بند کریں
صحت مضامینمضامیندانتوں کی چمک واپس لانے والے چند قدرتی نسخے

مزید مضامین

- مزید مضامین
دانتوں کی چمک واپس لانے والے چند قدرتی نسخے
جگمگاتے دانت کس کو پسند نہیں اور ان پر زردی چہرے کو بدنما کرنے کا باعث بن جاتی ہے ۔ یقینا آپ دن میں ایک یا دوبار دانتوں پر برش کرتے ہوں گے تاکہ وہ صاف رہ سکیں مگر پھر بھی قدرتی سفیدی واپس نہیں آتی ؟
جگمگاتے دانت کس کو پسند نہیں اور ان پر زردی چہرے کو بدنما کرنے کا باعث بن جاتی ہے ۔ یقینا آپ دن میں ایک یا دوبار دانتوں پر برش کرتے ہوں گے تاکہ وہ صاف رہ سکیں مگر پھر بھی قدرتی سفیدی واپس نہیں آتی ؟ ڈان کے مطابق اگرایسا ہے توامریکن اکیڈمی آف کاسمیٹک ڈیینٹسٹری کی بتائی ہوئی چند عام چیزیں آپ کی مسکراہٹ کو روشن کرسکتی ہیں یایوں کہہ لیں دانتوں کو جگمگاسکتی ہیں ۔
بیکنگ سوڈا اور لیموں کے عرق کاپیسٹ :
کیا لیموں آپ کے دانتوں کو جگمگا سکتا ہے ؟ اس کامختصر جواب ہے کہ ہاں۔ لیموں میں سیٹرک ایسڈ کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جودانتوں کی صفائی کے لیے قدرتی جزکاکام کرسکتا ہے ، ایک چائے کے چمچ لیموں کے عرق کو بیکنگ سوڈا کی مناسب مقدار میں مکس کرکے ایک پیسٹ بنالیں اور اس سے برش کر لیں ۔
کوئلہ :
اگر آپ بہت جلدی میں دانتوں کو سفید بناناچاہتے ہیں تو کوئلہ ایک اور مئوثر اور قدرتی متبادل ثابت ہوسکتا ہے ، کوئلے کا برادہ آکسیجن اور کیلشیئم کلورائیڈ کے باہمی تعامل سے بنتا ہے اور یہ دانتوں کی مئوثر صفائی میں مددگار ثابت ہوتا ہے ، ا س برادے میں ٹوتھ برش کورگڑلیں اور پھر دانتوں پر معمول کے مطابق برش کرکے دانتوں کے داغ دھبے صاف کرلیں ۔
مالٹے کا چھلکا:
دانتوں پر مالٹے کے چھلکے کانچلا حصہ رگڑناانہیں جگمگانے کاقدرتی طریقہ ہے ، چھلکے کاسفید حصہ ایک جز سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ صفائی کاکام کرتا ہے اور اس متعدد دانتوں کی صفائی کے لیے تیار ہونے والی مصنوعات میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اور ہاں یہ چھلکا تیزابی نہیں ہوتا اس لیے اس کااستعمال نقصان دہ ثابت نہیں ہوتا۔
سیب کاسرکہ :
سیب کاسرکہ متعدد طبی فوائد کاحامل ہے مگربیشتر افراد کو علم نہیں کہ اسے دانتوں کی سفیدی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ ایک چائے کے چمچ سیب کے سرکے سے دانتوں پر برش کرکے دیکھیں ، یہ داغوں کو صاف کرنے میں مدددیتا ہے جبکہ اس کے غرارے سانسوں کومہگا کرمسوڑوں پر موجود بیکٹیریا کو ختم کرتے ہیں ۔
سمندری نمک اور بیکنگ سوڈا :
بیکنگ سوڈا تو ہرگھر میں ہوتا ہے اور یہ دانتوں کی صفائی کے لیے ایک قدرتی ٹوٹکا بھی سمجھاجاتا ہے مگر اس میں سمندری نمک کااضافہ سوڈے کو جراثیم کش بنادیتا ہے جو منہ میں موجود تیزابیت کوختم کرکے بیکٹیریا مارتا ہے ۔
ہلدی :
ہلدی کواگر آپ کھانوں میں ہی استعمال کرتے ہیں تو جان لیں کہ ورم کش، جراثیم کش ہونے کے ساتھ ساتھ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور یہ مصالحہ عام دانتوں کے مسائل جیسے مسوڑوں کے امراض کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے ، اس کاپاؤڈر دانتوں کے ریگ مال کا کام کرے سطح پر داغوں کو ختم کرکے انہیں سفید کرتا ہے ۔ ایک چائے کے چمچ ہلدی کو انگلی کی مدد سے دانتوں پر پھیریں اور پھر برش کرکے صاف کرلیں ۔
ناریل کاتیل :
ناریل کے تیل کے منہ میں چند منٹ تک رکھ کرکلی کریں جیسے ماؤتھ واش کواستعمال کیاجاتا ہے ، اس تیل میں قدرتی طور پر دانتوں کوجگمگانے کی صلاحیت ہوتی ہے اور یہ دانتوں پر جمنے والے جراثیموں کو بھی کم کر کے مسوڑوں کے امراض کاخطرہ کم کرتاہے ۔

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان