سے محفوظ رہنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ نیچرو پیتھی کی رو سے عام طور پر دذیابیطس کی پانچ اقسام ہیں۔
معوی ذیا بیطس:انتڑیوں کی کارکردگی میں خرابی واقع ہوجانے سے بھی ذیابیطس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ اگر ابتدائی طور پر اس خرابی کو دور کردیا جائے تو ذیابیطس کی علامات بھی خو د بخود ختم ہوجایا کرتی ہیں۔ انتڑیوں کی سوزشم انتڑیوں کی حرکات دودیہ میں نقص واقع ہونا انتڑیوں میں زہریلی گیسوں کا ٹھہر جانا اور خشکی کی تہہ بن جانا وغیرہ شامل ہیں۔انتڑیوں میں فاضل مادوں کے زیادہ دیر تک رکے رہنے کی وجہ سے تعفن پیدا ہوجاتا ہے۔ اجابت کھل کرنہیں ہوتی۔ مریض پیٹ میں بھاری پن اور بوجھ سا محسوس کرتا ہے دن میں کئی بار رفع حاجت کی خواہش تو ہوتی ہے مگر فراخت نہیں ہوپاتی اکثر اوقات امراض امعا میں مبتلا افراد کو چھوٹا پیشاب باربار آنے لگتا ہے اور ہر بار پاخانہ بھی قلیل مقدار میں کارج ہوتا رہتا ہے۔ انتڑیوں کی خرابی کی سب سے بری وجہ ثقیل، نفاخ اور دیر ہضم غذاؤں کا بے دریغ اور تواتر سے استعمال ہے۔ انتڑیوں کی خرابی سے پیدا ہونے والی ذیابیطس کو معوی شوگر ج کا نام دیا جاتا ہے۔
معدی ذیا بیطس:بعض اوقات معدے کی خرابی کے باعث ذیابیطس کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں جسے معدی ذیابیطس کہا جاتا ہے۔ ذیا بیطس کے مریضوں میں سے اکثریت کو کھانے کی طلب باربار ہوتی ہے اور یوں مریض اور معالج یہ سمجھ لیتے ہیں کہ معدہ اپنا فعل درست طریقے سے سرانجام دے رہا ہے حالانکہ یہ نظریہ درست نہیں ہے بلکہ علم طب کی رو سے بار بار کھانے کی طلب اور وقت بے وقت بھوک کی شدت کا احساس ہونا الگ سے باریک بیماری ہے جسے جوع ابقر کا نام دیا جاتا ہے ، اگر ہم مرض کی نوعیت کے مطابق دوا دیں اور مریض کے معدے کی اصلاح کریں تو انشاء اللہ معدی ذیا بیطس کی علامات کا خاتمہ ہوجائے گا۔
کبدی ذیابیطس:کبد جگر کا دوسرا نام ہے لہٰذا ایسے افراد جو کافی عرصے تک جگری امراض میں مبتلا رہتے ہیں بعض اوقات ذیابیطس کی علامات انہیں بھی تنگ کرنے لگتی ہیں۔ اگر امراض جگر کے علاج پر توجہ دی جائے تو مریض ذیابیطس کے چنگل سے چھٹکارا پانے میں بھی کامیاب ہوجاتا ہے۔ عام طور پر امراض جگر میں غلبہ صفرا اور سودا، جگر کے سدے، جگر کی سوزش وغیرہ شامل ہیں۔
دماغی ذیا بیطس:ایسے افراد جو ذہنی دباؤ کے ماحول میں کام کرتے ہیں یاکسی بھی ذہنی تناؤ کا شکار ہوتے ہیں ان میں ذیا بیطس کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں ایسی ذیابیطس کو دماغی کہاجاتا ہے علاوہ ازیں ذہنی امراض کے نتیجے میں حملہ آور ہونے والی ذیابیطس کوبھی برین شوگر کہا جاتا ہے دماغی ذیابیطس کا رجحان ایسے افراد میں زیادہ پایا جاتا ہے جو بات پے بات ٹینشن ، ڈپریشن، اور ذہنی اضطراب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
جنرل ذیا بیطس: عام حملہ آور ہونے والی ذیا بیطس لبلبہ کے فعل میں خرابی پیدا ہونے سے واقع ہوتی ہے۔ لبلبہ ایک ایسا غدود ہے جو جسم میں انسولین کی مطلوبہ ضرورت پوری کرتا ہے چکنائیوں کے بے دریغ استعمال سے اس کے فعل میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے چونکہ بدن انسانی میں شوگر لیول کو قابو میں رکھنا انسولین کا کام ہے لہٰذا انسولین کی کمی یازیادتی سے شوگر لیول متاثر ہو جاتا ہے ۔ یاد رہے بانقراس کے فعل میں خرابی غیر معیاری خوراک ، سہل پسندی اور دیگر ماحولیاتی عناصر سے پیدا ہوتی ہے۔ لبلبے کی خرابی سے حملہ آور ہونے والی ذیا بیطس کو بانقراسی یا جنرل ذیا بیطس کہا جا تا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے