بند کریں
صحت مضامینمضامیندیرینہ کھانسی

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
دیرینہ کھانسی
ابتدائی مرحلے میں علاج کرلینا بہتر ہے
سلمان افضل :
گلے کی خرابی، حلق کی سوزش، سانس کی نالی میں کسی قسم کے انفکشن کاجنم لینایا پھیپھڑوں کی خرابی، کھانسی کا سبب بنتی ہے۔ کھانسی کامئوثر علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ خطرناک شکل اختیار کرسکتی ہے۔ کھانسی چند روزہ ہویاکہنہ، برونگائیٹس کی شکل اختیار کی چکی ہویاخشک اور شدید ہو، اس کاتعلق نظام تنفس کی گوناگوں بیماریوں سے ہوتاہے، ان کے طبی علاج کے ساتھ ساتھ چند سادہ اور گھویلو نسخے بھی بہت کارآمدثابت ہوتے ہیں۔ شدیدکھانسی عموماََ لگ بھگ تین ہفتے رہتی ہے۔ کھانسی کی چند دیگر اقسام ٹھیک ہونے میں کبھی کبھی کافی وقت لے لیتی ہیں تاہم کھانسی کسی بھی نوعیت کی ہواس کاتعلق نظام تنفس میں پیداہونے والے کسی نقص سے ضرورہوتاہے۔ کھانسی کامئوثر علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔ پھیپھڑوں کی مخصوص نالیوں میں مسلسل نقص رہنے کی صورت میں برونکائیٹس کاعارضہ جنم لیتا ہے اور ابتدائی مرحلے میں مریض کوخشک کھانسی کاسامنا ہوتاہے۔ اگراس مرحلے پرصحیح علاج نہ ہوسکے تو پھیپھڑوں کی نالیوں میں بلغم جمع ہوناشروع ہوجاتاہے۔ اس طرح پھیپھڑے اپنانارمل فنکشن انجام نہیں دے پاتے۔
موسم اور احتیاط:
سانس کی تکلیف یادائمی کھانسی میں مبتلا مریضوں کوسردیوں اور بہارکے موسم کے آغاز سے پہلے ہی بہت محتاط ہوجاناچاہیے کیونکہ پھیپھڑوں کی نالیوں میں جمع ہونے والی بلغم نزلے زکام کے جراثیموں کی آماجگاہ بن جاتی ہے جہاں وہ تیزی سے نشوونما پاتے ہیں۔ یہ بلغم کبھی کبھی شدید کھانسی کی صورت میں بھی باہرنہیں نکلتی، نالیوں کوجکڑے رکھتی ہے اور اکثر پھیپھڑوں کے مہلک انفکشن کاسبب بنتی ہے۔
برونکائیٹس سے بچاؤ کے طریقے :
ہوامیں نمی کامناسب تناسب سانس کی بیماریوں اور کھانسی وغیرہ سے بچنے کے لیے نہایت ضرورہے۔ اس سلسلے میں سونے کے کمرے میں ہوامیں نمی کاتناسب 45سے 60فیصد کے درمیان ہوناچاہیے۔ جڑی بوٹیوں سے تیارکردہ چائے اور دائمی کھانسی کے علاج اور پھیپھڑوں کی نالیوں کوکھولنے کے عمل میں بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔
کھانسی کے خلاف دیسی نسخے:
کھانسی کازور توڑنے کے لیے حلق کوخشکی سے بچانا نہایت ضرورہوتاہے، اس لیے کھانسی کی شدت سے بچنے اور گلے کی سوزش دورکرنے کے لیے جڑی بوٹیوں سے تیارکردہ گولیاں چوستے رہناچاہیے۔ سینے پر ہنس کی چربی ملنے سے کھانسی میں بہت آرام آتاہے اور اس کی گرمی پھیپھڑوں کی نالیوں میں جمع بلغم کو صاف کرنے میں بھی بہت مدد دیتی ہے۔ لیموں کے عرق سے تولیے کوترکرکے سینے کولپیٹنے سے بھی کھانسی میں آرام آتاہے۔ گرم دودھ میں شہد ملاکرپینے سے پھیپھڑوں سے بلغم صاف ہوجاتاہے۔ نمک کے پانی سے غرارے کرنے اور نم کے گرم پانی کابھاپ لینے ناک اور گلے کی سوزش میں کمی آتی ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے